ترستے ہوئے مجبور لوگ - شور سے پہلے سہارا'
بسم اللہ الرحمن الرحیم. مضمون (85)
انسان کی سب سے بڑی محرومی بھوک نہیں؛ تنہائی ہے۔ سب سے خطرناک غربت فاقہ نہیں، بے توجہی ہے۔ آج بہت سے لوگ ایسے ہیں جو فٹ پاتھ پر نہیں، بلکہ پکے گھروں میں رہتے ہیں، جن کے پاس چھت بھی ہے، لباس بھی، سہولتیں بھی، مگر دل کے اندر ایک ایسا خلا ہے جو کسی چیز سے نہیں بھرتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بھیڑ میں رہ کر بھی اکیلے ہیں، ہنستے ہوئے نظر آتے ہیں مگر اندر سے ٹوٹے ہوتے ہیں، بولتے بہت ہیں مگر سنے نہیں جاتے۔
ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہاتھوں میں موبائل ہیں مگر دل خالی ہیں، جہاں ہر کسی کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ گفتگو بڑھ گئی ہے مگر سمجھ کم ہو گئی ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج سب سے نایاب چیز. ؛؛ سمجھ ؛؛ ہے، اور سب سے زیادہ جو شے ترس رہی ہے وہ ؛؛ انسانی روح ؛؛ ہے۔
ترستے ہوئے لوگ ہمیشہ فریاد نہیں کرتے۔ وہ شور نہیں مچاتے، وہ احتجاج نہیں کرتے، وہ مانگتے بھی نہیں - وہ بس آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ ان کی خاموشی کو ہم وقار سمجھ لیتے ہیں، ان کے صبر کو ہم مضبوطی، حالانکہ حقیقت میں وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایک ایسا ہو جو بغیر نصیحت دیے، بغیر حل بتائے، صرف اتنا کہہ دے:
؛؛ میں تمہیں سمجھ رہا ہوں۔؛؛ 
انسان کی سب سے بڑی بھوک تعریف کی نہیں بلکہ قبولیت کی ہے۔ سب سے بڑی پیاس دولت کی نہیں بلکہ قدر کی ہے۔ اور سب سے بڑی کمی شہرت کی نہیں بلکہ محبت کی ہے۔ مگر ہم نے رشتوں کو سہولت بنا لیا ہے: فائدہ ہو تو تعلق، بوجھ ہو تو کنارہ۔ دل خوش ہو تو یاد، مصروف ہوں تو فراموش۔ پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ لوگ بے حس ہو گئے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خود حس کو بوجھ سمجھ لیا ہے۔ 
اسی بے حسی کی سب سے تلخ شکل ہماری نوجوان نسل کے ساتھ نظر آتی ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں جو حلال راستے سے زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں، نکاح کے لیے ترستے ہیں، مگر سماج دین داری کے بجائے ان کے سامنے جہیز، رسم و رواج، حیثیت، خاندان، ذات پات اور نہ جانے کن کن دیواروں کی فہرست رکھ دیتا ہے۔ لڑکی بالغ ہو جاتی ہے مگر "موزوں رشتہ" نہیں ملتا۔ لڑکا ذمہ داری اٹھانا چاہتا ہے مگر "ابھی اس قابل نہیں" کہہ کر اسے روک دیا جاتا ہے۔
پھر جب انتظار طویل ہو جاتا ہے، صبر ٹوٹنے لگتا ہے، اور کوئی کمزوری سرزد ہو جاتی ہے - تو وہی سماج جو کل خاموش تھا آج سب سے پہلے چیخنے لگتا ہے:
؛؛ مسلمان بدنام ہو گئے! ؛؛ 
؛؛ نوجوان نسل بگڑ گئی! ؛؛ 
؛؛ اخلاق ختم ہو گئے! ؛؛ 
مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جب یہ ترس رہے تھے، تو ہم کہاں تھے؟
جب یہ نکاح کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے، تو ہم نے کیا سہارا دیا؟
ہم نے پہلے راستہ بند کیا، پھر گرنے پر شور مچایا۔
ہم نے پہلے مدد نہیں دی، پھر کمزوری پر فتوے لگا دیے۔
یہی رویہ غریب گھروں کے ساتھ بھی ہے۔ جب کسی خاندان کو واقعی ضرورت ہوتی ہے--علاج کی، تعلیم کی، روزگار کی، یا بیٹی کی شادی کی—تو سماج اکثر نظریں چرا لیتا ہے۔ مگر جب وہی خاندان کسی مجبوری میں غلط قدم اٹھا لے تو سب سے پہلے یہی سماج طعنے دیتا ہے، لیبل لگاتا ہے، کردار کشی کرتا ہے۔
مدد کے وقت خاموشی، اور لغزش پر شور-- یہی ہمارے سماج کی سب سے بڑی منافقت ہے۔ ہم لوگوں کو گرتا ہوا دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، مگر سنبھالتے ہوئے دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ ہم دوسروں کی کمزوری پر انگلی اٹھانے میں ماہر ہیں، مگر اپنی بے حسی کو ماننے سے گھبراتے ہیں۔
اصل مسئلہ نوجوانوں کا نہیں،
اصل مسئلہ غربت کا نہیں،
اصل مسئلہ حالات کا بھی نہیں-
اصل مسئلہ ہمارا اجتماعی رویہ ہے۔
ہم نے گناہ کو آسان اور نکاح کو مشکل بنا دیا۔ ہم نے مدد کو بوجھ اور الزام کو فرض بنا دیا۔ ہم نے انسان کو تنہا چھوڑ دیا، پھر اس کی تنہائی پر تبصرے کیے۔
ترستے ہوئے لوگ دراصل ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ مسئلہ صرف ان کا نہیں، مسئلہ ہماری جلد بازی، ہماری خودغرضی اور ہماری بے توجہی ہے 
کسی کو سمجھنے کے لیے عالم ہونا ضروری نہیں، انسان ہونا کافی ہے۔
کسی کے کام آنے کے لیے طاقتور ہونا ضروری نہیں، مخلص ہونا کافی ہے۔
اور کسی کے دل کو بھرنے کے لیے دولت نہیں چاہیے، صرف تھوڑا سا وقت، تھوڑی سی توجہ، اور سچی سی نیت کافی ہے۔
کیونکہ جو آج ترس رہا ہے،کل شاید ہم خود اسی صف میں کھڑے ہوں۔اور یاد رکھیے: اگر ہم نے آج کسی کا ہاتھ تھام لیا،
تو کل ہمیں اس کے گرنے پر شور مچانے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com