(36)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

امید کا چراغ بجھنے نہ پائے؛ _________

     دنیا کے سیاسی و سماجی منظرنامے میں جب کبھی اصول پسندی اور دیانت داری پسِ منظر میں چلی جاتی ہے،

تو سچے کرداروں کے لیے میدان تنگ محسوس ہونے لگتا ہے۔

ایسے حالات میں بعض اوقات حق گوئی، قربانی اور اخلاص رکھنے والے افراد کو وقتی طور پر محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ محرومی کبھی بھی انجام نہیں ہوتی —

یہ دراصل آغازِ آزمائش اور امتحانِ صبر ہوتا ہے۔

قربانی کے بعد خلیل بنایا جاتا ہے،

محنت کے بعد مزدوری ملتی ہے،

اور عبادت کے بعد ہی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

یہی خدا کا نظامِ عدل ہے؛ 

جو بندے کو پہلے آزماتا ہے،

پھر اُسے عزت کے مقام پر فائز کرتا ہے۔

اسی اصول کی روشنی میں، اگر آج مولانا عبدُاللہ سالم قمر چتر ویدی صاحب کو سیاسی میدان میں فوری طور پر "صلہ" یا "ٹکٹ" نہیں ملا،

تو یہ کسی ناکامی یا محرومی کی علامت نہیں۔

بلکہ شاید یہ اُس خالقِ کائنات کا فیصلہ ہے

جو اپنے بندوں کے لیے وہی چنتا ہے

جو اُن کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔

مولانا صاحب!۔

آپ نے ہمیشہ دین، ملت اور عوامی بھلائی کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے —

اور جن دلوں میں دوسروں کے درد کی تپش ہو،

اللہ اُنہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

یہ وقت ہم سب کے لیے غور و فکر کا لمحہ ہے —

جو درد آج مولانا کے دل کو چھو گیا ہے،

اسے ہم بھی محسوس کریں۔

مولانا کو طعن و ملامت کا نشانہ نہ بنائیں،

اور ان پر بے جا الزام تراشی سے گریز کریں۔

جو شخص امت کے لیے تڑپ رکھتا ہے،

اسے ہماری زبانوں کے تیر نہیں بلکہ دعاؤں کی چھاؤں درکار ہے۔

دنیا کے فیصلے وقتی ہوتے ہیں،

لیکن ربّ کا فیصلہ ابدی اور بے خطا۔

وہ ربّ جس نے حضرت ابراہیمؑ کو قربانی کے بعد خلیل بنایا،

وہی ربّ آپ کے صبر کو بھی عزت و قبولیت کی چادر اوڑھانے پر قادر ہے۔

ہم سب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عزتیں عہدوں یا ٹکٹوں سے نہیں ملتیں،

بلکہ نیت، اخلاص اور عمل کی بنیاد پر عطا ہوتی ہیں۔

خدا کبھی کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا —

وہ بندے کو وہاں سے نواز دیتا ہے

جہاں سے بندہ سوچ بھی نہیں سکتا۔

لہٰذا، مولانا عبدُاللہ سالم صاحب!

آپ مایوس نہ ہوں —

یہ وقت گزر جائے گا، لیکن آپ کا کردار ہمیشہ باقی رہے گا۔

شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں آپ کے لیے خیر کا دروازہ کھلنے والا ہے۔

اللہ بہتر جاننے والا ہے،

اور وہی اپنے بندوں کے لیے بہترین فیصلہ فرماتا ہے۔

> إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

(بیشک تنگی کے ساتھ آسانی بھی ہے) — [سورہ الشرح: 6]

یہ آیت ہر مایوس دل کے لیے تسکین کا پیغام ہے۔

مشکل کے بعد آسانی آنا وعدۂ الٰہی ہے، اور جو صبر کرتا ہے،

اللہ اس کے لیے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا وہ کبھی گمان بھی نہیں کرتا۔

واللہ اعلم بالصواب

   بقلم محمودالباری

mahmoodulbari342@gmail.com