"بھائیو! علم سے یہ چاہا جاتا ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ اس وقت مجھ سے میرا اللہ کیا چاہتا ہے؟ یعنی ہر حال اور ہر گھڑی میں اللہ کے حکم کو پہچاننا 'علم' ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہو کہ حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے، اور اللہ کے نبی ﷺ کا طریقہ کیا ہے۔"

"بھائیو! علم اور ذکر ایسے ہی ہیں جیسے انسان کی دو آنکھیں یا پرندے کے دو پر۔ اگر ایک پر ٹوٹ جائے تو پرندہ اڑ نہیں سکتا، اسی طرح اگر علم ہو اور ذکر نہ ہو تو انسان خشک ہو جاتا ہے، اور اگر ذکر ہو اور علم نہ ہو تو انسان بھٹک جاتا ہے۔"

"بغیر علم کے ذکر کرنا گمراہی کا ڈر ہے، اور بغیر ذکر کے علم حاصل کرنا محض معلومات ہے۔ اس لیے 'علم' ہمیں راستہ دکھاتا ہے اور 'ذکر' اس راستے پر چلنے کی طاقت اور نور دیتا ہے۔"

"بھائیو! علم اور ذکر کی مثال ایک 'ٹارچ' (Torch) اور اس کی 'بیٹری' کی طرح ہے۔

علم وہ 'ٹارچ' ہے جو اندھیری رات میں ہمیں راستہ دکھاتی ہے کہ کہاں گڑھا ہے اور کہاں کانٹے ہیں (یعنی کیا گناہ ہے اور کیا نیکی)۔

ذکر اس ٹارچ کے اندر موجود 'بیٹری' (Cell) کی طرح ہے جو ٹارچ کو روشنی فراہم کرتی ہے۔

اگر کسی کے پاس ٹارچ (علم) تو ہو لیکن اس میں بیٹری (ذکر) نہ ہو، تو وہ اندھیرے میں راستہ نہیں دیکھ پائے گا اور ٹھوکر کھا جائے گا۔ اور اگر کسی کے پاس صرف بیٹری ہو لیکن ٹارچ نہ ہو، تو وہ روشنی تو کرے گا لیکن اسے معلوم نہیں ہوگا کہ جانا کہاں ہے۔ اس لیے زندگی کے سفر میں صحیح سلامت منزل (جنت) تک پہنچنے کے لیے علم کی ٹارچ اور ذکر کی بیٹری دونوں ضروری ہیں۔"

بھائیو! آج ہمارے پاس علم تو ہے، ہمیں پتہ ہے کہ جھوٹ بولنا گناہ ہے، سود حرام ہے، نماز فرض ہے، لیکن ہم کر نہیں پاتے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمارے دلوں میں 'ذکر کی بیٹری' ڈاؤن ہو چکی ہے۔ جب دل اللہ کی یاد سے خالی ہوتا ہے تو اس پر شیطان کا قبضہ ہو جاتا ہے۔"

"علم صرف کتابیں پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ پہچاننا ہے کہ 'میرا اللہ اس وقت مجھ سے کیا چاہتا ہے؟'

اگر میں بازار میں ہوں، تو میرا اللہ مجھ سے دیانتداری چاہتا ہے۔

اگر میں گھر میں ہوں، تو میرا اللہ مجھ سے بیوی بچوں کے حقوق چاہتا ہے۔

یہ پہچاننا 'علم' ہے۔"

"اللہ پاک فرماتے ہیں: 'الا بذکر اللہ تطمئن القلوب' (سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے)۔

آج انسان پریشان ہے، اسے نیند نہیں آتی، وہ دوائیاں کھاتا ہے، کیوں؟ کیونکہ اس نے روح کو پیاسا رکھا ہوا ہے۔ روح کی غذا اللہ کا ذکر ہے۔ جس زبان پر اللہ کا ذکر ہوتا ہے، اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔"

5. حاصل کرنے کا طریقہ

علم کے لیے: روزانہ مسجد کی تعلیم میں بیٹھیں اور علماءِ کرام کی مجلس اختیار کریں تاکہ پتہ چلے کہ زندگی کیسے گزارنی ہے۔

ذکر کے لیے: اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھیں۔ چلتے پھرتے، کام کرتے ہوئے 'سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر' پڑھتے رہیں۔ صبح اور شام کی مسنون تسبیحات کا اہتمام کریں۔

"ہمیں علم حاصل کرنا ہے تاکہ ہمیں اللہ کی مرضی پتہ چلے، اور ذکر کرنا ہے تاکہ اس مرضی پر چلنے کا شوق اور دھیان پیدا ہو۔"