حب رسول کیسی ہونی چاہیے؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 

        محبت دل کے میلان کا نام ہے اور یہ کسی سے بھی ،کسی خوبی کی بنا پر ہو سکتی ہے، یہ غیر اختیاری وصف ہے، کسی کے اندر کوئی خوبی ہو تو فورافطرت اس کی طرف کشش کا متقاضی ہوتی ہے اور پھر اس سے محبت ہو جاتی ہے-

     عام طور پر محبت کی تین قسمیں بیان کی جاتی ہیں 
(1) حب طبعی (2)حب عقلی(3) حب ایمانی 

لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پہلے کی دو قسمیں مستقل کوئی قسم نہیں بلکہ ایمان کے ضمن میں پائی جانے والی اس کے فروعات ہیں 

حب طبعی:
 جیسے انسان اپنے والدین اہل و عیال اور اعزہ و اقربا سے کرتا ہے کیونکہ ایک ساتھ رہنے اور شفقت ومحبت اور احسان واکرام کی وجہ سے یہ محبت ہوجاتی ہے ،اس میں کسی توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے-
حب عقلی :
کسی ذات میں کوئی خوبی یا کوئی ایسی صفت ہو جس کی وجہ سے انسان اس کی طرف مائل ہو تو یہ محبت عقلی کہلاتی ہے جیسا کہ انسان دوسرے انسان سے محبت کرتا ہے کسی احسان کی بنیاد پر یا خوبی کی بنیاد پر صلاحیت و استعداد اور ہنر مندی کی وجہ سے 
حب ایمانی :
یہ وہ محبت ہے جس پر انسان کےعقیدے کی بنیاد ہے اور اس کے عقیدے کے مطابق وہ اپنے مذہب سے جڑے تمام چیزوں سے محبت کرتاہے ان کی روشنی میں کسی ذات و صفات سے محبت کرتا ہے ،
جہاں تک مومن کا تعلق ہے اس کا محور و مرکز ہی ایمان ہے
اس کے ہر تقاضے ایمان پر مبنی ہے-
   ایمان طے کرتا ہے کہ آپ کو کس سے محبت کرنا ہے اور کس سے نفرت کرنا ہے 
اور محبت کی تمام اقسام اس ایمان کے دائرہ میں آجاتاہے،اسی کو احادیث میں حب فی اللہ اور بغض فی اللہ سے تعبیر کیا ہے ایمان تقاضا کرتا ہے شعوری کیفیت میں تمہاری محبت کا اصل حقدار خالق حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ ہے جس پر انسان کے مبدأ ومعاد کا مدار ہے ،اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ جس سے محبت کا مطالب ہو اس سے محبت کرو یعنی انبیاء کرام سے بطور خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے( جو تم سے میری ذات کا تعارف کرائے) اس سے تم محبت کرو ،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس ذات سے محبت کا حکم دیں ،ان سے محبت کرو یعنی صحابۂ کرام اور اسلام کے ایگر احکامات سے ،یہ حب ایمانی کہلاتی ہے اسی ترتیب کے مطابق مؤمن محبت کرتاہے، مؤمن کے علاوہ جو اختیار کرے گاوہ یقینا صحیح نہج پر ہوگا-

    علوم انوری پاسبان وامین صاحب معارف السنن حضرت علامہ یوسف بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں!
 حدیث میں جو آیا ہے کہ تم مومن کامل اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک کہ میں تمہارے نزدیک والدین ،اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب نہ بن جاؤں 
   اس سے مراد وہ محبت ہے جس کی ابتداء عقلی ہوتی ہے اور انتہاء طبعی ہوتی ہے
یہی طریقۂ محبت صحابۂ کرام اختیار کیا -
     حضرت ابوبکر صدیق ،حضرت عمر ، حضرت عثمان ،حضرت علی اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے والدین ،اہل خانہ رشتہ دار پر رسول اللہ اور اس کے تقاضے کو ترجیح دی ،
گھر والوں کے تقاضے کو چھوڑ کر رسول اللہ کے تقاضے کو پورا کیا ،
اس کےلیے جان ،مال گھر بار سب کچھ کو قربان کردیا،
بعض صحابہ نےتو ان رشتہ داروں کو بھی تہہ تیغ کرنے سے گریز نہیں کیا جو اسلام کے مقابل آۓ ،بعض صحابہ نے اپنے حقیقی بھائی اور والد کو بھی میدان جنگ میں نہیں بخشا-
      حضرت سمیہ ،حضرت یاسر ،حضرت عمار،حضرت بلال،حضرت سلمان فارسی ،حضرت خبیب ، حضرت حمزہ ،حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہم اجمعین ودیگر فدائیان اسلام جنہوں نے اسلام کےلیے وہ قربانیاں دیں جس کاتصور بھی ہمارے لیے محال ہے ۔
   ان میں سے اکثر صحابہ نے صرف اور رسول اللہ کی محبت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا -

     آج ہم بھی محبت رسول کا دعوی کرتے ہیں اور ہے بھی لیکن وہ اعتقاد اور زبان تک محدود ہے- 
جہاں اس کے تقاضے کو پورا کرنے کی بات آتی ہے ہم سب سے پچھلے صف میں نظر آتے ہیں -
اس سے محبت کے تقاضے ہیں اسوۂ حسنہ کی روشنی میں زندگی گزارنا اور اسلام کی خاطر اپنی نفوسہ قدسیہ کو قربان کرنا ،نفس پرستی کو ترک کرکے اتباع سنت اختیار کرنا، اس سے ہماری زندگی عاری و خالی ہے 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محبت ایسی ہو کہ ہم "خذو ما آتاکم الرسول فخذو ومانھاکم
 عنہ فانتھو" کامصداق بن جائیں 
اسی کی وجہ سے ہمیں خالق حقیقی کی محبت ملے گی 
جیسا کہ سورۂ" آل عمران" میں ہے
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ و یغفرلکم ذنوبکم واللہ غفور رحیم 
آپ کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو ہو تو میری اتباع کرو ،اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کی مغفرت فرمائے گا

اب ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے کہ میرا ایمان کس معیار وڈگر پرہے؟ 
کیا ہم ان سب تقاضے کو پورا کرسکتے ہیں؟
 اگر ہاں تو سمجھیے کہ سچے مؤمن ہیں ورنہ ہمارا ایمان تنزلی کے دلدل کی طرف تیزی سے رواں دواں ہے جہاں کفر وشرک ،ارتداد و الحاد ،بدعت وضلالت ،جہالت وقباحت اور شناعت و رذالت کا گھروندہ ہے-

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حب ایمانی کے تقاضہ کو بدرجۂ اتم پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے -
آمین ثم آمین