کیا اسلام میں ویلنٹائن ڈے منانا جائز ہے ؟؟؟
-----------------------------------
ویلنٹائن ڈے کو اکثر محبت کے اظہار کا دن سمجھا جاتا ہے، مگر اہلِ علم کے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ اسلام میں اسے منانا جائز (allowed) ہے یا نہیں۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام میں محبت خود ممنوع نہیں، بلکہ ہر محبت کے لیے حدود (limits) اور ضابطے (rules / regulations) مقرر ہیں۔ والدین، شریکِ حیات، بھائی بہن اور انسانیت کے ساتھ محبت اور احترام کی تعلیم قرآن و سنت میں واضح طور پر موجود ہے۔
مسئلہ اس دن کا یہ ہے کہ یہ اکثر commercial (تجارتی) رنگ میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں محبت کی اصل کیفیت نہیں، بلکہ تحائف، نمائش، اور بعض اوقات غیر اسلامی رسمیں شامل ہوتی ہیں۔
اہلِ علم فرماتے ہیں کہ جو چیز دین کی حدود سے باہر ہو، اور جس کا مقصد صرف دل کی خواہش یا سماجی دباؤ (pressure) ہو، وہ ناجائز (not allowed) ہے۔
یہ دن اکثر ایک دن کی خوشی کے لیے منایا جاتا ہے، اور اس میں ایسے عناصر شامل ہوتے ہیں جو اسلامی اخلاقیات (Islamic morals / اخلاق) کے مخالف ہیں۔
انسانی ذہانت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت کی اصل قدر کردار (character / عمل)، ذمہ داری (responsibility) اور اخلاق (ethics) میں ہے، نہ کہ کسی دن یا غیر ضروری رسم میں۔ جو محبت انسان کو بہتر بنائے، صبر و وفاداری سکھائے، اور حدود کی پاسداری کرائے، وہی حقیقی اور قابلِ قدر محبت ہے۔
لہٰذا اہلِ علم کا موقف یہ ہے:
ویلنٹائن ڈے کی رسم کو اسلام میں منانا مناسب نہیں، خاص طور پر وہ انداز جو غیر اسلامی یا اخلاقی حدود سے تجاوز کرے۔
نوجوان نسل کو چاہیے کہ محبت کو عمل، خدمت، احترام اور اخلاق کے ذریعے ظاہر کریں، نہ کہ ایک تجارتی دن کے ذریعے۔
آخری بات یہ کہ محبت محسوس (feel) کی جاتی ہے، دکھائی نہیں جاتی؛ اور جو صرف دکھائی جائے، وہ اکثر فتنے (temptation / trial) کا ذریعہ بنتی ہے۔
❓ سوچنے کی بات: اگر آپ کی محبت آپ کو بہتر انسان بنانے کے بجائے محدود خوشیوں اور دکھاوے میں پھنسائے، کیا وہ واقعی محبت ہے یا ایک فریب؟
دعا:
اے ربّ العزت!
ہمیں علم و شعور عطا فرما، ہمارے دلوں کو روشن کر، اور ہمیں محبت کی وہ روشنی دکھا جس سے ہم اپنے کردار کو بہتر بنائیں اور سماج میں مثبت اثر ڈالیں۔ آمین! 🌿