نماز کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی ذات سے 'براہِ راست' اپنی ضرورتیں پوری کروانے کا طریقہ آ جائے۔ ہم اس یقین پر آ جائیں کہ میرے مسائل دکان، زراعت یا نوکری سے نہیں، بلکہ نماز کے ذریعے اللہ کے حکم سے حل ہوں گے۔"

"بھائیو! اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی آپ ﷺ کو کوئی پریشانی یا تنگی پیش آتی، تو آپ ﷺ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہو جاتے (حدیث: کَانَ اِذَا حَزَبَہٗ اَمْرٌ صَلّٰی)۔

غزوۂ بدر کا موقع یاد کریں! ایک طرف ۳۱۳ نہتے مسلمان تھے اور دوسری طرف ایک ہزار کا لشکَرِ جرار، جن کے پاس ہر طرح کا اسلحہ تھا۔ دنیا کے اسباب بظاہر ناکام نظر آ رہے تھے۔ ایسے کٹھن وقت میں اللہ کے نبی ﷺ نے کیا کیا؟ آپ ﷺ اپنے خیمے میں تشریف لے گئے اور اللہ کے سامنے نماز اور دعا میں مشغول ہو گئے۔

آپ ﷺ نے اسباب پر نہیں، بلکہ نماز کے ذریعے اللہ کی ذات پر بھروسہ کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نماز کی برکت سے اللہ نے آسمان سے فرشتوں کو نازل فرمایا اور وہ کام جو تلواروں اور ڈھالوں سے ہونا ناممکن لگ رہا تھا، وہ اللہ نے غیب سے کر دکھایا۔"

"جس طرح بدر کے میدان میں اللہ نے اسباب کے بغیر نماز کی برکت سے فتح عطا فرمائی، آج بھی اگر ہم اپنی دکان، کھیتی اور نوکری کے مسائل میں پہلے مصلے پر آ جائیں، تو اللہ پاک غیب سے ہمارے حالات بدل دیں گے۔ ہمیں بس یہ یقین کرنا ہے کہ کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے اور مانگنے کا طریقہ صرف نماز ہے۔"

"بھائیو! نماز سے یہ چاہا جاتا ہے کہ ہماری چوبیس گھنٹے کی زندگی اللہ کے حکموں کے تابع ہو جائے۔ جس طرح ہم نماز میں اللہ کے حکم پر بندھ جاتے ہیں، رکوع اور سجدہ کرتے ہیں اور اپنی مرضی چھوڑ دیتے ہیں، اسی طرح مسجد سے باہر نکل کر بھی ہماری دکان، کھیتی، نوکری اور گھر کے تمام معاملات اللہ کے حکم کے مطابق ہو جائیں۔ گویا نماز ایک 'مشق' ہے پوری زندگی کو بندگی میں ڈھالنے کی۔"نماز میں خشوع و خضوع کا مطلب یہ ہے کہ:

دھیان: ہمارا دل اور دماغ اللہ کی عظمت کی طرف متوجہ ہو۔

عاجزی: بدن کے اعضاء پر سکون ہوں، نظر سجدہ گاہ پر ہو اور یہ احساس ہو کہ 'میں اپنے خالق کے سامنے کھڑا ہوں اور وہ مجھے دیکھ رہا ہے'۔

حقیقت: جس طرح بے جان جسم کا کوئی فائدہ نہیں، ویسے ہی خشوع کے بغیر نماز ایک بے روح ڈھانچہ ہے۔"


"جب ہم ایسی نماز پڑھیں گے جس میں دھیان اللہ کی طرف ہو، تو اللہ پاک ہماری ضرورتیں براہِ راست اپنی غیبی طاقت سے پوری فرمائیں گے۔ ہمیں اسباب (دکان، زراعت) کے بجائے مصلے پر یقین لانا ہے کہ حل وہیں سے نکلے گا۔"

جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کے سامنے رو کر اپنی بات منوا لیتا ہے، اسی طرح جب بندہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز میں اللہ کے سامنے جھکتا ہے، تو اللہ پاک کائنات کے تمام اسباب کو اس کے حق میں موڑ دیتے ہیں۔"

۱. دعوت:

"بھائیو! ہمیں لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ اللہ پاک نے اپنی قدرت کے خزانوں سے لینے کا راستہ 'نماز' کو بنایا ہے۔ آئیے! ہم اپنی اور پوری امت کی نمازوں کو سنت کے مطابق اور خشوع و خضوع والا بنانے کی محنت کریں۔"

۲. مشق:

ظاہری مشق: ہر نماز کو اس کے مستحب وقت پر، مسجد میں، تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجماعت ادا کرنا۔

باطنی مشق: یہ دھیان پیدا کرنا کہ 'اللہ مجھے دیکھ رہا ہے'۔ نماز کے باہر جو کام اللہ کے حکم سے ہو رہے ہیں، وہ نماز کے اندر اللہ سے دھیان لگا کر پورے کروائیں۔

۳. دعا:

"اے اللہ! ہمیں ایسی نماز نصیب فرما جیسی تیرے پیارے نبی ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی تھی۔ ہماری نمازوں کو ہمارے لیے ہدایت اور اپنی رضا کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔"