مدرس کو دس ہزار ماہانہ وظیفہ دے کر پورا سال گزار لیا جاتا ہے…
پھر سال کے اختتام پر سوال اٹھایا جاتا ہے:
"آپ نے صحیح نہیں پڑھایا!"
"آپ قابل نہیں!"
"نتائج کمزور کیوں آئے؟"
مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ:
کیا اس وظیفے میں ایک باعزت زندگی ممکن تھی؟
کیا اس کے بچوں کی فیس، علاج اور گھر کے اخراجات پورے ہو رہے تھے؟
کیا وہ ذہنی سکون کے ساتھ مطالعہ کر پا رہا تھا؟
جب ذہن معاشی پریشانیوں میں الجھا ہو،
جب راتیں قرض اور اخراجات کی فکر میں گزریں،
جب تدریس کے ساتھ ساتھ رزق کی تلاش بھی لازم ہو —
تو تحقیق کا چراغ کیسے روشن رہے؟
علم یکسوئی مانگتا ہے۔
تحقیق سکون چاہتی ہے۔
تدریس ذہنی حضور کا تقاضا کرتی ہے۔
اگر مدرس کا ذہن بجلی کے بل، بچوں کی فیس اور گھر کے کرایے میں بٹا ہو
تو اس سے علمی معجزے کی توقع رکھنا انصاف نہیں۔
ہم نتائج چاہتے ہیں
لیکن اسباب فراہم نہیں کرتے۔
ہم معیار چاہتے ہیں
مگر معیار کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔
مدرس کو مضبوط کیجیے،
اس کا ذہن آزاد کیجیے،
اس کی معیشت سنواریے —
پھر دیکھئے وہی مدرس
نسلوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
اللہ ہمیں انصاف اور دور اندیشی کی توفیق عطا فرمائے۔ 🌹
منقول