اور اللہ کے محبوب کا درد سنو یا رب امتی امتی

ابراہیم علیہ السلام نے کہا فَمَنْ تَبِعَنِی فَاِنَّہُ
مِنِّی۔۔۔۔۔۔وَمٔنْ عَصانِی فَانَّک غفور رَّحیم 
سورۃ ابراہیم آیت (36))
اے اللہ جو میری باتیں مانے وہ میرا ہے اور جو میری نہ مانے تیری مرضی معاف کر دے یا عذاب دے دے۔

عیسی علیہ السلام نے کہا۔
ان تعذبھم فانہم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم 
سورۃ ماںٔدہ آیت نمبر (118)
)

اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ۔۔اے اللہ میری امت کو معاف کر دے ،معاف کر دے ،نہیں کرتا پھر بھی کر دے۔
امتی۔۔۔۔امتی۔۔۔۔۔کہہ کر جو رونا شروع کیا یہاں تک کہ جبرائیل علیہ السلام بھاگے ہوئے ائے ،اللہ نے دوڑایا ،جاؤ پوچھو میرے محبوب کیوں روتے
ہو؟
انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے مجھے بھیجا ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں پریشان ہیں؟ کیوں رو رہے ہیں؟ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا جبرائیل مجھے میری امت کا غم کھا رہا ہے تو اللہ نے کہا اچھا جاؤ خوشخبری سنا دو کہ تیری امت کے بارے میں تجھے راضی کر دوں گا ۔

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اللہ سے روئے اب سوچیں کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا مان رہے ہیں ان کی سنت پر عمل کر رہے ہیں وہ ہستی جو ہمارے لیے راتوں کو جاگ جاگ کر دعائیں کرتی رہی جسے دنیا سے جانے سے پہلے اپنی ہی امت کا خیال تھا اور ہم، ہم کیا کر رہے ہیں ہم اس ہستی کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے اج ہم ان ہیرو اور ہیروئن کو اپنا رول ماڈل بنا لیا ہے اج ہم شوق سے ان کی اتباع کرتے ہیں ان کے جیسا کھانا ان کے جیسا پہننا ہر چیز میں ان کی اتباع۔
اے امت محمدیہ اللہ نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی تمہیں اشرف المخلوقات بنایا پھر کہاں بھٹک رہی ہو واپس آ جاؤ کہ اب بھی دیر نہیں ہوئی ۔

میرے بھائیو میری بہنوں۔۔منزل تک پہنچنا ہے تو اللہ اور اس کے رسول کے ہاتھوں میں ہاتھ دینا پڑے گا، نہیں تو ہم بھٹک جائیں گے، ہلاک ہو جائیں گے ، راستہ نہیں ملے گا ، منزل نہیں ملے گی ، منزل تک پہنچنے کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم بقدم
چلنا پڑے گا۔۔۔