*رمضان آ رہا ہے کیا ہم تیار ہیں؟ اپنا جائزہ لیجئیے*

✍🏻 *خامہ بکف محمد عادل ارریاوی* 
______________________________
محترم قارئین کیا آپ کو پتہ ہے کہ رمضان دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ ہمارے گھروں میں داخل ہو ضروری ہے کہ ہم اپنے دلوں کے دروازے کھول لیں یہ مہینہ صرف روزوں کی گنتی کا نام نہیں ہے یہ اپنے دعوؤں اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو ناپنے کا وقت ہے ہم کہتے ہیں کہ ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں مگر کیا ہماری زندگی اس محبت کی گواہی دیتی ہے؟ محبت تو وہ آگ ہے جو انسان کو چین سے سونے نہیں دیتی جو اسے سجدوں میں رُلا دیتی ہے جو اسے اپنی خواہشات قربان کرنے پر آمادہ کر دیتی ہے رمضان آ رہا ہے یہ بہانوں کا نہیں فیصلوں کا مہینہ ہے یہ وقت ہے خود کو پرکھنے کا اپنے ایمان کو تولنے کا اور یہ طے کرنے کا کہ ہماری محبت صرف الفاظ تک محدود ہے یا عمل تک پہنچتی ہے
اللہ سے محبت ہو تو زندگی قربان کرنے کا جذبہ آ ہی جاتا ہے ہم تو محبت کا دعویٰ کرتے ہیں نہ نیند قربان کرتے ہیں کہ اس رب کے آگے جھک جائیں نہ وقت نکالتے ہیں کہ قرآن سمجھ لیں نہ اخلاق اچھے کرتے ہیں کہ رب راضی ہو جائے ہماری کیسی محبت ہے ؟ ہاں محبت کرنی ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف دیکھیں سب قربان کرنے کے لئے تیار تھے کبھی اہل و عیال کبھی گھر کبھی محبتیں سب اللہ کی خاطر قربان اور جانتے ہیں بدلے میں کیا ملا اللہ کی طرف سے سلامتی کی بشارت اللہ کی محبت اللہ کی دوستی ہاں قربانی سے ہی تو قرب ملتا ہے یہ دن بہترین بنائیں
اب وہ وقت نہیں جب ہم کہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں تھا رمضان کی بہترین پلاننگ شروع کیجئے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر اپنے فیملی کے ساتھ اور والدین کے ساتھ مل کر آئیے اس رمضان کو پچھلے رمضانوں جیسا نہ بنائیں صرف سحری و افطاری کی تیاریوں تک خود کو محدود نہ کریں بلکہ اپنے دل کی زمین کو بھی تیار کریں جس طرح کسان بیج بونے سے پہلے زمین کو نرم کرتا ہے گھاس پھونس صاف کرتا ہے اسی طرح ہمیں بھی اپنے دل سے حسد کینہ بغض اور غفلت کی جھاڑیاں کاٹنی ہوں گی ورنہ عبادتوں کے بیج اگیں گے نہیں
سوچیے اگر یہ ہمارا آخری رمضان ہو تو کیا ہم اسی بے فکری کے ساتھ اس کا استقبال کریں گے؟ کیا ہم پھر بھی سستی کریں گے؟ کیا ہم پھر بھی کہیں گے کہ ابھی تو وقت ہے؟ نہیں بلکہ مؤمن ہر آنے والے رمضان کو آخری سمجھ کر جیتا ہے اسی لیے اس کی ہر لمحہ قیمتی بن جاتی ہے۔
اس مبارک رمضان میں ایک عہد کریں کہ نمازوں کو صرف ادا نہیں کریں گے بلکہ سنواریں گے قرآن کو صرف پڑھیں گے نہیں بلکہ سمجھیں گے اور اس پر عمل کریں گے صدقہ صرف مال کا نہیں بلکہ اخلاق کا بھی دیں گے رشتوں کو جوڑیں گے دلوں کو صاف کریں گے ہرکسی کو معاف کریں گے اور معافی مانگیں گے اپنے بچوں کو صرف روزہ رکھنا نہ سکھائیں بلکہ روزے کی روح بھی سکھائیں انہیں بتائیں کہ بھوک صرف برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ نفس کو قابو کرنے کا نام ہے گھر کا ماحول ایسا بنائیں کہ اذان کی آواز پر خاموشی چھا جائے قرآن کی تلاوت سے دیواریں بھی مانوس ہو جائیں اور سجدوں کی لذت بچوں کے دلوں میں بھی اتر جائے یاد رکھئے رمضان مہمان ہے اور بہترین مہمان نوازی یہی ہے کہ ہم اپنے اعمال سنوار لیں اگر ہم نے اس مہینے میں خود کو نہ بدلا تو پھر کب بدلیں گے؟ اگر ہم نے اب بھی قربانی نہ دی تو پھر کب دیں گے؟ میرے پیارو قربانی صرف جان کی نہیں ہوتی کبھی نیند کی کبھی خواہش کی کبھی انا کی بھی دینی پڑتی ہے اور یہی قربانیاں انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہیں
آئیے آج ہی سے تیاری شروع کریں ایک فہرست بنائیں نماز کی تلاوت کی صدقہ کی اصلاح اخلاق کی اپنے گھر میں رمضان کا ایک ماحول قائم کریں تاکہ جب چاند نظر آئے تو ہم صرف خوشی نہ منائیں بلکہ یہ اطمینان بھی ہو کہ ہم نے اپنے رب کے مہمان کے استقبال کی تیاری کر لی ہے اے اللہ ربّ العزت ہمیں اس مبارک مہینہ کی قدر کرنے کی اسے سمجھنے اور اس سے خوب نفع اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین ۔