احساس رشتے کی روح ہے
✍🏻خامہ کش: گل رضاراہی ارریاوی
گر ختم ہوجاۓ اپنوں کا احساس
تو رشتےکی لڑی ٹوٹ جاتی ہے
رشتےاور تعلقات میں احساس ایک روح کی حیثیت رکھتا ہے ،احساس رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مرکزی کردار ادا کرتاہے -
احساس کی کمی بعض اوقات رشتے میں درار پیدا کرتاہے ،رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ،یہ بات مشاہدہ سے واضح وعیاں ہے-
جس طرح روح کے بغیر جسم ہڈی اور گوشت کا ایک ڈھانچہ ہے سواۓایک ساخت کے اس کی کوئی اہمیت نہیں، اسی طرح بغیر احساس کےرشتے اور تعلقات صرف ایک نام و نسبت ہے جس سے تعارف وشناخت تو مل سکتی ہے مگر حقیقی سکون نہیں ،کیونکہ رشتہ اور تعلقات کی جو روح ہے اس میں نہیں ہے ،
اگر کوئی انسان خوب اچھے خاندان ،اعلی وحسب ونسب اور شاہی گھرانے سے منسوب ہو پر وہ احساس ہمدردی کی نعمت عظمیٰ سے محروم ہو تو اسے اس نسبت میں پھیکا پن محسوس ہوگا ،نسبت کی شیرینی اور اس کی مٹھاس تلخ وکرواہٹ میں تبدیل ہوتا محسوس کرے گا،یہ رشتے انہیں بوجھ لگنے لگےگا ،کیونکہ احساس کی کمی نے انہیں اندر سے مردہ بنادیاہے -
آخر کیا وجہ ہے بعض دفعہ انسان غیروں سے اتنا قریب ہوجاتاہے کہ وہ تمام باتیں اور دل کی روداد دور بیٹھے انسان کو تو سنادیتاہے پر اپنوں کو نہیں سنا پاتاہے ،کیونکہ اپنوں سے احساس کا تعلق کمزور پڑ چکاہوتاہے
آج کل جنتے رشتے میں درار پیدا ہوتاہے ،اور بے معنی ہوکر رہ جاتاہے
اس کی ایک اہم اور بنیادی وجہ یہی ہے
اس لیے اپنے متعلقین ورشتہ دار کا خیال رکھیں، انہیں محسوس کریں ،ان کے چہرے کو پڑھیں ،کچھ چیزیں بن بتاۓ بھی اس کےرہن سہن ،چال چلن ،گفتار وکردار سے محسوس کریں
اس سے ان شاءاللہ آپس کی محبت ،اتحاد واتفاق میں اضافہ ہوگا
اور اسی کو رواداری کہتے ہیں جس کا حکم ہمیں قرآن وحدیث سے ملتا ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں رشتوں کی قدر دانی کی توفیق فرمائے آمین