نہ تعلیم نہ علاج نہ روزگار کیا یہی ہے نیا بہار؟
عوامی شعور ووٹ کی حرمت اور سیاسی وعدوں کا کچا چٹھا
✍🏻خامہ بکف محمد عادل ارریاوی
________________________________
کیا یہی ہے نیا بہار کا حساب؟ ووٹ کی طاقت عوام کی اُمید
نہ تعلیم نہ علاج نہ روزگار کا سراغ
کیا یہی ہے نیا بہار کا حساب؟
یہ سوال اب ہر گلی ہر کوچے ہر چوراہے پر گونج رہا ہے وہ لوگ جنہوں نے خواب دکھائے تھے اب خواب بیچ کر کہیں روپوش ہو چکے ہیں عوام آج بھی اسی دائرے میں قید ہے جہاں بجلی ایک آس پانی ایک سوال اور انصاف ایک خواب بن چکا ہے
ووٹ ایک کاغذ کا ٹکڑا یا تقدیر کی کنجی؟
ہم میں سے بہت سے لوگ ووٹ کو ایک معمولی عمل سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں مگر یہی ووٹ وہ طاقت ہے جو بادشاہوں کو گرا سکتی ہے اور حقیقی خادموں کو اٹھا سکتی ہے یہ ایک مقدس امانت ہے ایک خاموش انقلاب کی پہلی اینٹ
اگر ہم نے صرف نعروں جذباتی تقریروں اور وقتی وعدوں پر ووٹ دیا تو پھر ہمیں نہ تعلیم نہ علاج نہ روزگار کا ہی سامنا کرنا پڑے گا اگر ہم نے شعور کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا تو بہار واقعی بہار بن سکتی ہے۔
ووٹ کی بے قدری قوم کی بربادی
ہر بار انتخاب آتا ہے تو بازار سجتا ہے لیڈر آتے ہیں وعدے کرتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں آنسو بہاتے ہیں اور دل جیت کر چلے جاتے ہیں پھر پانچ سال تک ان کا سایہ بھی نہیں ملتا نہ ہسپتال بنتے ہیں نہ اسکول مکمل ہوتے ہیں نہ نوکریاں آتی ہیں نہ انصاف سستا ہوتا ہے
کیا ہم نے کبھی خود سے سوال کیا؟ کہ ہم کب تک ان فریبوں کے اسیر رہیں گے؟ کیا ہم نے کبھی یہ طے کیا کہ اس بار ووٹ صرف چہرے نہیں کردار دیکھ کر دیں گے؟
عوامی شعور کا سورج کب طلوع ہوگا؟
نہ صرف ووٹ دینا ضروری ہے بلکہ صحیح شخص کو ووٹ دینا اور بھی زیادہ اہم ہے ذات برادری یا زبان کی بنیاد پر فیصلہ کرنا اپنی نسلوں سے دشمنی کے مترادف ہے ہمیں ان نمائندوں کو منتخب کرنا ہوگا جو ہمارے بچوں کے لیے تعلیم کا نظام بہتر کریں جو ہمارے بیماروں کے لیے اسپتال بنائیں جو نوجوانوں کو باعزت روزگار دیں۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے
ووٹ صرف ایک دن کی ذمہ داری نہیں یہ پانچ سال کا فیصلہ ہوتا ہے اگر ہم نے غفلت کی تو وہی پرانے چہرے نئی پیکنگ میں ہمیں بیوقوف بنا جائیں گے لیکن اگر ہم نے ہوش سے ہوشیاری سے اور ہمت کے ساتھ ووٹ دیا تو یہی ووٹ ہمیں نہ تعلیم نہ علاج نہ روزگار کے اندھیروں سے نکال کر ایک روشن ہندوستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
کیا آپ بہار کا وہی پرانا حساب چاہتے ہیں؟
یا ایک نئی صبح نئی امید اور نئے ہندوستان کے لیے ووٹ دینے کو تیار ہیں؟
ووٹ بظاہر ایک چھوٹا سا عمل۔ چند لمحے ایک بٹن دبانا ہے ۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک شرعی امانت قوم کی تقدیر کا فیصلہ اور اللہ کی عدالت میں جواب دہی کا سبب ہے۔
اسلام کی نظر میں ووٹ کا اصل حقدار وہ ہے جو دیندار ہو امانت دار ہو دیانت و عدل کا پیکر ہو قوم کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے والا ہو ظالم کے خلاف اور مظلوم کا مددگار ہو۔
ووٹ صرف کسی اپنے کو دینا کافی نہیں بلکہ جو حق پر ہو وہی اپنا ہے امام ابو حنیفہؒ کے دور میں جب قاضی کا انتخاب ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو نامنظور کر دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بیٹے میں یہ ذمہ داری نبھانے کی اہلیت نہیں یہ ہے عدل کا معیار۔
جیسا بیج ویسا پھل
آج اگر ہمارے معاشروں میں
مہنگائی ہے ناانصافی ہے دین سے دوری ہے
بدکردار حکمران ہیں تو ہمیں اپنے ووٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنا ہوگا کیونکہ قوم کی باگ ڈور انہی ہاتھوں میں گئی ہے جنہیں ہم نے خود چنا ہے کل روزِ قیامت جب اللہ پوچھے گا کس کے حق میں گواہی دی تھی؟ تو ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟
اے اللہ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اسے اپنانے کی توفیق عطا فرما
اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی ہمت عطا فرما
اے اللہ ہمیں ووٹ کی حرمت کا شعور دے
اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنے کی توفیق دے
جو تیری زمین پر تیرا نظام نافذ کرنے والے ہوں
آمین یا رب العالمین