(35)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

سیمانچل کی سیاست؛ قیادت کا امتحان یا ضمیر کا سودا؟

_________-_______

سیمانچل کی سیاست ہمیشہ سے جذبات، وابستگی اور محرومی کے گرد گھومتی رہی ہے۔

یہ خطہ جس نے علم و عرفان کے چراغ جلائے، قربانیوں کی تاریخ رقم کی، آج ایک بار پھر سیاسی سوداگروں کے ہاتھوں تماشہ بنا ہوا ہے۔

گزشتہ چند دنوں کی سیاسی پیش رفت نے عوام کے دلوں میں ایک عجیب سا اضطراب پیدا کر دیا ہے۔

ایک طرف وہ عالمِ دین (مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی) صاحب جو برسوں سے اپنی وفاداری، محنت اور دیانت کے ذریعے عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتے رہے، جنہوں نے گلی کوچوں میں پارٹی کا پرچم بلند رکھا، ان کو پھر ایک بار نظر انداز کر دیا گیا۔

اور دوسری جانب ایک ایسا چہرہ — جو دولت و دبدبے کے زور پر ابھارا گیا — پھول مالاؤں کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔

سوال یہ ہے کہ آخر کب تک سیمانچل کے محنتی، باصلاحیت اور باکردار لوگ محض تالی بجانے اور جھنڈا اٹھانے تک محدود رہیں گے؟

کب تک سیاسی جماعتیں قربانی دینے والوں کو بھلا کر سرمایہ داروں کے قدم چومتی رہیں گی؟

یہ کہنا آسان ہے کہ ”پارٹیاں ٹکٹ دیتی نہیں، بیچتی ہیں“ — مگر اس سچائی کا اعتراف کرنے کے بعد بھی اگر کوئی جماعت خود کو اصولوں کی جماعت کہلائے، تو یہ تضاد نہیں، منافقت ہے۔

اگر قیادت کا مطلب صرف چمک دمک، طاقت، اور چند مالدار چہروں کا کھیل ہے تو پھر ایسی قیادت قوم کے لیے نہیں، اپنے مفاد کے لیے زندہ ہے۔

مجلس نے جس انداز سے ایک بار پھر ایک وفادار اور نڈر عالمِ دین (مولانا عبد اللہ سالم قمر چتر ویدی) صاحب کو سائڈ لائن کیا ہے، وہ صرف ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ پورے سیمانچل کے باشعور عوام کی توہین ہے۔

یہ وہی عوام ہیں جنہوں نے پچھلے انتخابات میں محبت، خلوص اور ایمان داری کے ساتھ مجلس کو کندھوں پر اٹھایا تھا۔

لیکن آج انہی دلوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سیاست کا اصل مقصد اقتدار نہیں، خدمت ہے۔

جب قیادت محض ٹکٹ کی تقسیم تک محدود ہو جائے، اور کردار و قربانی کی قدر ختم ہو جائے، تو وہ جماعت عوام کے دلوں سے بھی نکل جاتی ہے۔

مولانا جیسے اہل اور بےلوث قائدین کو حاشیے پر ڈال دینا کسی بھی جماعت کے مستقبل کے لیے نیک شگون نہیں۔

اگر عوام واقعی ان کی محنت اور حقانیت کو محسوس کرتے ہیں تو اب وقت ہے کہ وہ خود میدان میں اتریں — مولانا کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے سامنے لائیں۔

اور اس کے لیے عملی کوشش کریں، مولانا عبد اللہ سالم قمر چتر ویدی صاحب کو مایوس ہونے نہ دیں؛

بلکہ سیمانچل کے عوام و خواص آگے بڑھ کر مولانا کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے جتوانے کی بھرپور سعی کریں۔

کیونکہ جو نظام حقداروں کو حق نہیں دیتا، وہ نظام باقی رہنے کے قابل نہیں۔

سیمانچل کے باشعور نوجوانو!

تمہارا کردار اب صرف ووٹ دینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

سوال کرو، بولنے کی ہمت پیدا کرو، اور ان سے حساب لو جو تمہارے جذبے اور یقین کا کاروبار کرتے ہیں۔

قیادت وہ نہیں جو نعرے لگوائے — قیادت وہ ہے جو دل جیتے، اصول پر ڈٹے، اور حق گوئی کی قیمت چکانے کو تیار رہے۔

اور آخر میں —

اگر قیادت اندھی ہو جائے، تو مخلص کارکنوں کا خاموش رہنا جرم ہے۔

اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے 

تم اپنی آنکھوں سے دیکھو گے، یا کسی کی جیب سے؟

  بقلم محمودالباری

Mahmoodulbari342@gmail.com