بیٹی کی ولادت خوشی کا موقع ہے لیکن آج بیٹیوں سے ان کا پہلا حق ان کی پیدائش کی خوشی کو ہی ان سے چھین لیا جاتا ہے کچھ گھروں میں بیٹیوں کی پیدائش پر خوشی کی جگہ ماتم کا ماحول بن جاتا ہے
کچھ کم عقل چھوٹی سوچ کے مالک جاہلیت کے دور کی سوچ رکھنے والے ہمارے معاشرے میں اب بھی موجود ہیں جو بیٹوں کی پیدائش پر تو خوب خوشیاں مناتے ہیں، مٹھائیاں بانٹتے ہیں، دعوتیں کرتے ہیں لیکن وہیں اگر بیٹی کی ولادت کا سن لیں تو رد عمل اس کے برعکس ہو جاتا ہے۔ خوشی چہروں سے غائب ہو جاتی ہے، چہرے پہ ناگواری کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں، لہجے میں بیٹی کے لیۓ نفرت صاف جھلکتی ہے، کوئ مبارک باد دے دے تو کہتے ہیں بیٹی ہی تو ہے کس بات کی خوشی... ؟؟
ہمارے کندھوں پہ بوجھ آ گیا شادی کرنی ہوگی، جہیز دینا ہوگا، بیٹا ہوتا تو کما کر دیتا، بڑھاپے کا سہارا بنتا۔
جبکہ اللہ سبحانہ تعالی کا وعدہ ہے کہ جسے میں بیٹی دیتا ہوں اس کے باپ کا سہارا میں خود ہوں_
لیکن کچھ گھروں میں جہالت اتنی عروج پر ہے کہ عورت کو لعن طعن کیا جاتا ہے کہ بیٹی کو جنم دیا ہے، بعض اوقات بیٹی پیدا ہونے پر عورت کو طلاق بھی دے دی جاتی ہے۔ بے یار و مدد گار ماں اور بچی دونوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ بیٹا اور بیٹی دینا اللہ کی قدرت، اس کی مرضی ہے جسے چاہتا ہے بیٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹی دیتا ہے جسے چاہتا ہے دونوں دیتا ہے جسے چاہتا ہے کچھ بھی نہیں دیتا سب میں اللہ رب العزت کی مصلحت ہوتی ہے۔ وہ جو بھی دے ہمیں خوش ہونا چاہیۓ اور اسکا شکر ادا کرنا چاہیۓ، یہ کیا کم ہے کہ اس نے آپ کو اولاد جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔
بیٹی ہو یا بیٹا خوبصورت ہو یا بد صورت اس میں عورت کا کوئ عمل دخل نہیں ہے عورت کو اللہ نے تخلیق کا ایک ذریعہ بنایا ہے اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ تخلیق کے سارے قوانین عورت کے ہی ہاتھ میں دے دیۓ گۓ ہیں کہ اسکو بیٹا بنانا ہے یا بیٹی خوبصورت یا بد صورت۔
  بیٹا یا بیٹی دینا یہ عورت کے اختیار میں نہیں ہے یہ اللہ اپنی مرضی کے مطابق جسے جو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اللہ کی عطا کر دہ نعمت پر راضی ہونا سیکھو _
اللہ جن سے خوش ہوتا ہے ان کو بیٹی دیتا ہے ۔
بیٹی کی بہترین پرورش پر تو جنت کی بشارت ہے پھر آپ کو بیٹیوں سے اتنی نفرت کیوں...؟ 
 میں تو کہتی ہوں جب بیٹی پیدا ہو تو زیادہ خوشی مناؤ، جب بیٹی پیدا ہو تو سب کو بتاؤ کی اللہ نے آپ کو بیٹی جیسی عظیم نعمت، دولت، اور رحمت سے نوازا ہے ۔
جب بیٹی پیدا ہو تو اتنی خوشی مناؤ کہ لوگوں کو لگے کہ آپ کو کوئ خزانہ مل گیا ہے تاکہ کچھ جاہلوں کو پتا چلے کہ بیٹیاں زحمت نہیں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں،
اور بتاو دنیا کو کہ ہم بیٹی کے والدین ہیں ہم بیٹی والے ہیں ہم خوش قسمت ہیں۔
اور بیٹیاں ہمیں کچھ اس لیۓ بھی پسند ہیں کیونکہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹیوں سے بڑی محبت تھی_
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم. نے فرمایا: جس شخص کی ایک بیٹی ہو، اور وہ بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔
(مسند احمد: 1957)
بیٹیاں غم کا نہیں بیٹیاں خوشی کا باعث ہیں، بیٹیاں دلوں کو سکون بخشتی ہیں، بیٹیاں مشکل وقت میں والدین کے لیۓ سایہ دار درخت ہوتی ہیں، بیٹیاں والدین کی تکلیف کو بڑے قریب سے محسوس کرتی ہیں، بیٹی رب کی رحمت کا وہ نازک پھول ہے جو گھر میں خوشبو اور دل میں سکون بھر دیتا ہے_ 
یہ کیسی جہالت ہے کبھی بیٹی کی پیدائش پر ہنگامہ تو کبھی بیٹی کو جہیز نا ملنے پر ہنگامہ، ہر جگہ ہر موقع پر عورت کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سوچ بدلو!! بیٹا بیٹی کے فرق کو مٹاؤ بیٹا نعمت ہے اور بیٹی رحمت نعمت اور رحمت دونوں کو تسلیم کرو دونوں کو یکساں محبت یکساں تعلیم اور یکساں عزت دو بلکہ بیٹی کو بیٹے سے بڑھ کر چاہو تاکہ معاشرے میں بیٹے اور بیٹی کے فرق کو مٹایا جا سکے،اس سوچ کو تبدیل کیا جا سکے!! بیٹیوں کو بھی جینے کا حق ملے بیٹیوں کو بھی وہ خوشی ملے جو انہیں ملنی چاہیۓ جس کی وہ حقدار ہیں بیٹیوں کو وہ محبت، وہ تعلیم، وہ مقام، وہ مرتبہ دو جو اسلام نے دیا ہے جو ہمارے نبی نے دیا ہے۔

جس کو ملے وہ شکر کا سجدہ ادا کریں🤲
رب کی طرف سے خاص عنایت ہیں بیٹیاں
🤍

✍️بنت شہاب💫