فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک معمولات
رشحات قلم: مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
فضائلِ اعمال (باب فضائلِ ذکر، حدیث نمبر 19) کے تحت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی نور اللہ مرقدہ نے فائدے میں نقل فرمایا ہے:
"حنفیہ میں سے صاحبِ در مختار نے فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک گفتگو کو مکروہ قرار دیا ہے۔"
"ويكره ‌النوم قبل ‌العشاء والكلام المباح بعدها وبعد طلوع الفجر إلى أدائه، ثم لا بأس بمشيه لحاجته، وقيل يكره إلى طلوع ذكاء، وقيل إلى ارتفاعها فيض."
(الدر المختار: كتاب الصلاة، ١/ ٣٨١، ط: ایچ ایم سعيد)
واضح رہے کہ اس سے عام دنیاوی باتیں مراد ہیں، دینی بات کرنا یا ضرورت کے درجہ میں کسی عمل میں لگنا ممنوع نہیں ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ ملتی ہے کہ آپ ﷺ فجر کے بعد خواب سنتے اور ان کی تعبیر بتاتے تھے۔
كَانَ رَسُولَ اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ (الفجر) ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ. (رواہ ابوداؤد بروایة أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنه : 5017)
چنانچہ فجر کے بعد مساجد میں دروس قرآن کرنا، دینی مجالس و مشاورت کرنا، مجلس ذکر کرنا، تبلیغی چھ نمبر بیان کرنا وغیرہ ممنوع نہیں ہے۔
اگر کوئی دینی کام نہیں ہے تو پھر یہ وقت ذکر و اعمال میں لگانا چاہیئے، چنانچہ حدیث میں ارشاد ہے :
قالَ اللهُ تعالى: ابنَ آدمَ ! اذكُرني بعدَ الفجرِ، وبَعدَ العصرِ ساعةً، أَكْفِكَ ما بينَهُما
(السيوطي، الجامع الصغير (٦٠٣٧) أخرجه أحمد في ((الزهد)) (٢٠٣)، وأبو نعيم في ((الحلية)) (٨/ ٢١٣) واللفظ لهما)
اے ابن آدم ! تو صبح کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد تھوڑی دیر مجھے یاد کرلیا کر، مَیں درمیانی حِصَّے میں تیری کِفایت کروں گا .... ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کا ذکر کیا کر، وہ تیری مَطلَب بَراری میں مُعِین ہوگا۔ (فضائل اعمال)
نیز اسی کتاب میں آگے ایک قصہ یہ بھی ہے اُمُّ المؤمِنین حضرت جُویریہ بنت حارث رَضِيَ اللہُ عَنْهَا فرماتی ہیں کہ حضورِ اکرم ﷺ صبح کی نماز کے وقت اُن کے پاس سے نماز کے لئے تشریف لے گئے، اور یہ اپنے مُصَلَّی پر بیٹھی ہوئی (تسبیح میں مشغول تھیں) حضور اکرم ﷺ چاشت کی نماز کے بعد (دوپہر کے وقت) تشریف لائے تو یہ اُسی حال میں بیٹھی ہوئی تھیں، حضور اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا: تم اُسی حال پر ہو جس پر مَیں نے چھوڑا تھا؟ عرض کیا: جی ہاں، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : مَیں نے تم سے (جدا ہونے کے) بعد چار کلمے تین مرتبہ پڑھے، اگر اُن کو اُس سب کے مقابلے میں تولا جائے جو تم نے صبح سے پڑھا ہے تو وہ غالب ہوجائیں، وہ کلمے یہ ہیں:
سُبحَانَ اللہِ وَبِحَمدِہٖ عَدَدَ خَلقِه، وَرِضَا نَفسِه، وَزِنَةَ عَرشِه، وَمِدَادَ کَلِمَاتِه
ترجمہ : اللہ کی تسبیح کرتا ہوں اور اُس کی تعریف کرتا ہوں بقدر اُس کی مخلوقات کے عدد کے، اور بقدر اُس کی مرضی اور خوش نو دی کے، اور بقدر وَزن اُس کے عرش کے، اور اُس کے کلمات کی مقدار کے مُوافق۔
مشائخ فرماتے ہیں کہ اپنے دن بھر کے معمولات کو ابتدائے صبح میں کرلیا جائے تاکہ دن بھر ان اعمال کی تازگی اور روحانیت باقی رہے اور امور زندگی کے سبب وہ تعطل کا شکار نہ ہوں۔