"ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں اللہ کے ذکر میں ٹھنڈک اور راحت ہے" 

جب ہم ذکرِ الٰہی کرتے ہیں یا اللہ کی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو اللہ کے ذکر سے ہمارے جسم میں سرد لہر دوڑتی ہے، کبھی کسی نے غور کیا ہے.. ؟
ہر تھوڑے وقفے پر اچانک تیزی سے ایک سرد لہر ریڑھ کی ہڈی میں گھستی ہوئی محسوس ہوتی ہے، سخت گرمی میں بھی ایسی سرد لہریں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، ٹھنڈی لہر، رونگٹے کھڑی کر دینے والی لہر، یہ ٹھنڈی لہریں کیوں محسوس ہوتی ہیں؟ کیونکہ اللہ کے ذکر میں
ٹھنڈک ہے۔
اور ایسا بھی ہوتا ہے جب بیان، نعت، نظم وغیرہ سنتے ہیں تو ہمیں نیند آنے لگتی ہے اور جب ناچ گانے سنتے ہیں تو فل جوش ہوتا ہے تب ہمیں نیند نہیں آتی کیونکہ تب ہم بے چین ہوتے ہیں۔ پر ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ چیزیں ہمارا سکون ہیں۔ یہ چیزیں جو بظاہر ہمیں ہمارا سکون نظر آتی ہیں درحقیقت یہی بے چینی پیدا کرتی ہیں، اور وہ چیزیں جو بظاہر بورنگ لگتی ہیں درحقیقت وہی سکون کا باعث بنتی ہیں۔
جب انسان بے چین ہوتا ہے تو اسے نیند نہیں آتی ہے، نیند کا تعلق روح کی سیٹسفیکشن سے ہے روح مطمئن ہوتی ہے اس کے بنانے والے کی یاد سے۔
جب ہم نماز پڑھتے ہیں، اللہ کا ذکر کرتے ہیں یا اسکے پسندیدہ بندوں سے اس کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں نیند کیوں آ رہی ہوتی ہے...؟ کیونکہ اللہ کے ذکر میں
راحت ہے۔