*ایمان کی عظمت اور مسلمان کا مقام*
اصل قوت کہاں ہے؟ دنیا کی آنکھیں آج طاقت، دولت اور اقتدار کے ترازو میں وزن تولتی ہیں، کہیں بینک بیلنس کو عظمت کہا جاتا ہے، کہیں اسلحے کو قوت سمجھا جاتا ہے، اور کہیں تخت و تاج کو عزت کا معیار بنا لیا گیا ہے، مگر تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی غلط فہمی یہی رہی ہے کہ اس نے طاقت کو مادّے میں تلاش کیا، حالانکہ اصل قوت ہمیشہ معنی میں چھپی رہی ہے، اسی لیے دنیا کی ساری چمک دمک ایک طرف، اور ایمان کی ایک چنگاری دوسری طرف ہو، تو فیصلہ ہمیشہ ایمان کے حق میں ہوتا ہے،یہ کوئی فقط ایک دعوی نہیں بلکہ اسکی بے انتہا نظیر اسلام کے دامن میں موجود ہیں، کبھی پڑھیں قرآن کو اور پوچھیں قرآن سے حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں، کبھی پوچھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں، کبھی پوچھیں حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں، کبھی پوچھیں، حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں، کبھی یوسف علیہ السلام کے بارے میں، اور تمام معزز افراد کے بارے میں۔
ہم مسلمانوں کا مرتبہ یہ ہے کہ *اگر دنیا کی تمام ریاستوں کے کفار حکمران ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہو جائیں، اپنی ساری عقل، اپنی ساری طاقت، اپنی ساری سلطنتیں اور اپنے تمام وسائل اکٹھے کر لیں، اور پھر کسی ایک مسلمان کے ایک مرتبہ سبحان اللہ کا مقابلہ کرنا چاہیں، تو اللہ کی عزت کی قسم، وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے* کیونکہ *سبحان اللہ* صرف ایک لفظ نہیں، یہ اللہ کی کبریائی کا اعلان ہے، اور جو اللہ کی عظمت کا اعلان کر دے، وہ دنیا کی ہر عظمت سے بلند ہو جاتا ہے۔
*ایمان* وزن میں نہیں، قدر میں بھاری دنیا تولتی ہے سونے کو، چاندی کو، دولت کو اور زمینوں کو، مگر اللہ تولتا ہے دلوں کو، نیتوں کو اور ایمان کو، اگر دنیا کی ساری دولت کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے، اور دوسرے پلڑے میں کسی ادنیٰ سے ایمان والے کا ایمان رکھ دیا جائے، تو ترازو کا جھکاؤ ایمان کی طرف ہی ہوگا، اس لیے کہ دولت زمین سے اٹھتی ہے اور زمین میں دفن ہو جاتی ہے، مگر ایمان آسمان سے اترتا ہے اور آسمان تک بلند ہو جاتا ہے، ایک غریب مسلمان، جس کے پاس نہ محل ہوں، نہ اختیار، نہ دنیاوی طاقت اگر اس کے دل میں ایمان زندہ ہے تو وہ اللہ کے نزدیک ان تمام بادشاہوں سے زیادہ قیمتی ہے جن کے پاس خزانے تو ہیں مگر دل خالی ہیں، یہی وہ حقیقت ہے جس نے غلاموں کو سردار بنایا، چرواہوں کو رہنما بنایا، اور مٹھی بھر ایمان والوں سے دنیا کا نقشہ بدلوا دیا۔
مسلمان کی پہچان عدد نہیں یقین ہے،مسلمان کی طاقت تعداد میں کبھی نہیں رہی، اس کی طاقت ہمیشہ یقین میں رہی ہے، جب مسلمان *اللہ اکبر* کہتا ہے تو وہ صرف نعرہ نہیں لگاتا، وہ اعلان کرتا ہے کہ ہر طاقت سے بڑی طاقت اللہ کی ہے، ہر نظام سے بالا نظام اللہ کا ہے، اور ہر خوف سے بڑا خوف اللہ کا ہے، اسی یقین نے کمزور ہاتھوں کو مضبوط بنایا، خالی دلوں کو بھر دیا، اور ٹوٹے ہوئے حوصلوں کو آسمان سے جوڑ دیا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک سچا مسلمان تنہا بھی ہو تو اکیلا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ ربِ کائنات ہوتا ہے، اور جس کے ساتھ اللہ ہو، اس کے مقابل دنیا کی ساری ریاستیں، ساری فوجیں اور ساری دولت بھی جمع ہو جائیں تو وہ کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، فخر کا اصل معیار اے مسلمان! فخر اپنے لباس پر نہ کر،فخر اپنے نام پر نہ کر،فخر اپنی تاریخ پر بھی صرف قصے کی حد تک نہ کر،فخراس ایمان پر کر جو تجھے *عبد* بناتا ہے،فخر اس کلمے پر کر جو تجھے اللہ سے جوڑتا ہے،اور فخر اس نسبت پر کر جو تجھے محمد ﷺ کی امت بناتی ہے۔
یاد رکھ دنیا کی تمام دولت، تمام سلطنتیں اور تمام طاقتیں مل کر بھی،کسی ایک سچے ایمان والے کے دل کے برابر نہیں ہو سکتیں،کیونکہ دولت فنا ہو جاتی ہے،اور ایمان، ایمان ہمیشہ باقی رہتا ہے،اور یہ فلسفہ بہت دن پہلے ہمیں اسلام سے حاصل ہو چکا ہے،اور دنیا کی کوئی طاقت ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی نہ کبھی کیا ہے،یہ امریکی دلال کیا سمجھتا ہے اپنے آپکو خنزیر خور جسے کھانے تک کی تمیز نہیں،اگر آپ کسی بھی پلاٹ فارم پر جائیں تو ہر میدان میں کوئی مسلمان کھڑا ملے گا،ان طاقت کچھ نہیں یہ بزدل اور جانوروں سے بدتر قوم ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*