*ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور مسلمانوں کی تباہی*
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
فجاءتہ احدھماتمشی علی استحیاء
لکل دین خلق۔خلق الاسلام الحیاء
اوکماقال علیہ الصلوٰۃ والسلام
صدہا شکرواحسان ہے کہ اللہ نے ہمیں مسلمان بنایا کتاب حکمت عطاء فرمائی اور اخلاق والے پیارے رسول عطاء فرمائے جو ہمیں جینے کا ڈھنگ و شعور لے آئے ساری دنیا کو اسوۃ حسنہ سے چمکادیے ہر قسم کے ظلم و جبر کو مٹا دیے اور نورونکہت سے جگمگاہٹ پیدا کردی یاد رکھیے ہم مسلمانوں کو مقصد خلقت جاننے کی ضرورت ہے انسان ہونے کی کیا خوبی ہے اس کو پہچاننے کی ضرورت ہے ہمارے مسلمان ہونے کا مقصد کیاہے ؟ اللّٰہ پاک ہم مسلمانوں کو پاکیزہ مذہب عطاء فرمایا پاک کتاب عطاء فرمائی جس کے اندر انسانی ضروریات و تقاضوں کوملحوظ رکھتے ہوئے روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے تمام مسائل کو ذکر فرمایا ٢٤ گھنٹوں والی زندگی کے درپیش مسائل و ضرویات کی ہدایات بتائی کہ کتنی نمازیں پڑھنے چاہیے وضو کیسا کرنا چاہیے غسل کیسا کرنا چاہیے پانی نہ تو تیمم کیسے کرنا چاہیے ماں اپنے نو مولود کو کتنی مدت تک دودھ پلانا چاہیے نکاح کس سے کرنا چاہیے حج کب اور کیسے کرنا چاہیے کیسے کمانا چاہیے کتنا ۔ کب ۔ اور کہاں خرچ کرنا چاہیے روزہ کسے کہتے ہیں بیمار کوروزے کا فدیہ کیسے ادا کریں ۔ مسافر روزے کو مؤخر کریں والدین کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھیں علماء کسے کہتے تمام تر چیزیں قرآن مجید میں مذکور ہیں پھر اسی کتاب میں کتاب کا تعارف کیا گیا نبی کا تعارف کیا گیا نیک بندوں کے پہچان کرائی گئی فاسق بندوں کا انجام بتایا گیا میری ماؤں اور بہنوں یاد رکھیے ! کتاب ہدایت کا نزول نبی کی بعثت کا مقصد صحابہ کی تربیت یافتہ جماعت ہم انسانوں کے باعث نصیحت اور بڑی رہنمائی کے لئے کافی ہے تب بھی ہم مسلمان غفلت میں ہے تب بھی ہماسام جیسے پاکیزہ مذہب کی ناقدری کرتے ہیں قرآن سے غافل ہیں حدیث سے ناواقف ہیں نماز کے بارے میں لاپرواہی کرتے ہیں ان تمام بد تہذیبیوں پر ہممسلمان پستیوں کا شکار نہوں تو اور کیا ہوں گے ہممصائب مڑے تو اور کہاں جائیں گے اور ہم عزت کے بجائے ذلیمت کے مستحق کیوں ہورہے ہیں ۔۔۔ اس کا جائزہ خود لیں
اپنا نتیجہ خود نکالیں ۔۔۔۔ ہم کامیابی کے بجائے ناکام کیوں ہورہے ہیں
میرے ماؤں اور بہنوں خداکے دستور کو سمجھو خدا کے قانون کو سمجھو جو چھوٹی چھوٹی نیکی پر بڑے بڑے اجر دینے والی رحیم ذات سے رشتہ قائم کرو *خدارا خدارا* اللّٰہ کے غضب سے بچو ہماری بچیوں کو قرآن مجید کی تعلیم دو آج کے بے حیاء ماحول سے اپنے آپ کو اپنے اولاد کو دور رکھو آج کے نازک ترین حالات میں سمیٹ کر چلو آج کے فتن پرور گھڑیوں میں پھونک پھونک کر قدم رکھو کیونکہ ہم حیاوالے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں حیاء والے نبی سے تعلق رکھتے ہیں حیاء والی کتاب سے تعلق رکھتے ہیں اپنے حیاء اور حیادار مذہب کہ تھاملو اپنی قیمت مت گھٹاؤ بے حیاء ڈے ویلنٹائن ڈے ہماری تعلیم میں نہیں ہے
بے حیاء ڈے ویلنٹائن ڈے ہماری تہذیب میں نہیں ہے
بے حیاء ڈے ویلنٹائن ڈے ہمارے کلچر میں نہیں ہے
بے حیاء ڈے ویلنٹائن ڈے ہماری قرآن میں نہیں ہے
بےحیاء ڈے ویلنٹائن ڈے ہماری حدیث میں نہیں ہے
بے حیاء ڈے ویلنٹائن ڈے اسلامی تاریخ میں نہیں ہے
بے حیاء ڈے ویلنٹائن ڈے سیرت نبوی میں نہیں ہے
بے حیاء ڈے ویلنٹائن ڈے ہماری تربیت میں نہیں ہے
بے حیاء ڈے ویلنٹائن ڈے نہ میری ماں نے منایا نہ میرے باپ نے منایا آخر یہ ڈے آیا تو کہاں سے آیا اس کا پس منظر کیا ہے اس کی حقیقت کیا اس بائے گراؤنڈ کیا ہے جانیے سمجھیے عقلوں کو اندھے پن سے بچائیے اور آنکھ کھول کر اس گندی دنیا کو پہچانیے!
میری پیاری ماؤں بہنوں؛ میں آپ کو اس کی حقیقت بتاتی ہوں گر آپ شرم والے ہوں حیاہ والے ہون ایمان والے ہوں قرآن والے ہوں تو سنتے ہی آپ کی روح کانپ اٹھے گی کہ آپ کس بے حیاء کی بے حیائی تو رنگ دے رہے ہیں اور اپنی عزت خاک میں ملا رہے ہیں ویلنٹائن کون تھا تیسری صدی عیسوی کا ایک عیسائی پادری شخص تھا جس کا نام ویلنٹائن تھا وہ پادری ایک پادری خاتون سے عشق بازی لڑائی اس کے بعد اس نے پادری خاتون سے قربت حاصل کرنے کے لئے منگھڑت خواب اس طرح سنایا کہ دیکھو معشوقہ 14 فروری ہمارے لیے مقدس دن ہے ہم عاشق معشوق اس دن قربت کریں تو کوئی جرم نہیں ہوا یہ کہ وہ دونوں ادکاری کربیٹھے اور لوگوں نے ان دونوں کو اس جرم کے سزا میں قتل کرڈالے جس جرم عظیم کے بدلے وہ قتل کیے گئے اس سزا کو اس قتل کو یہ اندھی دنیا اور اندھے لوگ ناسمجھ لوگ پاگل لوگ بیوقوف لوگ بے حیاء لوگ بدتمیز لوگ شہید محبت کا نام دیتے ہیں اور اسی ادکاری کے یاد میں اسی بدکار کے یاد میں 14فروری کو سلیریٹ کرتے ہیں بڑا اہتمام کرتے ہیں اللّٰہ کے نبی کا فرمان ہے کہ کس شخص کا غیر محرم کے ہاتھ میں ہاتھ دینےسے اس کے سر پر کیل تھوکنا بہتر ہے ہم تو پورا جسم دے رہے ہیں اس سے تو بہتر ہے کہ ہم اپاہج رہے ہم لولے لنگڑے اندھے معذور رہے پاگل مینٹل رہے جسے دنیا شہوت کی نگاہ سے نہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہو
اور اس پر کوئی گناہ نہ لکھا جاتا ہو ۔
یاد رکھو جو بھی بے حیاء ہوتا ہے وہ خدایا کے نظر سے گرجاتا ہے اور جب کوئی غیر شرعی امر میں حدپار ہوجاتی ہے تو خداکے قہر کو انویٹ میسیج جاتا ہے ایسے بے حیاہ لوگوں کے تباہی کے دن دور نہیں اللّٰہ کی ڈھیل کو غنیمت سمجھو غفلت میں مت پڑو خدارا سنبھل جاؤ سنبھل جاؤ ہوش میں آجاؤ مسلمان کو چاہیے کے اپنا کردار بچائے اپنا کردار سربلند رکھے اپنے پاکیزہ کردار سے انقلاب برپا کرے کیونکہ کتاب ہدایت قرآن مجید مسلمانوں کی کتاب ہے کتاب کہتی ہے کہ ان فی ذلک لایت لقوم یوقنون
اس کتاب میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ بھی حیا کرتا ہے حیاء بندوں کو بھی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اسلام کی فطرت کو تسلیم کرلو اللّٰہ کے قریب ہوجاؤ ہمیں اس غلیظ ترین دور میں کیا کرنا چاہیے یہ جاننے کی ضرورت ہے اسکول کالج سے زیادہ ماں کی محبت بھری آنچل بات کی شفقت بھرے سایہ میں اولاد کو پناہ دینے کی ضرورت ہے گود سے اسلامی تربیت کی ضرورت ہے بچوں کو قرآن کا عادی بنائیں
بچوں کو نماز کا عادی بنائیں
بچوں کو سیرت رسول سنائیں
بچوں کو سیرت صحابہ سنائیں
بچوں کو سیرت فاطمۃ الزہراء سنائیں
بچوں کو اللہ کی محبت سمجھائیں
بچوں کو رسول کی محبت سمجھائیں
بچوں میں دینے خذبہ پیدا فرمائیں
یاد رکھو یہ دور قرآن سے چمٹے رہنے کا دور ہے دامن مصطفی میں پناہ لینے کا دور ہے اسلام کے قلعہ میں داخل ہونے کا دور ہے جان کی حفاظت کرلو مال کی حفاظت کرلو عزت و آبرو کی حفاظت کرلو اگر نفس یعنی جانگ و خواہشات پر لگادیا مال غلط جگہ صرف کردیا عزت غیر کو دے بیٹھے تو اب ایمان کہاں باقی رہا ایمان کا ٹھکانہ کہاں بناؤ گے پاکیزہ دل رہا تو ایمان رہے گا مال رہا تو ایمان کو مال سے بھی بچا جاسکتا ہے عزت رہی تو بھی ایمان کو عزت سے بچاجاسکتا ہے ایمان کی بقاء ان سب کے بقاء میں مضمر ہے جو اپنے سامان کی حفاظت نہیں کرسکتا وہ اپنے ایمان کی حفاظت بھی نہیں کرسکتا ۔۔۔
اللّٰہ پاک ہمیں سچا مسلمان بنائے پکا ایمان عطاء فرمائے آمین جزاک اللّہ
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
*از قلم : فردوس جہاں مظاہری*
*14فروری 2024 / بشب بدھ / ١:١٢ بجے*
*مدرسہ ھبۃ الرحمن للبنات*
*9676566692*