"بھائیو! اخلاص کا مقصد یہ ہے کہ ہم جو بھی نیک کام کریں، نماز پڑھیں، روزہ رکھیں، صدقہ دیں یا تبلیغ میں وقت لگائیں، اس میں ہمارا ارادہ صرف اور صرف 'اللہ کو راضی کرنا' ہو۔ ہمارے دل میں ذرہ برابر بھی یہ شوق نہ ہو کہ لوگ مجھے نیک کہیں، میری تعریف کریں یا مجھے بڑا آدمی سمجھیں۔"
قرآنِ کریم: اللہ پاک فرماتے ہیں: "وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ" (اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے)۔
حدیثِ مبارکہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ" (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)۔ یعنی اگر نیت اللہ کے لیے ہے تو اجر ملے گا، اور اگر دکھاوے کے لیے ہے تو وہ عمل ضائع ہے۔
"بھائیو! اخلاص کی مثال ایک 'خالص دودھ' جیسی ہے۔ اگر دودھ میں تھوڑی سی گندگی یا مینگنی گر جائے، تو وہ سارا دودھ ناپاک ہو جاتا ہے اور پینے کے قابل نہیں رہتا۔
اسی طرح ہمارا نیک عمل (نماز، ذکر، تبلیغ) دودھ کی طرح سفید اور صاف ہے، لیکن 'دکھاوا' (ریاکاری) اس میں گندگی کی طرح ہے۔ اگر ہم نے ہزاروں روپے صدقہ کیا یا چار مہینے اللہ کے راستے میں لگائے، لیکن دل میں یہ خیال آگیا کہ 'لوگ دیکھیں گے تو میری واہ واہ ہوگی'، تو اس ذرہ برابر دکھاوے نے ہمارے اس عظیم عمل کو اللہ کی نظر میں ناپاک کر دیا اور وہ قبولیت کے درجے سے گر گیا۔"
ہمارے اندر اخلاص آجائے اور ہمارا ہر عمل صرف اللہ کے لئے اسکیلئے تین محنت ہے
۱. دعوت:
"ہمیں لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ عمل کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اگر اخلاص کے ساتھ ہے تو پہاڑ سے زیادہ وزنی ہے، اور اگر اخلاص نہیں تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے قیمت ہے۔"
۲. مشق:
پہلے، درمیان اور آخر میں نیت چیک کرنا: عمل شروع کرنے سے پہلے، عمل کے دوران اور ختم ہونے کے بعد اپنے دل سے پوچھیں: 'میں یہ کام کس کے لیے کر رہا ہوں؟'
خفیہ اعمال: کچھ نیکیاں ایسی کریں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہ ہو، تاکہ اخلاص کی مشق ہو۔
۳. دعا:
"اے اللہ! ہمارے اعمال کو ریاکاری اور دکھاوے سے پاک فرما، اور ہمیں وہ عمل کرنے کی توفیق دے جس سے صرف تیری ذات راضی ہو جائے۔"
"بھائیو! اگر ہم نے نماز پڑھی، علم حاصل کیا، ذکر کیا اور اکرام بھی کیا، لیکن اس میں اخلاص نہ ہوا تو یہ سب محنت ضائع ہو سکتی ہے۔ اس لیے اپنی نیتوں کو خالص کرنا بہت ضروری ہے تاکہ اللہ کے ہاں ہمارا کوئی عمل رد نہ ہو۔"