(39)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
. ایم آئی ایم: اتحاد کی پکار یا خودفریبی کا شور؟
__________
سیاست کے شور میں کبھی کبھی سچ کی آواز دب جاتی ہے،
لیکن جو دل حق سے روشن ہو — وہ خاموشی میں بھی حقیقت کو سن لیتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم آنکھیں بند کر کے کسی کے پیچھے نہ چلیں، بلکہ سچائی کو پہچاننے کی جرأت پیدا کریں۔
آج جو لوگ "ایم آئی ایم زندہ باد"یا مردہ باد"کے نعرے لگا رہے ہیں، اگر وہ واقعی دیانت کے علمبردار ہیں تو انہیں چاہیے کہ مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی صاحب کے ساتھ اکٹھے ہو کر اخترالایمان کو ایک مجلس میں بٹھائیں —
اور ان دونوں سے وضاحت کے ساتھ، با وضو قسم لے کر پوچھیں:
کیا واقعی ایک دوسرے کے اعتماد کے ساتھ غداری نہیں کی؟
کیا آپ نے پسِ پردہ فریب یا دوغلی سیاست نہیں کی؟
کیا آپ نے مولانا صاحب کو اپنے منصوبوں اور وعدوں کے ذریعے جھوٹی تسلیاں نہیں دیں؟
اگر یہ سوالات صداقت کے آئینے میں درست ثابت ہوں،
تو حق خود بخود ظاہر ہو جائے گا،
اور اگر نہیں — تو حقیقت دیر سے سہی مگر چھپ نہیں سکے گی۔
میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میری ایم آئی ایم سے محبت کسی اندھی تقلید یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں،
بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہی وہ جماعت ہے جس نے ایوانوں میں مظلوموں کی آواز بلند کی ہے،
اور جناب بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب کی جرأت مندانہ قیادت نے ملت کے مفادات کا دفاع کیا ہے۔
ورنہ یہ بھی سچ ہے کہ اس پارٹی میں غدار اور موقع پرست عناصر موجود ہیں،
اور اخترالایمان بھی بشر ہیں،مولانا بھی کوئی دودھ کے دھلے نہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست میں تقدیس نہیں، اصول ہوتے ہیں۔
لہٰذا اختلاف اگر ہے تو دلیل کے ساتھ ہو،
اور محبت اگر ہے تو سچائی کے ساتھ ہو۔
میں ذاتی طور پر ایم آئی ایم کے ساتھ ہوں،
لیکن میری وفاداری حق اور انصاف کے ساتھ مشروط ہے۔
میں انتشار نہیں چاہتا،
مگر یہ بھی نہیں چاہتا کہ سچ کو مصلحت کے پردے میں چھپا دیا جائے۔
وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو آئینہ بنائیں،
اور اپنی صفوں میں موجود فریب، مفاد پرستی اور خودغرضی کو بے نقاب کریں —
تاکہ جو راہ حق کی ہے، وہی سب کی راہ بنے،
اور امت انتشار سے نکل کر اعتماد و بصیرت کے سفر پر گامزن ہو۔
آؤ! سچائی کو سیاست کا زیور بنائیں،
شخصیتوں کے بجائے اصولوں سے وفاداری سیکھیں
کیونکہ جب قوم اپنے اندر کی سچائی کو پہچان لیتی ہے،
تو کوئی فریب، کوئی غدار اور کوئی جھوٹ اسے گمراہ نہیں کر سکتا۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com