(مضمون) 6
بسم اللہ الرحمن الرحیم
_________________
از قلم محمودالباری. mahmoodulbari342@gmail.com 8292552391
---------------------
"ظالم حکمرانوں کا انجام اور مظلوموں کی تسلی"
_________________
الحمدللہ! الحمدللہ ربّ العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین۔
محترم قارئین ! اور عزیز نوجوانو! اور حق و انصاف کے متلاشی اہلِ ایمان!
آج ہم ایک ایسے موضوع پر گفتگو کرنے جا رہے ہیں جس نے صدیوں سے انسانیت کو ہلا کر رکھا ہے:
“آخر کب تک ظالم حکمران اور ان کے بھکت ظلم کرتے رہیں گے؟ اور مظلوموں کو تسلی کب ملے گی؟”
، قرآن کا پیغام: ظلم کی مذمت
قرآن کریم کی روشنی میں سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا۔
ارشاد ہے:
> "وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ"
(ابراہیم: 42)
ترجمہ: ہرگز یہ نہ سمجھو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے۔
ایک اور جگہ فرمایا:
> "إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ"
(آل عمران: 57)
یعنی اللہ کے ہاں ظالم کی کوئی عزت نہیں۔
یہ قرآن ہمیں یقین دلاتا ہے کہ ظالم کا انجام تباہی ہے اور مظلوم کی دعا کبھی ضائع نہیں جاتی۔
، انبیاء کے قصے: ظالموں کا عبرتناک انجام
، نمرود — خدائی کا دعویٰ کیا، ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا، مگر آگ گلزار بن گئی اور نمرود مچھر کے ہاتھوں ذلیل ہوا۔
، فرعون — سمندر پار کیا، غرور سے کہا “میں خدا ہوں!”، مگر موسیٰؑ کے ایک عصا نے اس کے لشکر سمیت دریا میں ڈبو دیا۔
، ابو جہل — اسلام کے دشمن، حضور ﷺ کو تکلیف دینے والے، مگر بدر کے میدان میں عبرتناک انجام کو پہنچے۔
، سبق یہ ہے:
دنیا کی کوئی طاقت، کوئی تخت و تاج، اللہ کے انصاف کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔
، صحابہ کرام کی مثالیں،
صحابہ نے ظلم سہا مگر جھکے نہیں۔
بلال حبشیؓ دہکتے کوئلوں پر لیٹے مگر پکار یہی تھی: “احد! احد!”
خباب بن الارتؓ کی پیٹھ پر آگ کے انگارے بجھے مگر ایمان بجھ نہ سکا۔
طائف کی گلیوں میں حضور ﷺ پر پتھر برسائے گئے، مگر دعا یہ تھی:
“اے اللہ! انہیں ہدایت دے، یہ نہیں جانتے۔”
یہ وہ کردار ہیں جو بتاتے ہیں کہ ظلم کے اندھیرے صبر، ایمان اور قربانی کے نور سے ختم ہوتے ہیں۔
، تاریخ گواہ ہے:
یزید نے ظلم کیا مگر کربلا نے اس کے غرور کو دفن کر دیا۔
حجاج بن یوسف نے خون بہایا مگر اس کا انجام ذلت و رسوائی تھا۔
دنیا کے بڑے بڑے ظالم بادشاہ اپنے انجام کو پہنچے۔
،ہر دور کی تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے:
“ظلم کی حکومت کبھی قائم نہیں رہتی۔”
، موجودہ حالات اور الیکشن کا فتنہ،
اے اہلِ ایمان اور ملک کے باشندو،!
آج پھر تاریخ دہرا رہی ہے۔ ظالم حکمران سمجھتے ہیں کہ ان کا اقتدار ہمیشہ ہے۔
وہ الیکشن جیتنے کے لیے دولت، جھوٹ، دھوکہ اور طاقت استعمال کرتے ہیں۔
کرسی پر بیٹھ کر رعایا کا حق کھاتے ہیں، عوام کا خون چوستے ہیں، اور پھر بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ "ہم جیت گئے!"
ہمارے معاشروں میں ایسے حکمران آتے ہیں جو:
اقتدار کے نشے میں عوام کو کچلتے ہیں۔
ووٹ خریدتے ہیں، دھاندلی کرتے ہیں۔
کرسی کو امانت نہیں بلکہ جاگیر سمجھتے ہیں۔
، یاد رکھو!
ووٹ اللہ کی دی ہوئی امانت ہے۔
نااہل کو ووٹ دینا بھی ظلم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے عوام کا حق ضائع ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔”
(بخاری)
لہٰذا! الیکشن صرف جیتنے کا کھیل نہیں، یہ عوام اور امت کی تقدیر کا فیصلہ ہے۔
اگر ہم ظالم، چور اور فاسد کو ووٹ دیں گے تو اس کے ظلم میں شریک ہوں گے۔
لیکن اگر ہم دیانتدار، نیک اور خوفِ خدا رکھنے والے لوگوں کو ووٹ دیں گے تو یہ عین عبادت ہوگی۔
ووٹ اللہ کی دی ہوئی امانت ہے۔
، ووٹ بیچنا یا غلط لوگوں کو دینا ایک بہت بڑا ظلم ہے۔
، اگر ہم نااہل اور ظالم کو ووٹ دیں گے تو ظلم میں شریک ہوں گے۔
یہ عوام پر بھی لازم ہے کہ ایسے نمائندے منتخب کریں جو دیانتدار، خوفِ خدا رکھنے والے اور عدل قائم کرنے والے ہوں۔
ورنہ انجام وہی ہوگا جو نمرود، فرعون اور ابو جہل کا ہوا۔
، اے میرے مخلص عوامو!
مایوس مت ہو، حوصلہ نہ ہارو!
ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ۔
. حق کے لیے ڈٹ جاؤ۔
فرقہ واریت کو مٹا کر اتحاد پیدا کرو۔
خاموشی ظلم کو طاقت دیتی ہے،
اور اتحاد ظلم کو توڑ دیتا ہے۔
نعرہ لگاؤ:
“ہم اللہ کے سپاہی ہیں!”
“ہم ناانصافی قبول نہیں کریں گے!”
“ظالمو! تمہارا وقت قریب ہے!”
یاد رکھو!
ہر نمرود گرتا ہے،
ہر فرعون ڈوبتا ہے،
ہر ابو جہل مرتا ہے!
ظلم کی رسی کٹنے والی ہے.
عدل کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔
اے اللہ!
ظالم حکمرانوں کو رسوا فرما۔
مظلوموں کی دعاؤں کو قبول فرما۔
ہمیں صبر، اتحاد اور قربانی کی توفیق دے۔
اس امت کو ابراہیمؑ کا ایمان، موسیٰؑ کی جرات، اور صحابہؓ کی استقامت عطا فرما۔
سن لو!
ظلم ختم ہوگا، عدل قائم ہوگا۔
ظالم گرے گا، حق جیتے گا۔
آمین یا رب العالمین۔