سو اس بارے میں مختصر عرض ہے 
کہ اہل السنہ والجماعہ کے نزدیک جہاد کے فرض اور صحیح ہونے کے لیے امام ٫ خلیفہ کا وجود یا حکومت و ریاست کی اجازت ہونا شرط نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ فقہاء اکرام نے جہاد کی شرائط بیان کرتے ہوئے اس شرط کا بالکل تذکرہ نہیں کیا 
شرائط جہاد آپ ملاحظہ کر چکے ہیں ۔ان شرطوں میں کہیں بھی امام کا ہونا بیان نہیں کیا گیا ہے ۔باقی فقہاء اکرام کی جن عبارات سے امام کا تذکرہ ملتا ہے اس سے مراد بہتر و اولی  اور افضل صورت اور اصل استحقاق کا بیان ہے ۔یعنی افضل یہی ہے کہ مسلمانوں کا ایک امام ہو جو جہاد کے امور کو سنبھالے۔کیونکہ جہاد ایک مشکل اجتماعی اور انتظامی عمل ہے۔لیکن اگر مسلمانوں کا امیر نہ ہو تو جہاد بند نہیں ہوگا بلکہ مسلمانوں پر ضروری ہوگا کہ اپنے میں سے کسی کو امیر بناکر جہاد کریں۔کیونکہ جہاد اسلام کا وہ فریضہ ہے جس کے بارے میں نصوص میں صراحتاً قیامت تک جاری رہنے کا فیصلہ فرمایا گیاہے ۔امام ہو یا نہ ہو جہاد چلتا رہے گا ۔
ہاں البتہ جہاد کے لیے امام ہونا ضروری ہے اس کا کوئی منکر نہیں ہے ۔اور امیر جہاد بنانے کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر امام موجود ہو تو وہ امیر متعین کر دے اور اگر امام موجود نہ ہو تو مسلمان خود اپنے میں سے کسی کو امیر بناکر جہاد کریں،جیسا کہ جنگ موتہ میں تین امیروں کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے  از خود حضرت خالد بن ولید کواپنا امیر مقرر کر لیا تھا ۔
اور جیسا کہ شاملی کے میدان میں حضرات اکابرین دیوبند نے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ کو امیر جہاد بنایا تھا
کتب فقہ میں اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں ،مثلا،نماز ہی کو لے لی جیئے۔حضرات فقہاء اکرام نے پوری صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ جمعہ صرف امام المسلمین پڑھا سکتا ہے یا اس کا نائب۔
"دیکھیں فقہ حنفی کے معتبر متن" المختصر القدوری
امام احمد بن محمد البغدادی القدوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ولا تجوزاقامتھاالاللسلطان أو لمن امرہ الخ٫٫٫٫
باب صلوٰۃ الجمعہ/ ص29/ ط٫ امدادیہ
جاری ہے ٫٫٫٫٫٫"""