(مضمون) 9

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

_________-_______

نوجوانوں میں گیم جُوا کا بڑھتا ہوا رجحان

_________________

(بقلم: محمودالباری mahmoodulbari342@gmail.com. 8292552391 )

_________________

الحمدللہ! دینِ اسلام نے وقت کی اہمیت اور اس کے درست استعمال کی تعلیم دی ہے۔

،.، آج کا بگڑتا ہوا معاشرہ،، 

ہمارے نوجوان، جو قوم کا سرمایہ ہیں، آج سڑکوں، پارکوں اور موبائل فون پر وقت ضائع کر رہے ہیں۔ خاص طور پر گیم جوا (Online Gaming & Gambling) ایک ایسی لعنت بن چکا ہے جس نے ہزاروں گھروں کو برباد کر دیا ہے۔

 ،، گیم جوا اور اسلام،، 

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

> "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"

(المائدہ: 90)

ترجمہ: "اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور فال نکالنے کے تیر یہ سب شیطانی کام ہیں، ان سے بچو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔"

، ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "جس نے نرد (جوا کھیلنے) کا کھیل کھیلا، گویا اس نے اپنے ہاتھ کو خنزیر کے خون اور گوشت میں ڈالا۔"

(صحیح مسلم)

 ،، گیم جوا کے نقصانات،، 

1. وقت کا ضیاع – گھنٹوں موبائل پر کھیل کر نوجوان اپنی تعلیم و عبادت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

2. ذہنی و اخلاقی تباہی – جوا جیتنے پر غرور اور ہارنے پر ڈپریشن، جھگڑے اور حسد پیدا ہوتے ہیں۔

3. مالی نقصان – کئی بچے والدین کے پیسے چُرا کر یا قرض لے کر یہ گیم کھیلتے ہیں۔

4. گھریلو بربادی – اس لت کی وجہ سے والدین کی عزت خاک میں ملتی ہے اور مستقبل برباد ہو جاتا ہے۔

  ،، اقوالِ زریں،، 

حضرت علیؓ فرماتے ہیں:

"فرصت کو غنیمت جانو اس سے پہلے کہ مصروفیت آ جائے۔"

حسن بصریؒ نے فرمایا:

"اے ابنِ آدم! تم بس چند دنوں کا مجموعہ ہو، جب ایک دن جاتا ہے تو تمہاری زندگی کا ایک حصہ ختم ہو جاتا ہے۔"

  ، ،عبرت آموز واقعہ،، 

ایک نوجوان، جو گیم جوا میں مشغول رہتا تھا، تعلیم میں ناکام ہوا، والدین سے بدکلامی کرنے لگا اور بالآخر جرائم میں ملوث ہو گیا۔ والدین نے افسوس کے ساتھ کہا:

"ہم نے سمجھانے کے بجائے خود اس کو موبائل اور گیم میں لگا دیا، آج وہ ہم سے بھی دور اور اللہ سے بھی دور ہو گیا۔"

      ، ،نتیجہ،، 

ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ:

وقت ضائع کرنے والا گیم جوا صرف دنیا ہی نہیں، آخرت میں بھی بربادی کا باعث ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کھیل کے نام پر جوا اور قماربازی سے روکیں۔

   ، خلاصہ:

وقت سونا نہیں بلکہ سونے سے بھی قیمتی ہے۔ ہمارے اسلاف نے وقت کی قدر کر کے آسمان کی بلندی حاصل کی۔ اگر آج کے نوجوان گیم جوا جیسی لعنت سے باز نہ آئے تو وہ دنیا میں ناکام اور آخرت میں خائب و خاسر ہوں گے۔

، اللہ ہم سب کو اور ہماری اور امت کے تمام نسلوں کو اس بلا سے محفوظ رکھے، 

     آمین ثم آمین