*دھنتیرس، دیوالی اور مسلمان*
آج مشرکینِ ہند کا تہوار "دھنتیرس ہے جسے علما کی زبان میں دھن تریودشی بھی کہا جاتا ہے جبکہ جین مذہب کی کتابوں میں اسے دھیان تِیرس اور دھنّی تِیرس کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے.
یہ تہوار ہندو کیلنڈر وکرم سنوت کے مطابق کارتیِک مہینے کے کرشن پکش (ایامِ سود) کی تریودشی (تیرہ تاریخ) کے دن منایا جاتا ہے اس دن کے بارے میں کفار کا کفریہ عقیدہ یہ ہے کہ اس دن اگر کوئی چیز خریدی جائے تو اس میں تیرہ گنا برکت ہوتی ہے اسی لیے آج کے دن کفار کی بھیڑ بازاروں میں کچھ نہ کچھ خریدنے کے لیے جمع رہتی ہے آپ اپنے اپنے شہر میں اس کا تجربہ کر سکتے ہیں, کوئی چاندی خریدتا ہے، کوئی اس کے برتن کوئی دھنیا کے بیج خرید کر گھر میں رکھ لیتا ہے، پھر دیوالی کے بعد اسے کھیت میں بو دیتا ہے کوئی اسی دن معبودانِ باطلہ لکشمی اور گنیش کی مورتیاں خریدتا ہے تاکہ دیوالی کی رات ان کی پوجا کر سکے، کچھ لوگ پیتل کے برتن خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور اگر کچھ نہ ہو سکے تو جھاڑو ہی خرید لاتے ہیں.
افسوس بہت سے نادان مسلمان، خصوصاً دیہاتی مسلمان، بھی کفار کے ان کفریہ عقائد پر مبنی اس غلیظ رسم کو بڑی تعداد میں فالو کر رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں مسلمانوں کا تہوار .
😭إنا لله وإنا إليه راجعون 😭
یہ تہوار قومی نہیں بلکہ مذہبی ہے، اسی لیے میں نے اسے کفر کہا، اب اس کی بنیاد کیا ہے، اس پر تفصیلی گفتگو ملاحظہ فرمائیں:
اس تہوار کی نسبت جس سے ہے، اس کا نام ہے دھنونتری جسے کفار کے درمیان وشنو کا اوتار مانا جاتا ہے
اس کی ہیئت یہ بتائی جاتی ہے کہ اس کی چار بھُجائیں (بازو) ہیں اوپر کی دونوں میں شَنگھ (شَںک) اور چکر ہیں، جبکہ نیچے کی ایک بھُجا میں جلُوکا (جونک) اور اوشَدھ (دوا) اور دوسری میں امرت کلش (امرتا کا برتن) ہے، اس کی پسندیدہ دھات پیتل ہے، اسی لیے دھنتیرس کے دن پیتل کے برتن خریدنے کو اہمیت دی جاتی ہے، کہیں کہیں اس کے بت مختلف شکلوں میں بھی پائے جاتے ہیں، اسے آیوروید کا دیوتا مانا جاتا ہے، اسی وجہ سے اسے صحت کا بھگوان بھی کہا جاتا ہے،
آج دھنتیرس کے دن کفار اسی بت کی پوجا کرتے ہیں تاکہ صحت، رزق اور برکت کے لیے دعا مانگیں.
أستغفرالله، استغفر الله، استغفر الله.
اسی دن اس کی پیدائش ہوئی، اسی کے یومِ پیدائش کو دھنتیرس کے طور پر منایا جاتا ہے، اب اس کی پیدائش کا قصہ سنیے:
پرانوں کی تاریخ میں ایک مشہور کہانی ہے جسے سمُدر منٿن(سمندر منتھن) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،
یہ قصہ بھگوت پران مہابھارت اور وشنو پران میں بڑی تفصیل سے موجود ہے.
مختصراً یوں ہے کہ:
جب راکشسوں (شیطانوں) کی طاقت بڑھنے لگی اور دیوتاؤں کی کم ہونے لگی، تو سب دیوتا برہما کو لے کر وشنو کے پاس پہنچے, وشنو نے کہا تم کشیِر ساگر (دودھ کے سمندر) سے امرت نکالو، اسے پیو، تم امر ہو جاؤ گے اور راکشس تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، لیکن وشنو نے کہا کہ یہ کام اکیلے تمہارے بس کا نہیں، راکشسوں سے کسی بھی شرط پر صلح کر لو اور مل کر منتھن کرو،
پھر صلح ہوئی اور سمندر منتھن شروع ہوا.
اب سمجھ لو کہ سمندر منتھن کیا ہے؟
یعنی سمندر کو ایسے گھمانا جیسے دہی کو بلونی سے گھمایا جاتا ہے تاکہ مکھن نکل آئے ایسی ایسی عجیب باتیں جب پڑھتے ہیں تو حماقت نظر آتی ہے اور تعجب بالائے تعجب اس پر کے لوگ انکے پیروکار ہیں 😂.
کفار کے مطابق یہ واقعہ مندر آچل پہاڑ پر پیش آیا جو آج کے بہار کے بانکا ضلع میں واقع ہے، بھگلپور سے تقریباً 45 کلومیٹر جنوب میں
اسی پہاڑ کو بلونی کی طرح استعمال کیا گیا، اور واسوکی سانپ کو رسی کی طرح لپیٹا گیا, ایک طرف دیوتاؤں نے پکڑا، دوسری طرف راکشسوں نے، اس منتھن سے ایک ایک کر کے 14 رتن (قیمتی چیزیں) نکلیں جنکی تفصیل یہ ہے:
1. کالکُوٹ زہر
2. آسمانی ہاتھی
3. کامدھینو گائے
4. اُچَیشروہ گھوڑا
5. کوستبھ منی
6. کلپ ورِکش
7. رمبھا اپسرا 🙈
8. لکشمی دیوی
9. وارُنی شراب
10. چاند
11. شاورنگ دھنُش
12. شَنگھ
13. گندھرو
14. امرت لے کر دھنونتری
تو اس طرح دھنونتری چودھویں نمبر پر پیدا ہوا، اسی معبودِ باطل کی نسبت سے آج کا یہ تہوار منایا جاتا ہے، جو کہ خالص کفر ہے،
کوئی گھڑے سے پیدا ہوا، کوئی ناف سے، کوئی ران سے، کوئی کمَل سے، کوئی مچھلی سے، کوئی سمندر سے،
اور حیرت کی بات یہ کے: ان کی سفاہت و جہالت یہ سب مان لیا
مگر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بنا باپ کے پیدائش ماننے میں انہی کفار کو موت آتی ہے کیا بتاؤں کبھی پڑھتے ہوئے ہنسی آتی ہے کبھی افسوس ہوتا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کے یہ لوگ اپنے ہی دھرم کو صحیح سے بیان نہیں کر سکتے، اور پتہ نہیں کیا کیا فضولیات و ہفوات بھونکتے ہیں😁
جسے یہ پوری کہانی پڑھ کر مزا لینا ہو اور انکی بے وقوفی کا اندازہ لگانا ہو، وہ وشنو پران حصہ نمبر 1 باب نمبر 9 پڑھ لے، دھنونتری کی پیدائش پر اس کا ایک شلوک نمبر 18 میں ذکر موجود ہے.
*اب شریعت کا حکم سنو*
کافروں کے وہ تہوار جن کا تعلق براہِ راست ان کے دیوتاؤں سے ہو، جیسے
دھنتیرس، دیوالی، ہولی، جنم اشٹمی، رام نومی، گنیش چتُرتھی، نو دُرگا، شِو راتری وغیرہ ان کی مبارکباد دینا کفر ہے، یعنی جس مسلمان نے بھی انہیں مبارکباد دی، وہ کافر ہو گیا
جب مبارکباد دینے کا گناہ اتنا بڑا ہے، تو سوچو انہیں اچھا سمجھنا، منانا، ان کی رسومات اپنانا کتنا بڑا جرم ہوگا.
لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
مسلمانو اللہ سے ڈرو
اگر کوئی مسلمان کفر کا کام کر بیٹھے، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ چار چیزیں ختم ہوگئیں:
1. اس کا ایمان ختم ہوگیا
2. اس کا نکاح ٹوٹ گیا (اگر شادی شدہ ہے تو)
3. اس کی بیعت ختم ہوگئی (اگر کسی کا مرید ہے تو)
4. اگر اس نے فرض حج کرلیا تھا، تو وہ بھی ضائع ہوگیا.
ایک مقام پر اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ
(اے کافرو) کیا تم ان (پتھروں کے بتوں) کی عبادت کرتے ہو جنہیں خود (اپنے ہاتھوں) سے تراشتے ہو؟
دوسرے مقام پر اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسی اس کا حق تھا؛ قیامت کے دن تمام زمینیں اس کی مٹھی میں ہوں گی، اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ سے لپیٹے جائیں گے؛ اور وہ پاک ہے ان سب چیزوں سے جنہیں وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں.
ایک بات آپ دنیا کے تمام مذاہب کو پڑھ کر دیکھیں پھر آپ خود ہی اندازہ کر سکتے ہیں مذہب اسلام کس قدر معزز و متبرک ہے اور کتنے مضبوط قوانین ہے مذہب اسلام کے .
خیر میرا مقصد یہ تھا اس طرح کے تہوار پر مبارکباد دینا اور شرکت کرنا سب شریعت اسلامیہ میں حرام حرام حرام ہیں.
✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️