*اپنے بچوں کو نالائق اور ناکارہ سمجھنا چھوڑ دیجیے*
اولاد اللہ کی طرف سے عطا کردہ وہ مقدس امانت ہے جس کی تعمیر الفاظ سے کم اور رویّوں سے زیادہ ہوتی ہے،بچے وہی بن جاتے ہیں جو ہم انہیں سمجھاتے اور بار بار باور کراتے ہیں، اگر ان کے حصّے میں نالائق جیسے لفظ آئیں تو وہ خود کو واقعی نالائق سمجھنے لگتے ہیں، اور اگر ان پر اعتماد کیا جائے تو زمانے کی نگاہیں ان کی بلندیوں کو محض حیرت سے دیکھتی رہ جاتی ہیں، جن بچوں کے ساتھ حوصلہ دینے والے والدین کھڑے ہوں، وہ پوری دنیا کو اپنے قدموں میں لانے کے خواب دیکھتے ہیں، کیونکہ والدین کی پشت پناہی ایک ایسا عظیم سرمایہ ہے جو کسی خزانے سے کم نہیں،جب ماں باپ حوصلہ دیتے ہیں تو بچے کامیابی کی دہلیز پر چڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، ان کی آنکھوں میں یقین اور قدموں میں استقامت آ جاتی ہے، لیکن اس کے برعکس جب والدین ہی بچے کی شخصیت کے قاتل بن جائیں، جب بات بات پر طعنہ، ملامت اور نااُمیدی اس کے حصّے میں آئے، جب اسے بار بار ڈسکریج کیا جائے، تو وہ ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف بڑھنے لگتا ہے، رفتہ رفتہ اس کے حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں، اعتماد بکھر جاتا ہے اور بعض اوقات یہ زوال اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ خود کو زندگی کے اندھیرے کنارے، یعنی خودکشی کے دہانے پر کھڑا پاتا ہے،یہ کوئی فرضی بات نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کا میں خود عینی شاہد ہوں۔
کچھ سال پہلے میں اپنے علاقے کے ایک بھائی کو پڑھایا کرتا تھا، وہ ایک مقامی کالج کے طالب علم تھے،اللہ نے انہیں محنت کی توفیق دی، انہوں نے امتحان پاس کیا، میں نے انہیں قرآنِ کریم اور کچھ اردو کتب پڑھائیں بعد ازاں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا امتحان دیا اور وہاں بھی کامیابی حاصل کی، پھر انہوں نے مزید کورسز کیے اور بڑے خواب کے ساتھ ایم بی بی ایس کی تیاری شروع کر دی،انہوں نے دن رات محنت کی، خود کو تھکایا، خواب کو سینے سے لگائے رکھا،مگر تقدیر کا ایک سخت امتحان یہ آیا کہ جب نتیجہ سامنے آیا تو وہ محض دو یا تین نمبروں سے رہ گئے، یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان پہلے ہی ٹوٹا ہوا ہوتا ہے، جہاں اسے سہارا، دلاسہ اور امید کے چند لفظوں کی شدید ضرورت ہوتی ہے، مگر افسوس! یہاں سے کہانی نے وہ رخ لیا جس نے ایک قیمتی جان ہم سے چھین لی، گھر والوں نے حوصلہ دینے کے بجائے ڈسکریج کرنا شروع کر دیا،طعنے دیے گئے، نااُمیدی کے جملے کہے گئے، اور یہی کہا گیا کہ تم سے کچھ نہیں ہوگا، نتیجہ یہ نکلا کہ امتحان کے صرف چھ دن بعد خبر آئی کہ وہ بھائی پنکھے سے جھول گیا، اور اس فانی دنیا کو الوداع کہہ کر دارالبقاء کی طرف روانہ ہو گیا،یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑ کر یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
کیا ہماری زبان حوصلہ دیتی ہے یا زخم لگاتی ہے؟کیا ہمارے الفاظ سہارا بنتے ہیں یا پھندا؟ یاد رکھیے! ایک جملہ بچے کو زندگی دے سکتا ہے، اور ایک جملہ اس سے زندگی چھین بھی سکتا ہے،لہٰذا اپنے بچوں کے لیے سایہ بنیے دیوار نہیں، سہارا بنیے سزا نہیں، کیونکہ والدین کی ذرا سی بے احتیاطی ایک پوری دنیا کو ویران کر سکتی ہے۔
تاریخِ انسانی میں ایک سبق آموز واقعہ مشہور ہے، عظیم سائنس دان *تھامس ایڈیسن* کو اس کے اسکول ٹیچر نے ایک رقعہ دیا اور کہا کہ یہ اپنی ماں کو دے دینا، ماں نے جب وہ رقعہ پڑھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، بچے نے وجہ پوچھی تو ماں نے بلند آواز سے رقعہ پڑھ کر سنایا: آپ کا بچہ غیر معمولی حد تک ذہین اور باصلاحیت ہے، یہ اسکول اس کے لیے بہت چھوٹا ہے اور ہمارے پاس ایسے قابل اساتذہ موجود نہیں جو اس کی صلاحیتوں کے مطابق اسے تعلیم دے سکیں، لہٰذا آپ خود ہی اس کی تعلیم کا بندوبست کریں، وقت گزرتا گیا، وہی بچہ آگے چل کر دنیا کا عظیم سائنس دان بنا، ایجادات کا امام کہلایا، لیکن اس دوران اس کی ماں اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی، ایک دن ایڈیسن اپنے پرانے کاغذات دیکھ رہا تھا کہ اچانک وہی خط اس کے ہاتھ آ گیا، جب اس نے پڑھا تو حقیقت کچھ اور ہی تھی، اس پر لکھا تھا *آپ کا بچہ انتہائی کند ذہن، غبی اور ناکارہ ہے، ہم اسے اسکول میں مزید نہیں رکھ سکتے، اس لیے آپ سے کہا جاتا ہے کہ اسے گھر میں ہی رکھیں* یہ پڑھ کر تھامس ایڈیسن کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے اپنی ڈائری میں لکھا *تھامس ایڈیسن ایک ذہنی طور پر ناکارہ بچہ تھا، مگر ایک عظیم ماں نے اسے صدی کا سب سے بڑا سائنس دان بنا دیا*
یہ واقعہ ہمیں ایک اٹل حقیقت سکھاتا ہے کہ بچوں کو کامیاب بنانے کے لیے سب سے پہلی شرط حوصلہ افزائی ہے، نہ کہ تحقیر، جب دوسروں کے بچوں کی خوبیاں بیان کی جائیں اور اپنے بچے کی خامیاں گنوائی جائیں، جب دوسروں کی کامیابیوں کے تذکرے ہوں اور اپنے بچے کی ناکامیاں سامنے رکھی جائیں، جب ہر وقت اپنے بچے کا موازنہ زیادہ ذہین یا کامیاب بچوں سے کیا جائے، تو ایسے بچے احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، ان کے خواب دب جاتے ہیں، حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں اور ان کی فطری صلاحیتیں آہستہ آہستہ زنگ آلود ہو جاتی ہیں۔
ہمیشہ ڈانٹ، غصہ اور سختی میں پلنے والے بچے خوف اور دباؤ کے عالم میں جیتے ہیں، ایسے ماحول میں ذہانت پروان نہیں چڑھتی بلکہ مرجھا جاتی ہے، یہ ضروری نہیں کہ جو بچہ آج نمایاں نظر نہ آئے وہ کل کچھ نہ بن سکے، ہو سکتا ہے آپ کے بچے کے اندر وہ صلاحیت چھپی ہو جو دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہو بس اسے اعتماد، محبت اور سہارے کی ضرورت ہے،لہٰذا اپنے بچوں کو نالائق کہنے کے بجائے ان پر یقین کیجیے، انہیں سہارا دیجیے، ان کی حوصلہ افزائی کیجیے،یاد رکھیے ایک مثبت جملہ ایک بچے کی پوری زندگی بدل سکتا ہے، اور ایک منفی جملہ اس کی ساری صلاحیتوں کو دفن بھی کر سکتا ہے۔
اساتذۂ کرام کی بارگاہ میں بھی عرض ہے کہ وہ کسی بچے کو اس طرح کا تاثر نہ دیں جو بچے کو احساس کمتری کا شکار بنا کر اسے پڑھائی چھوڑنے پر مجبور بنا دے،اس لیے اللہ نے اسکو پیدا کیا اور اللہ نے کوئی چیز بھی بیکار پیدا نہیں کی ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*