تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی

انسانی زندگی مختلف مراحل اور کیفیات کا مجموعہ ہے۔ جوانی کا دور جہاں توانائی اور عزم و حوصلے کا نام ہے، وہاں یہ دور شدید جذباتی اور جسمانی تقاضوں سے بھی عبارت ہے۔ ایک نوجوان جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، تو اس کے اندر فطری طور پر سکون، محبت اور کسی شریکِ حیات کی قربت کی خواہش جنم لیتی ہے۔ یہ خواہش نہ تو گناہ ہے اور نہ ہی کوئی عیب، بلکہ یہ عینِ فطرت ہے جسے خالقِ کائنات نے انسان کے اندر نسلِ انسانی کی بقا اور قلبی سکون کے لیے رکھا ہے۔

جذبات کی کشمکش اور معاشرتی حیا

ہمارے معاشرے میں مذہبی یا علمی پس منظر رکھنے والے نوجوان اکثر ایک دوہری کشمکش کا شکار رہتے ہیں۔ ایک طرف ان کے اندر کے فطری تقاضے ہوتے ہیں اور دوسری طرف حیا اور منصب کا پاس۔ جب یہ جذبات شدت اختیار کرتے ہیں اور کوئی جائز راستہ نظر نہیں آتا، تو انسان ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں شرم و حیا کی وجہ سے بات نہ کر پانا ذہنی الجھن کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے، حیا ایمان کا حصہ ہے، مگر اپنی جائز ضرورت کے لیے آواز اٹھانا بے حیائی نہیں بلکہ خود کو فتنے سے بچانے کا ایک ذریعہ ہے۔

نکاح: فطری ضرورت کا شرعی حل

اسلام نے انسانی فطرت کو دبانے کے بجائے اسے ایک خوبصورت رخ دیا ہے، اور وہ ہے نکاح۔ قرآن و حدیث میں نکاح کو "نصف ایمان" اور "نظر کی حفاظت" کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اگر ایک نوجوان محسوس کرتا ہے کہ اس کے جذبات اسے بے چین کر رہے ہیں، تو اسے چاہیے کہ وہ پوری ہمت اور وقار کے ساتھ اپنے بڑوں سے اس کا ذکر کرے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر شرمندہ ہوا جائے، بلکہ یہ ایک ذمہ دار انسان کی نشانی ہے جو اپنی زندگی کو پاکیزہ رکھنا چاہتا ہے۔

بے چینی کا علاج اور عملی تدابیر

جب تک نکاح کے اسباب فراہم نہیں ہوتے، ایک نوجوان کو چند اہم امور پر توجہ دینی چاہیے:

صبر اور روزہ: جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ روزہ خواہشات کو قابو میں رکھنے کی ڈھال ہے۔

توجہ کا رخ موڑنا: اپنے علمی مشاغل، تحریر و تصنیف (جیسے "صدائے قلم") اور مسجد و مدرسے کی ذمہ داریوں میں خود کو اتنا غرق کر دیں کہ لاحاصل خیالات کو جگہ نہ ملے۔

تنہائی سے گریز: تنہائی ان خیالات کی آبیاری کرتی ہے۔ کوشش کریں کہ ہمیشہ باوضو رہیں اور ذکرِ الٰہی سے دل کو منور رکھیں۔

حاصلِ کلام

پریشانی اور گھبراہٹ مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ اپنی کیفیت کو اللہ کے سامنے پیش کریں اور دعا مانگیں کہ وہ آپ کے لیے حلال راستے آسان فرمائے۔ آپ کا منصب آپ کے لیے ایک ڈھال ہونا چاہیے، بوجھ نہیں۔ اپنی اس فطری خواہش کو ایک مثبت قوت میں بدلیں اور جلد از جلد شادی کی کوششوں کو عملی جامہ پہنائیں۔ پاکیزگی کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر اس کا اجر بہت عظیم ہے۔