*ایک شخص نے ایک عالمہ صاحبہ سے نکاح کیا*
زندگی جب نکاح کے بندھن میں بندھتی ہے تو صرف دو افراد کا ساتھ نہیں بنتا، بلکہ دو سوچیں، دو خاندان اور دو طرزِ فکر بھی ایک ساتھ چلنے لگتے ہیں، اگر اس رشتے کی بنیاد دین پر رکھی جائے تو امید کی جاتی ہے کہ گھر جنت کا نمونہ بن جائے گا، مگر کبھی کبھی دین کی تعبیر میں توازن نہ رہے تو وہی بات جو رحمت بن سکتی تھی، آزمائش کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔
ایک شخص نے ایک عالمہ اور دیندار خاتون سے نکاح کیا، نکاح کے بعد خاتون نے نہایت اعتماد سے کہا،ہم اپنی زندگی شریعت کے مطابق گزاریں گے، کیونکہ دین ہی ہماری رہنمائی کا اصل معیار ہے، شوہر یہ سن کر بہت خوش ہوا،اس کے دل میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی کہ الحمدللہ گھر میں علم ہوگا، تقویٰ ہوگا، سنتوں کی خوشبو ہوگی اور ہر فیصلہ احکامِ الٰہی کی روشنی میں ہوگا،لیکن چند ہی دنوں بعد بیوی نے گفتگو کا رخ بدلا اور کہا،چونکہ ہم نے شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کیا ہے، اس لیے یہ بات واضح رہے کہ *بیوی پر ساس سسر کی خدمت واجب نہیں* اور شوہر کی ذمہ داری ہے کہ بیوی کے لیے علیحدہ رہائش کا انتظام کریں مکمل سہولتوں کے ساتھ، لہٰذا آپ میرے لیے الگ گھر کا بندوبست کریں۔
بات اصولی طور پر غلط نہ تھی، مگر شوہر کے دل میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا، علیحدہ گھر کا انتظام تو ہو سکتا تھا، مگر اس کے بوڑھے والدین؟ جنہوں نے اسے پال پوس کر بڑا کیا، اب ان کے بڑھاپے کا سہارا کون بنتا؟ وہ اسی کشمکش میں ایک مفتی صاحب کے پاس پہنچا اور اپنا مسئلہ بیان کیا،مفتی صاحب نے تحمل سے بات سنی اور فرمایا،اصولی اعتبار سے تمہاری بیوی کی بات درست ہے، شوہر نے عرض کیا،حضرت میں حل لینے آیا ہوں، محض فتویٰ سننے نہیں۔
مفتی صاحب مسکرائے اور نہایت حکمت سے فرمایا، تو حل سنو، جا کر اپنی بیوی سے کہو کہ شریعت نے مجھے چار شادیوں کی اجازت دی ہے، میں دوسری شادی کر لیتا ہوں، وہ دوسری بیوی میرے والدین کے ساتھ رہے گی اور ان کی خدمت کرے گی، اور تمہارے لیے الگ گھر کا انتظام کر دیتا ہوں، جب شوہر نے یہ بات اپنی بیوی کے سامنے رکھی تو وہ چونک گئی، لمحے بھر میں لہجہ بدل گیا، فوراً بولی، ارے! دوسری شادی کی کیا ضرورت ہے؟ میں یہیں رہوں گی، آپ کے والدین میرے بھی والدین ہیں، ان کی خدمت کرنا تو میرے لیے باعثِ سعادت ہے۔
یوں ایک مسئلہ جو بظاہر پیچیدہ نظر آ رہا تھا، حکمت اور دانائی سے حل ہو گیا،اس واقعے میں ایک خوبصورت سبق پوشیدہ ہے، دین صرف اپنے حقوق معلوم کرنے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا شعور بھی دین ہی سکھاتا ہے،شریعت عدل کا نام ہے، توازن کا نام ہے، اور سب سے بڑھ کر حکمت کا نام ہے، اس قصے کو حد سے زیادہ سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں، مگر اتنا ضرور یاد رکھیے کہ ہر مسئلے کا حل محض سرچ انجن پر نہیں ملتا؛ کبھی کبھی اہلِ علم کی مجلس میں بیٹھنا بھی بہت سے الجھنیں سلجھا دیتا ہے۔

                      *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*