تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی 

انسان کی کامیابی کا دارومدار صرف مادی ترقی پر نہیں بلکہ اس کے روحانی اور اخلاقی بیدار ہونے پر ہے۔ آج ہمارا معاشرہ جس بے چینی اور افراتفری کا شکار ہے، اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو دوبارہ مسجد اور گھر کے دینی ماحول سے جوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی فلاح اپنے احکامات اور نبی کریم ﷺ کے مبارک طریقے میں رکھی ہے۔

مسجد: ہدایت کا مرکز

مسجد صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی جگہ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلمانوں کی تربیت گاہ ہے۔ جب ایک مسلمان مسجد سے جڑتا ہے، تو اس کے دل میں اللہ کی بڑائی اور مخلوق کی ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ مسجد وہ جگہ ہے جہاں امیر و غریب ایک صف میں کھڑے ہو کر مساوات کا درس دیتے ہیں۔ اگر ہماری مسجدیں آباد ہو جائیں اور ہمارا رشتہ خالقِ کائنات سے مضبوط ہو جائے، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مغلوب نہیں کر سکتی۔ مسجد سے جڑنے کا مطلب ہے اللہ کی رحمت کے سائے میں آ جانا۔

گھر: تربیت کا گہوارہ

مسجد کے بعد دوسری اہم جگہ ہمارا گھر ہے۔ آج ہمارے گھروں سے سکون اس لیے رخصت ہو رہا ہے کیونکہ ہم نے گھروں کو صرف آرام گاہ بنا لیا ہے، تربیت گاہ نہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں دین پر قائم رہیں، تو ہمیں اپنے گھروں میں "تعلیم کا حلقہ" قائم کرنا ہوگا۔ جب گھر میں روزانہ قال اللہ اور قال الرسول ﷺ کی صدائیں گونجیں گی، تو وہاں سے بے برکتی اور لڑائی جھگڑے ختم ہوں گے اور رحمت کے فرشتے ڈیرے ڈالیں گے۔

دعوت و تبلیغ کی ضرورت

دین کی یہ باتیں صرف جان لینے تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ انہیں دوسروں تک پہنچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ "دعوت و تبلیغ" کا مقصد یہی ہے کہ ہم خود بھی ان صفات کو اپنائیں اور دوسروں کو بھی پیار سے اللہ کی طرف بلائیں۔ جب ہم اللہ کے دین کے لیے وقت نکال کر نکلتے ہیں، تو اللہ ہمارے ذاتی کاموں میں برکت عطا فرماتا ہے۔

خلاصہ کلام

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی اصلاح کی فکر کریں۔ پانچ وقت کی نماز مسجد میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام کریں اور اپنے گھروں میں دینی تعلیم کا ماحول بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں عزت اور آخرت میں ابدی کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ اللہ ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔