(🇮🇳 کیا ہم ہند میں آزاد ہیں؟ ⚖️)
گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻
ہندوستان کی آزادی کے بعد سے اب تک ہندوستان کے لوگ یوم آزادی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔
وہ سب ان تقریبات میں شرکت کرتے ہیں، خوشی اور مسرت کے ساتھ پرچم لہراتے ہیں، اور اپنے بچوں اور عام لوگوں میں مٹھائیاں بانٹتے ہیں۔
وہ مجاہدین آزادی کو یاد کرتے ہیں، انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اور وہ ان کی کاوشوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
لیکن ان تمام باتوں کےباوجود ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا ہم ہندوستان میں آزاد ہیں؟
ہندوستان کے لوگ ان گنت مشکلات سے دوچار ہیں۔
مرکزی حکومت اور اس کے کارکنان غریبوں، ضرورت مندوں اور عام لوگوں کو ہر طرح سے ظلم وستم کانشانہ بناتے ہیں۔
وہ زمین خدا کو اپنی پوری وسعت کےباوجود اس کے بندوں پر تنگ کرنا چاہتے ہیں۔
وہ لوگوں کو اکیلے، عوامی سڑک پر، ٹرین پر، اور جہاں کہیں بھی ملتے ہیں، مار ڈالتے ہیں۔
ان کے گھروں اور مساجد کو گرا دیتے ہیں۔
وہ ٹیلی ویژن پر جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں۔
وہ مسلمانوں اور کمزوروں پر جبرا خودساختہ قوانین مسلط کرتے ہیں۔
وہ غریبوں، شہزادوں، مسلمانوں اور کافروں میں فرق کرتے ہیں۔
وہ مسلمانوں کو اسلام پر عمل کرنے اور مساجد میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کوکفر کی طرف لوٹا دیں اور دین واسلام کو چھوڑے ،دن رات، صبح و شام یہی کوشش رہتی ہے۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
بتاؤ! میرے ذہن میں جو سوال آتا ہے، کیا یہ سچ نہیں ہے؟ یہ سچ ہے۔ کیا ہم ہندوستان میں آزاد ہیں؟
کیا یہ وہی ہندوستان ہے جس کے لیے جنگ آزادی لڑی گئی تھی؟
کیا یہ اس خواب کا اظہار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے دیکھا تھا؟
تو بتاؤ!
ہم یوم آزادی کیسے منائیں؟
ہم کس طرح خوشی کا اظہار کریں جب کہ دل اندر سوز دروں کا شکار اور چیخ رہا ہے؟
اس لیے ہندوستان کی تہذیبی شناخت مٹ رہی ہے، اتحاد ٹوٹ رہا ہے، محبت نفرت میں بدل رہی ہے، ہندوستان کی خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے، اور ہندوستان پوری دنیا میں بے ہرزہ سرائی ہوتی ہے۔ شریر لوگ حکومت کی توہین کرنے والوں کو گرفتار کرتے ہیں۔
وہ ریاست اور اس کی املاک کو برباد کر رہے ہیں۔
ماحاصل
ہم ہندوستان میں آزادی کے باوجود آزاد نہیں ہیں۔
کیونکہ ہماری جان، ہمارا مال، ہمارا گھر، ہماری مسجدیں اور ہماری قبریں غیر محفوظ ہیں۔
اصل آزادی تب ہی ہوگی جب ہم یہاں پر ہرطرح کے خطرات سے خود کو مامون و محفوظ سمجھیں گے-
اس کےلیے ہم سب کو بلا تفریق مذہب جہدوجہد کرنی ہوگی تب ہی جاکر ہم اپنے اکابر واسلاف اور مجاہدین کے خواب شرمندۂ تعبیر کرپائیں گے