پڑھنا ایک اچھی عادت ہے خوب پڑھنا چاہیے کہ یہ انسان کے ذہن و فکر اور روح کو صحت مند بناتا ہے۔کتاب پڑھنا آدمی کو انسان بناتا ہے ، اس کی زندگی کو سکھاتا ہے ، کتابیں پڑھنا اور اچھی کتابیں پڑھنا انسانیت  کی معراج  پر پہنچانے اور علم و فکر کو ترقی دینے کا ذریعہ ہے کتاب پڑھنے کا شوق ایک جِلد سازی کرنے والے معمولی مزدور کو مفکر اور انسانیت کا رہنما بنا کر اس کا نام تاریخ میں درج کروانے کا ذریعہ ہے 

اندھیرے شب میں ہمیشہ سے علم والے لوگ 
کتاب پڑھتے ہوئے روشنی بناتے ہیں 

آج کل کتابیں نہ پڑھنے کے نتیجے میں ہی کتابیں خریدنے کا رحجان پہلے کم ہوگیا اور پھر ختم ہو گیا 
گھر کا کوئی کونا بھی کتابوں کے لیے مخصوص بنانا اب نہیں ہوگا ، تحفے تحائف میں اب تو کتابیں دینے کا رواج رہا ہی نہیں اور نہ ہی ان کی وقعت اور اہمیت رہی ،  زندگی بنانے والی چیز کے مقابلے میں جسم کو سجانے والی اور کھانے پینے کی چیزیں تحفے تحائف میں اہمیت حاصل کر گئیں ، فکر اور روح کی غذا کی اہمیت کم اور پیٹ کی غذا کی اہمیت بڑھ گئی۔ اب دوستوں اور بچوں کے لیے ہم اچھی کتابیں رسالے یا میگزین لے کر نہیں جاتے اور نہ ہی اس کی ہمت کر پاتے ہیں ، مہمان داری میں جاتے وقت خالی ہاتھ جانے کےطعنہ کا خوف ہوتا ہے تو ہم گھر بچوں کے لیے چاکلیٹ خرید لے جاتے ہیں ہمارے رویے تبدیل ہو گئے ہیں اور ہوتے جا رہے ہیں ۔
دور حاضر کے والدین اپنے بچوں کو 20 روپںٔے کی چاکلیٹ اور 30 روپںٔے کی آئس کریم ایک بار کہنے پر پڑوس کی دکان سے یوں ہی دلا دیتے ہیں حد تو یہ ہے کہ 499 روپںٔے کا پزّہ سستا لگتا ہے اور آرڈر کر کے بچوں کو شوق سے کھلا دیتے ہیں
ں499 روپے کا پزہ اور 99 روپے کا برگر سستا لگتا ہے
 اور 30 سے 50 روپے کی قیمت کی کتاب یا میگزین مہنگی لگتی ہے یہاں ہم بچوں کو پزہ اور برگر کھلانے کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں بلکہ سوال ہماری ترجیحات کا ہے جب 20 سے 50 روپے کی کتاب مہنگی اور 499 روپے کا پزہ سستا معلوم ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی میں ہماری ترجیحات نہ صرف تبدیل ہو چکی ہیں بلکہ تباہ و برباد ہو گئی ہیں۔ اور ہم علم کا شوق کھو کر پیٹ اور زبان کی لذت کے غلام ہوتے جا رہے ہیں ، آپ زمزم پی کر اور کھجور کھا کر جینے کی لذت کھو چکے ہیں جو ہمیں دنیا کی قیادت کرنے کے لائق بناتیں تھیں ، ایسے سماج میں صرف غلام اور نوکر پیدا ہوں گے۔ قائدین ، مفکرین ، انسانوں کے رہنما اور انسانیت کی خدمت کرنے والے سائنسدان اور نئی نئی ایجادات کر کے علم و فن کی دنیا میں نام روشن کرنے والے لوگ کہاں سے پیدا ہوں گے ۔
سوچںٔے , اپنے رویوں ترجیحات اور فکر کے بارے میں۔

علم سے بنتی ہے انسان کی پہچان 
علم اسے اونچا ہوا ہر ایک مقام 
جو علم کا دامن تھامے رہتا ہے 
وہی زمانے میں عزت پاتا ہے

انمول ✍️