✍️ محمد علی سبحانی
١٣/٠٢/٢٠٢٦

معزز قارئین!
ذرا سوچیں! 14 فروری کی یہ ہلچل، سرخ غبارے، تحفے اور محبت کے نام پر شور، کیا یہ ہماری تہذیب ہے؟
ہر سال ویلنٹائن ڈے کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہی محبت کا اصل دن ہو۔ لیکن کیا محبت کسی ایک دن کی محتاج ہے؟ اور کیا اس کا موجودہ انداز ہماری دینی اور اخلاقی اقدار کے مطابق ہے؟

ہمیں دو عظیم عیدیں دی گئی ہیں ، عیدالفطر اور عیدالاضحی تاکہ ہماری خوشیاں عبادت بن جائیں۔ پھر ہم کیوں ایک ایسے دن کو اپنائیں جو ہماری تہذیب اور عقیدے سے تعلق نہیں رکھتا؟

اسلام محبت سے منع نہیں کرتا، بلکہ پاکیزہ اور حلال محبت کا درس دیتا ہے ، ماں باپ سے، اہلِ خانہ سے، اور نکاح کے بندھن میں بندھی محبت۔
لیکن وہ محبت نہیں جو وقتی جذبات میں حیا کی دیواریں گرا دے اور نسلوں کو بے راہ روی کی طرف لے جائے۔

یاد رکھیں، ترقی اپنی اقدار چھوڑ دینے کا نام نہیں۔
اصل عزت اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھنے میں ہے۔

آؤ عہد کریں کہ ہم اپنی تہذیب، اپنی غیرت اور اپنی پہچان کی حفاظت کریں گے — کیونکہ جو قوم اپنی شناخت کھو دیتی ہے، وہ عزت بھی کھو دیتی ہے۔