مدارس کے علماء علم کے نقیب مگر معاش کے متلاشی
16 فروری، 2026
مدرسے کا صحن، ٹوٹی ہوئی چار دیواری، بوسیدہ سی چھت اور نیچے بچھا پرانا چٹائی کا فرش… یہی وہ مکتب ہے جہاں بیٹھا ہوا ایک عالم دین نسلوں کے دلوں کو ایمان کی روشنی عطا کر رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں پرانی سی کتاب ہے، زبان پر قرآن کے الفاظ ہیں، اور آنکھوں میں امت کی بھلائی کے خواب۔ شاگردوں کی معصوم نگاہیں اس کے چہرے پر جمی ہیں، گویا سورج کی کرنوں کو تکتے ہوں۔ اس کے جملوں سے حکمت ٹپکتی ہے، اور اس کی دعا سے دلوں کے زنگ اترتے ہیں۔
مگر جب وہی عالم شام کو اپنے گھر کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، تو منظر بدل جاتا ہے۔ چھوٹا سا کچا مکان، جس کی دیواریں نمی سے بھیگی ہیں، چولہے میں راکھ سرد پڑی ہے، بچے ماں کے گرد بھوک کے سوال لیے بیٹھے ہیں، اور وہ خود اپنی غربت کے دکھ کو چھپانے کے لیے مسکراہٹ اوڑھ لیتا ہے۔ جو شخص دوسروں کو صبر و قناعت کے درس دیتا ہے، وہ اپنی بیٹی کے جہیز اور بیٹے کی تعلیم کے سوال پر دل ہی دل میں ٹوٹتا ہے۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ منبر پر بیٹھا ہوا عالم "وارثِ انبیاء" کہلاتا ہے، لیکن بازار کی گلیوں میں وہ معاش کا متلاشی ہے۔ مسجد میں اس کے الفاظ دلوں کو بدل دیتے ہیں، مگر گھر میں اس کے اپنے دل کی چیخیں خاموشی میں دب جاتی ہیں۔ کتابوں کے اوراق پر اس کی عظمت لکھی جاتی ہے، مگر کھانے کی میز پر اس کی غربت کی سطریں درج ہوتی ہیں۔
قوم کا یہ حال ہے کہ نکاح ہو تو خطیب چاہیئے، وفات ہو تو دعا دینے والا چاہیئے، وعظ ہو تو بیان کرنے والا چاہیئے—مگر ان سب کے بعد وہ عالم کیسے زندہ ہے، کس حال میں زندہ ہے، یہ سوال کسی کے دل میں نہیں آتا۔ جس کے کاندھوں پر امت کی رہنمائی کا بوجھ ہے، وہ خود اپنے گھر کی معیشت کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
عالم کی غربت محض ایک شخص کا المیہ نہیں، بلکہ پوری امت کی اجتماعی محرومی ہے۔ اگر چراغ جلانے والے کے پاس ہی تیل نہ ہو تو روشنی کہاں باقی رہ سکتی ہے؟ اگر علم کے نقیب ہی بھوک کی زنجیروں میں جکڑ دیے جائیں تو پھر دین کی تعلیم کا قافلہ کیسے آگے بڑھے گا؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے علماء کی قدردانی کریں۔ ان کے لیے ایسے مواقع فراہم کریں کہ وہ علم و دین کی خدمت سکون اور اطمینان کے ساتھ کر سکیں۔ کیونکہ اگر عالم خوشحال ہے تو مسجد آباد ہے، اور اگر عالم پریشان ہے تو امت کی روح بے چین ہے۔
علماء کی عزت، ان کی کفالت اور ان کے لیے معاشی سہولتیں صرف ان کا حق نہیں بلکہ ہماری دینی ذمہ داری بھی ہیں۔ یہ چراغ اگر بجھ گئے تو ہماری نسلیں اندھیروں میں بھٹکتی رہ جائیں گی۔
محمد مصعب پالنپوری