*ہم مولویوں کے پردہ پردہ سے تنگ آچکے ہیں۔*
ہم آزاد ہیں، جیسا چاہیں لباس پہنیں۔ مرد کیوں ہمیں گھور گھور کر دیکھتے ہیں؟
انہیں نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے۔
کیا ان کے گھروں میں بہن بیٹیاں نہیں؟
ہم کیوں پردہ کریں، تم دیکھو ہی مت۔
میں نے کہا
بات یہ درست ہے کہ مرد کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے اور نامحرم کو دیکھنا حرام ہے۔
لیکن جو دلیل تم دے رہی ہو، وہ عقل سے خالی ہے۔
اس نے پوچھا
کیسے؟
میں نے کہا
اگر میں رات دو بجے گھر میں زور سے قرآن کی تلاوت چلاؤں اور پڑوسی اعتراض کریں، تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ تم اور تمہارے بچے اپنے کان بند کرلو؟
میں آزاد ہوں، پورا محلہ مجھے ہی کیوں روکے؟
یا میں ہسپتال میں بیٹھ کر سگریٹ پیوں اور لوگ منع کریں تو کہہ دوں کہ تم اپنی ناک بند رکھو، سانس کیوں لیتے ہو؟
وہ ذرا چونکی اور بولی
لیکن دیکھنے میں کیا گناہ ہے؟
دیکھنے سے کیا ہو جاتا ہے؟
میں نے کہا
سانپ کو دیکھ کر دل کی دھڑکن تیز کیوں ہو جاتی ہے؟
سڑک پر خون دیکھ کر طبیعت کیوں خراب ہو جاتی ہے؟
کسی منظر کو دیکھ کر جذبات اور احساسات کیوں بدل جاتے ہیں؟
یہ ثابت ہوا کہ دیکھنے کا تعلق صرف آنکھ سے نہیں، دل اور احساسات سے بھی ہوتا ہے۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ تنگ لباس پہننے سے دیکھنے والے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
نوجوان دل کمزور ہوتے ہیں، طبیعت ضرور متاثر ہوتی ہے۔
اسی لیے کہا گیا کہ خود کو پردے میں رکھو۔
ڈھکی ہوئی چیز کی ہی قدر ہوتی ہے، عزت ہوتی ہے۔
ہر دیکھنے والا محبت کی نظر سے نہیں دیکھتا،
اکثر نگاہیں ہوس سے بھری ہوتی ہیں۔
جب دعوت نہ دی جائے تو لوگ خود نہیں آتے،
اور اگر مٹھاس نہ ہو تو چیونٹی بھی نہیں پہنچتی۔اور مکھیاں بھی نہی بھنبھناتیں ۔