*احسان کو یاد رکھنا اور علم کی قدر کرنا انسان کی سب سے بڑی دولت ہے*

✍🏻*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی* 
___________________________________
دو دن قبل مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ حافظ و قاری محمد نوشاد صاحب (میرے مامو جان) جو کہ جامعہ عائشہ نسواں حیدرآباد کے معزز استاد ہیں جامعہ جو حیدرآباد کی معروف اور مقبول تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے انہوں نے مجھے مدرسہ ابو ہریرہ دبیرپورہ حیدرآباد میں بچوں کے سامنے چند الفاظ کہنے کا موقع فراہم فرمایا
میں خود ناصح یا واعظ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا لیکن بطور ایک طالب علم میں نے پندرہ منٹ کے دوران بچوں کے سامنے علم کی اہمیت اور فضیلت علم حاصل کرنے کی نیت اور مقصد والدین اساتذہ اور مدرسہ کی قدر و منزلت جیسے موضوعات پر گفتگو کی بچوں کی محفل میں یہ موقع میرے لیے نہایت ہی خوشی اور سعادت کا باعث رہا میں اپنے مامو حافظ و قاری محمد نوشاد صاحب کا بے حد شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا اور یہ عزت بخشی میں ہمیشہ ان کے احسان مند رہوں گا کیونکہ انہی کی رہنمائی اور محبت نے مجھے بچپن سے تعلیم کی راہوں پر چلنے کا حوصلہ دیا اگر میں کہوں کہ انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تو غلط نہیں ہوگا اور آج میں جو کچھ ہوں انہی کی بدولت ہے ورنہ اللہ ہی جانے کہاں ہوتا خیر
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان کی کامیابی میں اس کے والدین اساتذہ اور اس کے مدرسہ کا کردار بہت ہی اہم ہوتا ہے مجھے لگتا ہے کہ جہاں علم کی روشنی ہو وہاں انسان کی زندگی روشن اور باوقار ہوتی ہے اسی لیے میں اپنے مامو کی بے حد قدر کرتا ہوں اور ہمیشہ دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی انہیں لمبی عمر صحت مند زندگی خوشیاں اور کامیابیوں سے نوازے
مجھے مکمل امید ہے کہ میرے الفاظ بچوں کے دلوں میں بھی علم کی محبت اور استاد و والدین کی قدر پیدا کریں گے کیونکہ یہ وہ سبق ہے جو زندگی کو روشن اور کامیاب بناتا ہے۔
میری دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مامو جان کو ہمیشہ شاد و آباد خوش و خرم رکھے صحت و سلامتی عطا فرمائے اور زندگی میں کامیابی و کامرانی سے نوازے اللہ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اپنی زندگی میں ان کی قدر و منزلت سمجھیں آمین یا رب العالمین۔