بابری کی شہادت آئین ہند کی شکست
گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻
✍🏻بابری مسجد صرف ایک مسجد اور عمارت نہیں جس میں شیدائیان اپنے رب کی عبادت کرتے ہوں ،عشق ووفا کے نغمے گنگناتے ہوں بلکہ اس میں چھپے جذبات و احساسات ، تاریخی نکات، وحدت کی خوشبو،محبت کی سبو اور دیواروں کی مظلوم داستانیں ہیں جنہیں مرحلہ وار زخم دیاگیا ،جذباتی تشدد کیاگیا،سازشںوں کا جال بچھا کر ،اندھے قانوں کا سہارا لےکر جھوٹوں کا پلندہ ڈال کرانہیں مسمار کیا گیا اور نہ جانےکتںے طریقے سے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا-
صرف اس بنیاد پر کہ یہ اللہ کا گھر ہے اس میں اللہ کی عبادت ہوتی ہے اور اس میں لوگ آ کر کے اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اللہ کی یادوں سے ان جگہوں کو معطر کرتے ہیں اسی خوبی کی بنا پر ان کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اور ان کو خنجر اور نیزے سے گھائل کیا گیا اور ظلم و ستم کی حد یہ ہو گئی وہ سیاہ دن بھی آگیا کہ اس کا وجود اور اس کی ہستی کو ہی مٹا دیا گیا ہے -
آج عالم کفر میں شور بپا ہے،وہ نازاں وفرحاں ہیں کہ ہم نے تاریخ کی کتابوں میں عدل پرور لوگوں کے سامنے اپنے منھ پہ کالک پوت لیا ہے کہ میرے دست دراز نے خالق حقیقی کی گھر کوبے نام ونشاں کردیا،وہاں پہ وحدت کی گونج باقی نہ رہی اور معبودان باطل کی گوج شروع ہو گئی-
6دسمبر وہ سیاہ دن ہے جب ہندوستان کی امن وسلامتی ،محبت ومودت ،بھائی چارگی اورآئین ہند کو شدت پسند وانتہا پسند کی جانب سے خطرہ لاحق ہوا
،سرزمین ہند نے بھی یہ سمجھ لیا کہ اب میرا تعارف بدلنے والا ہے
پہلے میرا تعارف سونے کی چڑیا، محبت کی گڑیا ،امن وسلامتی کا گہوارہ تھا اب عکس ہونے والا ہے-
ہمارا عالم یہ ہے کہ ہم اس تاریخ کو نہیں جانتے اور نہ جاننے کی پوزیشن میں ہیں اور اگرکچھ جانتے بھی ہیں تو صرف معلومات کی حد تک
اس کی کرب والم ، درد تکلیف کااحساس نہیں کرتے -
آج یقینا دیار ہند کا تعارف بدل گیاہے ،امن کی جگہ بدامنی ،محبت کی جگہ نفرت،دولت کی جگہ غربت ،عدل کی جگہ ظلم نے لے لی ہے
اس بدلتے ہوۓ نقشے رقص کرتی ہوئی سوچ کو صرف اہل ہند ہی نہیں بلکہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے اور مذاق بھی بنارہی ہے
یہ احمق لوگ ملک ہندوستان کوتاریخ کے کس رخ پہ لےجارہاہے
آپ خود سوچیں! یہ کیا تھا کیا ہوگیا اور آئندہ کیا ہوگا
اس کے ذمہ دار چند سیاسی جماعت اور ہمنوا شدت پسند ہیں ،جہنون نے اپنے مفاد کی خاطر لوگوں کو گمراہ کیا، لوگوں کو جھوٹے قصے کے ذریعے اندھے کنویں میں ڈالنے کی کوشش کی-
اگر ملک اسی روش پہ چلتارہا تو ایک دن وہ بھی آۓ گا کہ ان خانہ جنگیوں سےہم اور ہمارا ملک تباہ ہوجاۓ گااوراس کا وجود ختم جاۓ گا چونکہ اندورنی نفرت وحسد سے ہرچیز کمزور ہوجاتی ہے،اور اس کا فائدہ غیروں کو ہوتاہے -
آئیے!
ہم نفرت کو ختم کریں ،باہمی معرکہ آرائی کو فروتر کریں ،مذہب ومسلک کی بوقلمونی کے باوجود اتحاد کے لیے مثال بنیں ،پرانی رنجشیں دور کرکے ملک اس کی عمارتوں کو ترقی دیں ،محبت بڑھاوا دیں ،نفرت کی چنگاری کو محبت چھینٹ سے بجھائیں -
باری تعالیٰ سب کو عقل سلیم عطا فرمائے
آمین ثم آمین