ہر علم سماع کا محتاج ہے، خصوصًا شرعی علم
نگارشات:مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی 
انسانی علم کی تاریخ کا ایک بنیادی اور ناقابلِ تردید اصول یہ ہے کہ علم کی اصل بنیاد سماع اور تلقی ہے۔ کتابیں علم کا ذخیرہ ضرور ہیں، لیکن علم کی صحیح روح، اس کی گہرائی، اس کا توازن اور اس کی درست تطبیق اہلِ علم سے سننے اور ان کی رہنمائی میں سیکھنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کو قدیم اہلِ علم نے نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے:
“ہر علم سماع کا محتاج ہے، خصوصًا شرعی علم”
(الشعر والشعراء لابن قتيبة: 1/82)
یعنی علم کی تکمیل اور اس کی صحت اس بات پر موقوف ہے کہ اسے ماہر اور معتبر اہلِ علم سے سن کر حاصل کیا جائے، نہ کہ صرف ذاتی مطالعہ اور اپنی فہم پر اعتماد کرتے ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ علم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ صحیح فہم، درست ترجیح، اعتدال اور بصیرت کا نام ہے۔ ایک کتاب پڑھنے والا شخص الفاظ کو سمجھ سکتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں جان پاتا کہ کسی مسئلے میں کون سی رائے راجح ہے، اختلاف کی بنیاد کیا ہے، کس بات کو کس موقع پر بیان کرنا مناسب ہے اور کس بات میں احتیاط ضروری ہے۔ یہ چیزیں صرف اس وقت حاصل ہوتی ہیں جب انسان اہلِ علم کی صحبت اختیار کرتا ہے اور ان سے سن کر علم حاصل کرتا ہے۔
خصوصی طور پر شرعی علوم کے معاملے میں یہ ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ دینی مسائل میں معمولی سی غلطی بھی عقیدہ، عبادت یا عمل میں بڑی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے اہلِ علم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ شرعی علم کو خود سے اخذ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ علامہ عبد الرحمن المعلمیؒ اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علم کی صحیح صورت یہ ہے کہ اسے پختہ علماء سے سن کر حاصل کیا جائے، نہ کہ محض ذاتی مطالعہ اور انفرادی کوشش پر اعتماد کیا جائے۔
(آثار العلامة المعلمي: 10/23)
اسلامی علوم کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی بنیاد سند اور تسلسل پر ہے۔ قرآن کریم سماع کے ذریعے محفوظ ہوا، حدیث شریف اساتذہ سے سن کر آگے منتقل ہوئی، اور فقہ، تفسیر اور دیگر علوم بھی استاد سے شاگرد تک پہنچتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین علم کو صرف کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ امانت سمجھتے تھے جو اہلِ علم کے سینوں سے آگے منتقل ہوتی ہے۔
استاد کی اہمیت صرف علمی رہنمائی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ طالبِ علم کی تربیت بھی کرتا ہے۔ اس کی صحبت سے ادب، احتیاط، تواضع اور اعتدال پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس صرف خود مطالعہ کرنے والا شخص بعض اوقات جلد بازی، غلط فہمی یا خود اعتمادی کے فتنہ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور معمولی معلومات کے باوجود خود کو صاحبِ رائے سمجھنے لگتا ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ مطالعہ علم کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اس کی صحیح ترتیب یہ ہے کہ بنیادی علم استاد سے حاصل کیا جائے اور پھر مطالعہ کے ذریعے اس میں وسعت اور پختگی پیدا کی جائے۔ استاد کے بغیر مطالعہ گمراہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ مطالعہ کے بغیر علم محدود رہ جاتا ہے۔
عصرِ حاضر میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ترجمہ شدہ کتابوں کی فراوانی نے بہت سے لوگوں کو یہ گمان دے دیا ہے کہ وہ خود ہی دین کو سمجھ سکتے ہیں اور مسائل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً سطحی علم، جلد بازی اور غیر محتاط آراء عام ہوتی جا رہی ہیں۔ یہی وہ صورت حال ہے جس سے اہلِ علم نے ہمیشہ خبردار کیا ہے کہ علم اگر اہلِ علم کی نگرانی کے بغیر حاصل کیا جائے تو وہ رہنمائی کے بجائے فتنہ بن سکتا ہے۔
لہٰذا ہر طالبِ علم اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ معتبر اور مستند علماء کی صحبت اختیار کرے، ان سے سن کر علم حاصل کرے، اپنی فہم پر جلد اعتماد نہ کرے اور علم کے معاملے میں احتیاط اور تواضع کو اختیار کرے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ علم کی اصل حفاظت سماع اور صحبتِ اہلِ علم سے ہوتی ہے، اور یہی طریقہ انسان کو صحیح فہم، اعتدال اور بصیرت عطا کرتا ہے۔
“ہر علم سماع کا محتاج ہے، خصوصًا شرعی علم”
(الشعر والشعراء لابن قتيبة: 1/82)
“علم کو پختہ علماء سے سن کر حاصل کیا جاتا ہے، نہ کہ صرف ذاتی مطالعہ سے”
(آثار العلامة المعلمي: 10/23)