اللہ رب العزت نے اپنے بندوں پر لا تعداد احسانات فرمائے ہیں ،ان تعدوا نعمه الله لا تحصوها ،،کہ اللہ کی نعمتوں کو شمار نہیں کر سکتے ،
من جملہ تمام نعمتوں کے اللہ نے ہمیں ایک نعمت مال عطا فرمائی ہے۔
جس کے ذریعے ہم اپنی روز مرہ کی ضروریات کو انجام دیتے ہیں۔
مال زندگی گزارنے کی ضروری شے ہے اس سے مفر تو ناممکن ہے ۔لیکن اللہ رب العزت نے ہمیں اس بات کا مکلف بنایا ہے کہ ہمارے پاس جو مال آرہا ہےجوہم اپنی محنت ،ا مزدوری سے یا کسی اور ذریعے سے کما رہے ہیں وہ ذرائع پاک و صاف اور حلال ہونا ضروری ہے۔اس لیے کہ روز قیامت ہم اللہ رب العزت کے حضور اس کے جواب دہ ہیں۔
اس لیے کہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم واضح اور صاف ہے۔
،،لا تزول قدما ابن ادم حتى يسال عن خمس عن عمره فيما افناه ,وعن شبابه فيما ابلاه ,وعن ماله من اين اكتسبه وفيما انفقه, وماذا عمل فيما علم .الترمذی،.
مال کمانا برا نہیں ہے بلکہ رزق حلال کمانے کی حدیث میں تاکید ائی ہے ۔
لیکن اس بات سے غافل رہنا اور اس کا بالکل اہتمام نہ کرنا 
کہ مال کہاں سےآارہا ہے حلال ذرائع سے یا حرام ذرائع سے ۔
اگر حلال ذرائع سے اآرہا ہے تب تو ہم کامیاب ہیں ۔اور اللہ کے عتاب سے بچ سکتے ہیں ۔ورنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان صاف ہے کہ حرام مال سے جسم کی بڑھوتری نہ کرو اس سے بہتر آگ ہے ۔(ترمذی )
قران پاک میں اللہ فرماتے ہیں ۔..احل الله البيع وحرم الربا،،
اللہ تعالی نے تجارت یعنی کاروبار کو حلال اور جائز ارشاد فرمایا ہے اور ربا یعنی سود کو حرام اس وقت ہمارے معاشرے میں جو بڑے بڑے گناہ عام ہوتے جا رہے ہیں اس میں ایک بڑا گناہ سود ہے جس کو اللہ تعالی نے حرام فرمایا ہے ۔
سود کسے کہتے ہیں ؟
تجارت کو ہم جانتے ہیں انسان چیزوں کی خرید و فروخت کرتا ہے اس میں اپنے لیے کچھ نفع متعین کر کے سامان بیچتا ہے وغیرہ ۔
 لیکن سود۔۔۔۔۔ وزن کی جانے والی ،یا کسی پیمانے سے ناپنے والی ایک جنس کی چیزیں یا روپے وغیرہ ۔۔دو آدمیوں کا اس طرح معاملہ کرنا کہ ایک کو عوض میں کچھ زائد دینا پڑ رہا ہو یہ سود ہے ۔اس کو عربی میں ربا اور انگریزی میں interest کہتے ہیں .
،،سود لینے اور دینے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا اعلان جنگ،،
سود کو اللہ تعالی نے کتنا بڑا گناہ قرار دیا کہ قران میں فرمایا ۔۔۔۔
((يا ايها الذين امنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا ان كنتم مؤمنين فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من الله ورسوله ))،،سوره البقره ،،
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا اس کو چھوڑ دو اور تم ایمان والے ہو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو تم اللہ تعالی اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ ۔
سود کھانے والوں کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے یہ ایک اعلان جنگ ہے ۔
اور یہ ایسی سخت وعید ہے جو اور کسی گناہ پر نہیں دی گئی ۔
آج ہمارے معاشرے میں سود کی نحوست اور سود کی بیماری اس قدر عام ہوتی جا رہی ہے ۔کہ وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہیں ان کو چھوڑ ایمان والے اور مسلمان اس دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں معمولی معمولی کاموں کے لیے سود کا لین دین عام ہوتا جا رہا ہے ۔آج ہمارا سب سے بڑا دشمن کوئی اور نہیں بلکہ ہمارا سودی قرض یعنی loan ہے جس کی ہم ہر مہینے قسطیں EMIبھر رہے ہیں۔
سودی قرضوں کو ہم اپنی زندگیوں میں پال رہے ہیں پوس رہے ہیں ۔
وہ مسلمان جو قران پڑھنے والے اور عمل کرنے والے ہیں جس کو اللہ تعالی نے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر تم اس سود سے باز نہیں آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ جس کو کھلا چیلنج اعلان جنگ کا دیا گیا ہو وہی قوم آج سودی قرض اور EMIکے زنجیروں میں جکڑی ہوئی سانسیں لینے کی کوشش کر رہی ہے .
گھر چاہیے لون ۔
شادی کرنا ہے لون ۔
موبائل چاہیے لون ۔
گاڑی چاہیے لون۔
 کاروبار کرنا ہے لون۔
 اس لون کے ساتھ ہم آہستہ آہستہ اپنی عزت، اپنا سکون اپنا ایمان, قسطوں پر installmentمیں گروی رکھ رہے ہیں ۔
یہ بات یاد رکھیے سود صرف پیسہ نہیں کھاتا بلکہ یہ برکت کو بھی چاٹ جاتا ہے ۔
گھر کی ہنسی چھین لیتا ہے ،دلوں کے چین وہ اطمینان کو جلا دیتا ہے ،اور نسلوں کو قرض کی بیڑیاں پہنا دیتا ہے ۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم سود سے ڈرنے کے بجائے اسے مجبوری کہہ کر اپنے ضمیر کو سلا دیتے ہیں ۔
جوآج سود کے سہارے عیش و ارام میں نظر ارہے ہیں یاد رکھو کل یہی سود ان کے سینے پر پاؤں رکھ کر انہیں کچل دے گا ۔
اس لیے ابھی بھی وقت ہے فضول خرچیاں چھوڑ دو نمائش اور دکھاوے کا بخار اتار دو حلال اور چھوٹے راستے اختیار کرو جتنی چادر ہے اتنے پیر پھیلاؤ ورنہ یہ قرض loan کا جال مکڑی کے جال کی طرح آہستہ آہستہ آپ کو اور پوری قوم کو سانس لینے سے پہلے جکڑ لے گا ۔
ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں کہ اس loan کے گرداب میں پھنس کر لوگوں نے اپنی زندگیاں تباہ کر ڈالی ہیں ۔اس لیے سودی لون اور EMIاس سے آپ دور رہنے کی کوشش کریں ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ سات بڑے گناہ کون سے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔١۔شرک کرنا۔٢۔جادو کرنا ۔٣۔کسی شخص کو ناحق قتل کرنا ۔٤۔سود کھانا۔٥ ۔یتیم کا مال کھانا ۔٦۔(کفار سے جنگ کی حالت میں )میدان جنگ سے بھاگ جانا۔٧۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا ۔(بخاری مسلم )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود کے 70 سے زیادہ درجے ہیں سب سے ادنی درجہ ایسا ہے جیسے اپنی ماں سے زنا کرنا ۔بیہقی۔
جس نبی کے امتی ہونے پر ہم فخر کرتے ہیں اسی نبی نے سود لینے اور دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔
اس لیے بینک وغیرہ سے سودی قرض لینے سے بچیں اپنی ضروریات کو بینک سے قرض لیے بغیر پورا کریں ۔
کچھ دشواریاں پریشانیاں آئے تو اس پر صبر کریں ۔
اللہ تعالی ہمیں قران و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اور جن چیزوں سے ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے اس سے دور رہنے اور بچنے کی توفیق عطا فرمائے 
آمین یا رب العالمین ۔