صوبۂ بہار کا پسماندہ علاقہ سیمانچل کے ساتھ AIMIM کا دو رخی والا رویہ


سیمانچل — وہ خطہ ہے جو قدرتی حسن، زرخیز زمین اور جفاکش عوام کا گہوارہ ہے، مگر سیاسی بے توجہی اور اقتصادی ناانصافی نے اسے صدیوں پیچھے دھکیل رکھا ہے۔ یہ وہ زمین ہے جہاں خواب تو ہر آنکھ میں پلتے ہیں، مگر تعبیر کا سورج کبھی پوری طرح طلوع نہیں ہو پاتا۔


اسی خطے کے نام پر آج کئی سیاسی پارٹیاں نعرے لگاتی ہیں، وعدے کرتی ہیں، اور خود کو ’’سیمانچل کی آواز‘‘ بتاتی ہیں۔ انہی میں ایک نام AIMIM کا بھی ہے، جو بظاہر سیمانچل کے لیے چیخ چیخ کر بولتی ہے، مگر جب فیصلہ کن موقع آتا ہے تو اس کی پالیسیوں کا رخ کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔


زبان پر “ترقی”، “حقوق”، “نمائندگی” کے الفاظ ہوتے ہیں، مگر ہاتھ میں ٹکٹ اُس شخص کا ہوتا ہے جو پارٹی فنڈ میں نوٹوں کی بارش کرے۔ وہ نہیں جس نے اپنی جوانی سیمانچل کے گلی کوچوں میں تعلیم، انصاف، اور بیداری کے لیے لگا دی۔

کیا یہی سیاسی خدمت ہے؟

کیا عوامی نمائندگی صرف دولت مندوں کا حق ہے؟


یہ سوال ہر اس باضمیر شخص کے دل میں اٹھتا ہے جو سیمانچل کی دھرتی سے محبت رکھتا ہے۔

جس علاقے میں آج بھی اسپتالوں میں دوائیں کم، مگر بیمار زیادہ ہیں…

جہاں اسکولوں میں عمارتیں خستہ ہیں، مگر طلبہ کے خواب بلند…

جہاں نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہیں، مگر ان کے حوصلے زندہ ہیں —

وہاں کے لیے صرف نعرے کافی نہیں، بلکہ مخلص قیادت درکار ہے۔


اگر انتخابی ٹکٹ صرف دولت کی بنیاد پر بانٹے جائیں گے، تو پھر انتخابی کامیابی عوامی فلاح نہیں بلکہ ذاتی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہوگی۔ اور جو سرمایہ سے آیا ہے، وہ خدمت کے جذبے سے نہیں بلکہ منافع کے حساب سے سیاست کرے گا۔


سیمانچل کے عوام کو اب آنکھیں کھولنی ہوں گی۔

انہیں سمجھنا ہوگا کہ ترقی کے خواب ان رہنماؤں کے دم سے نہیں پورے ہوں گے جو صرف مائیک پر بولتے ہیں، بلکہ ان کے ہاتھوں جنہوں نے خاک و پسینے میں رہ کر اپنی قوم کے لیے جینا سیکھا ہے۔


سیاست وہی معتبر ہے جس میں خدمت سرمایہ ہو، اور عوام کا درد منشور۔

ورنہ یہ دو رخی سیاست سیمانچل کو پھر ایک بار نعروں کے سہارے محرومیوں کے اندھیروں میں دھکیل دے گی۔


محمد ریاض مسیح