*معاصر صحافت کے ایک معتبر نام سے یادگار ملاقات*

✍🏻*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
*جائے تحریر دبیر پورہ حیدرآباد*
_______________________________
زندگی میں کچھ ملاقاتیں صرف رسمی نہیں ہوتیں بلکہ دل پر ایک خوبصورت اثر چھوڑ جاتی ہیں یہ وہ قیمتی لمحات ہوتے ہیں جو انسان کے فکری افق کو وسعت دیتے سوچ کو جلا بخشتے اور دل میں خوشگوار یادوں کا چراغ روشن کر دیتے ہیں اہل علم و قلم کی صحبت ویسے ہی باعثِ سعادت ہوتی ہے اور جب یہ صحبت اخلاص سادگی اور خلوص سے مزین ہو تو وہ ملاقات ایک یادگار واقعہ بن جاتی ہے جو کبھی بھلایا نہیں جاتا پرسوں بروز اتوار عصر حاضر کے معزز ایڈیٹر جناب حافظ محمد عبدالمقتدر عمران صاحب کی جانب سے مجھے ایک پیغام پہنچا جس میں انہوں نے نہایت محبت اور شفقت کے ساتھ فرمایا کہ اگر آپ حیدرآباد میں موجود ہیں تو عصر حاضر کے دفتر میں تشریف لائیں اس وقت چونکہ میں ایک پروگرام میں مصروف تھا اس لیے فوری طور پر جواب نہ دے سکا جب میں فری ہوا تو میں نے پیغام کے ذریعے عرض کیا کہ آج تو مصروفیت زیادہ ہے البتہ ان شاء اللہ العزیز کل ضرور ملاقات کا شرف حاصل ہوگا۔
پیر کے دن عصر کے بعد میں نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ میں آرہا ہوں جواب میں انہوں نے نہایت خوش دلی سے فرمایا جی ضرور تشریف لائیں اور ساتھ ہی دفتر کا مکمل پتہ بھی ارسال فرما دیا میں مقررہ پتے پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ عمران بھائی کسی کام سے باہر تشریف لے گئے ہیں میں نے وہیں مسجد میں ان کا انتظار کیا کچھ دیر بعد وہ تشریف لے آئے جس کے بعد ایک نہایت خوشگوار اور یادگار نشست کا آغاز ہوا دفتر میں کافی دیر تک علمی فکری اور اصلاحی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی جو میرے لیے باعثِ مسرت و سعادت تھی یہ نشست صرف معلوماتی ہی نہیں تھی بلکہ دل کو بھی بہت راحت پہنچانے والی تھی اس کے بعد ہم سب پستہ ہاؤس سنتوش نگر تشریف لے گئے جو اپنے لذیذ کھانوں کی وجہ سے ایک معروف اور مقبول ہوٹل ہے وہاں ہم نے لوازمہ اور حیدرآبادی بریانی سے لطف اٹھایا اس دوران بھی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا اور یہ لمحات بے حد خوشگوار اور یادگار ثابت ہوئے جب ہم عصر حاضر کے دفتر سے رخصت ہونے لگے تو ایڈیٹر صاحب نے نہایت محبت و عنایت کے ساتھ ایک کتاب بطورِ ہدیہ پیش فرمائی یہ کتاب عصر حاضر کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر شائع کی گئی تھی جس میں ملک کے مختلف علماۓ کرام نے عصر حاضر کے تعارفی و تاثراتی مضامین لکھی ہیں میں نے یہ قیمتی تحفہ خوش دلی اور شکرگزاری کے ساتھ قبول کیا یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عصر حاضر گزشتہ تقریباً نو برسوں سے مسلسل علمی فکری اور صحافتی خدمات انجام دے رہا ہے اور اپنی سنجیدہ باوقار اور مقصدی صحافت کے ذریعے ایک معتبر مقام حاصل کر چکا ہے۔
کھانا تناول کے بعد احمد بھائی نے بڑی محبت و اخلاص کے ساتھ ہمیں ہماری قیام گاہ تک پہنچایا جس پر میں ان کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں یہ ملاقات ہر لحاظ سے یادگار رہی حالانکہ عمران بھائی صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی مگر ان کی خلوص بھری گفتگو محبت بھرا انداز اور اپنائیت نے بالکل یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم پہلی بار مل رہے ہیں یوں محسوس ہوا جیسے ایک پرانا تعلق ہو الحمدللہ اس ملاقات پر دل بے حد خوش ہوا اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ جناب حافظ محمد عبدالمقتدر عمران صاحب کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے صحت و سلامتی عطا فرمائے انہیں ہر میدان میں کامیابی و کامرانی سے نوازے اور ان کی علمی و صحافتی محنتوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے
آمین یا ربّ العالمین۔