رمضان: ایک روحانی پروجیکٹ کی پلاننگ 

✍️ محمد علی سبحانی

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآنِ مجید نازل ہوا، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ یہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے خلاسی کا مہینہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس کا مفہوم ہے کہ
“جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"

رمضان دراصل مومن کے لیے روحانی ترقی، دل کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسی لیے ہمیں اسے ایک عظیم روحانی پر جیکٹ سمجھ کر اس کی مکمل پلاننگ کرنی چاہیے۔

جس طرح ہم کسی بڑے پروجیکٹ کے لیے سیٹ اپ، پلاننگ، execution اور monitoring کرتے ہیں، اسی طرح رمضان کے لیے بھی تیاری بہت ضروری ہے۔ اگر دنیا کے کاموں میں ہم اتنی محنت کرتے ہیں تو رمضان المبارک جیسے عظیم مہینے کے لیے ہمیں اس سے کہیں زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔

اب رمضان ہمارے بالکل قریب ہے۔ اس کے آغاز سے پہلے ہمیں بہترین پلاننگ کرنی ہوگی۔ سب سے پہلی تیاری گناہوں سے بچنے کی ہے۔ ہمیں اپنی زبان کو جھوٹ، غیبت اور فضول گفتگو سے محفوظ رکھنا ہے۔ اپنی آنکھوں کو غلط دیکھنے سے، کانوں کو غلط سننے سے اور خود کو لڑائی جھگڑے سے بچانا ہے۔ اپنے دل کو حسد، کینہ اور بغض سے صاف کرنا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک کامیاب رمضان کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

اس کے بعد عبادات کی پلاننگ کریں۔ ارادہ کریں کہ پانچوں نمازیں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ ادا کریں گے۔ تراویح میں مکمل قرآن سننے یا پڑھنے کا اہتمام کریں گے۔ رمضان سے پہلے طے کریں کہ کتنی مرتبہ قرآنِ کریم کی تلاوت مکمل کرنی ہے۔ اگر ایک ختم کرنا ہے تو روزانہ ایک پارہ پڑھنے کا نظام بنائیں۔ پھر یہ طے کریں کہ ایک پارہ پڑھنے میں کتنا وقت لگتا ہے، اور اس وقت کو مختلف نمازوں کے بعد تقسیم کر دیں، مثلاً فجر کے بعد کچھ حصہ، ظہر سے پہلے کچھ، اور عشاء کے بعد کچھ۔

قرآن کی تلاوت کے ساتھ اس کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش بھی کریں۔ صرف تلاوت کافی نہیں بلکہ غور و فکر بھی ضروری ہے۔ اسی طرح صبح و شام کے مسنون اذکار کا باقاعدہ نظام الاوقات بنائیں۔ سحری سے پہلے تہجد کا اہتمام کریں۔ اگر قضا نمازیں باقی ہیں تو ان کی ادائیگی کی بھی ترتیب بنائیں کریں۔ پہلے سے طے کریں کہ کون سا وقت تلاوت کا ہوگا، کون سا مطالعہ کا اور کون سا ذکر و دعا کا۔ گھر کے کاموں میں بھی تعاون کریں تاکہ رمضان محبت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ گزرے۔

چند معمولات کو لازم بنا لیں: روزانہ سورۂ یٰسین، مغرب کے بعد سورۂ واقعہ، سونے سے قبل۔ سورۂ ملک اور سورۂ سجدہ۔ ہر جمعہ سورۂ کہف کی تلاوت کریں اور صلاۃ التسبیح پڑھنے کی کوشش کریں۔ اشراق، چاشت اور اوابین کا بھی اہتمام کریں، کیونکہ رمضان میں نوافل کا اجر بہت بڑھا دیا جاتا ہے۔

جب رمضان شروع ہو جائے تو اپنی پلاننگ کو باقاعدہ execute کریں۔ روزانہ پانچ منٹ کا ایک وقت مقرر کریں جس میں مختصر self-review اور monitoring کریں کہ آج کیا مکمل ہوا اور کیا رہ گیا۔ پھر اگلے دن کے لیے نیا عزم کریں۔ یہی روزانہ کی چھوٹا سی محاسبہ ہمارے پورے مہینے کو منظم اور بابرکت بنا دے گا۔

اگر ہم رمضان کو پلاننگ، execution اور monitoring کے ساتھ گزاریں گے تو ان شاء اللہ ہمارا یہ روحانی پروجیکٹ کامیاب ہوگا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت کا فیصلہ کروا لیں۔ جس کی مغفرت ہو گئی، اس کا رمضان واقعی کامیاب ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت مہینے کی صحیح پلاننگ کرنے، اس پر عمل کرنے اور اپنی رحمت و مغفرت سے نوازنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

طالبِ دعا : محمد علی سبحانی