السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سیدناجابر کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا :
إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ بے شک (مومن) بندے اور کفر و شرک کے درمیان فرق نماز کا ترک کرنا ہے ۔"
(صحیح مسلم: (۸۲)
نماز ضائع کرنا اکثر دو چیزوں کی وجہ سے ہوتا ہے :
اہل و عیال کی خیر و خبر میں مشغول رہنے سے ۔
اور مال و دولت کمانے کے لالچ سے ۔
نبی کریم میم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ نماز عصر کا چھوڑنا انجام کے اعتبار سے ایسا ہی ہے جیسے اہل و عیال اور مال و دولت سب کچھ لٹ جائے ، چھین لیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ جس کے اہل و عیال اور مال و دولت چھین لی گئی اس کے پاس باقی کیا رہ گیا ؟ جتنا خسارہ اور نقصان اس حالت میں ہے اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ نماز عصر کے چھوڑنے میں
ہے۔جتنا رنج و صدمہ اس حالت میں ہوتا ہے ایسا ہی نماز عصر کے چھوڑنےمیں ہونا چاہیے ۔
مسئلہ)(حل)
لوگ نماز اور جماعت سے دور کیوں ہو رہے ہے اصل وجہ کیا ہے؟
∆آج کل کا سب سے بڑا فتنہ "موبائل" والدین اس بات سے بے خبر اپنے بچوں کو کم عمری میں ہی انکو انکا پرسنل موبائل دے دیتے ہے کہ یہ موبائل فون انکے بچوں کو اللہ کے ساتھ خود والدین سے بھی دوری پیدا کر رہا ہے، موبائل میں بے وجہ سکرولنگ سے انہیں اس بات تک کا احساس نہیں ہوتا کہ اذان ہوئے کتنی دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔
∆دوسری بات مجھے لگتی ہے والدین کا بار بار بچوں کو اذان کے بعد نماز کا صرف حکم دیتے رہنا اور خود تو اپنے موبائل میں وقت کے ذیاع کے ساتھ دیگر دوسری مصروفیات میں مشغول ہونا بچوں کو کبھی بھی نماز کو اولین وقت کی ادائگی کا احساس نہیں دلاتا
انہیں چاہئے کہ وہ خود اپنے بچوں کے لئے اپنے اعمال سے اچھی مثالیں پیش کریں۔
∆ دوستوں کی بری صحبت نہ کہ برے دوستوں کی صحبت:لوگ برے نہیں ہوتے ،یہ اعمال ہوتے ہے،عادات ہوتے ہے جو برے ہوتے ہے۔بےوقت کے کھیل کود میں جماعتیں چھوٹ جاتی ہے،نمازیں قضا ہو جاتی ہے لیکن کھیل ختم ہو یہ بچوں کی نظروں میں لوگوں کی نظروں میں اور ذمیداران کی نظروں میں یہ ضروری ہو گیا ہے
مال و دولت کمانے کا لالچ:اذان کے بعد دکانوں کو بند نہ کنا،اور چاہے جماعت ہو تی رہے مگر جو گاہک انتظار میں ہو اسے واپس نہیں بھیجنا چاہئے
∆ا سکول میں نماز میں دیری:میرے تعلیمی دور میں نماز کے اوقات میں میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ کیا وجہ ہے کہ اذان ہو جانے کے باوجود ہمارے پوچھنے پر بھی ہماری استاذہ ہمیں نماز کے لیے نہیں بھیجتے،استادوں کو چاہئے کہ اسکول کے گھنٹے کے وقت جب اذان ہو تو اذان کے فورا بعد بچوں کو نماز کی ادائگی کے لئے وقت دیا جائے کیونکہ بچے جو چیزیں اسکول سے سیکھ کر جاتے ہے اسکے عادی ہوتے ہے اگر انہیں بچپن سے ہی نمازوں کے وقت نمازیں ادا کرائی جائے نماز کی محبت،اسلام کی محبت،اور اس سے بڑھ کر اللہ کی محبت کا انہیں عادی بنایا جائے تو انکے لئے جوان ہوتے ہوئے یہ چیزیں کبھی بوجھ نہیں لگے گی،کوئی بھی دنیاوی مصروفیات انکے لئے نماز سے غفلت یا اللہ سے دوری کی وجہ نہیں بنے گی ۔والدین کا خود وقتوں پر نماز ادا کرنا بچوں پر بھی وہی اثر ڈالے گا چاہے وہ گھریلو مصروفیات ہو یا پھر دوسری غیر ضروری کام جب والدین خود وقت پر نماز ادا نہیں کریں گے تو بچوں کی نظروں میں بھی کبھی نماز کو اول وقت پر ادا کرنے کی اہمیت نہیں رہے گی
(اثرات )نماز چھوڑنے کے دینی و دنیاوی نقصانات
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ
قرآن کی ہر آیات میں ہر وقت اور ہر واقعی کے لحاظ سے الگ الگ معنی چھپے ہوتے ہے جس طرح اس آیت میں کہا گیا کہ نماز فحاشی اور برائی سے روکتی ہے اسی طرح نماز نہ کرنے سے انسان فحش اور برے کاموں میں ملوث ہو جاتا ہے۔
نماز چھوڑنا انسان کو کفرو شرک میں مبتلا کرتا ہے انسان کو لگتا ہے کہ وہ جی رہا ہے اسے ہر دنیاوی چیز میسر ہوتی ہے اسکے لئے نماز چھوڑنا کوئی بڑی بات نہیں لگتی لیکن انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا اور وہ دھیرے دھیرے کفریہ اور شرکیہ کاموں میں لگ جاتا ہے
سیدنا بریدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وبينهم الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ
ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہے جس نے اسے ترک کیا اس نے کفر کیا ۔
ابن ماجه : ۱۰۷۹ ، صحیح)
ہلاکت و بربادی :
جو شخص نماز نہیں پڑھتا ہلاکت و بربادی اس کا مقدر ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ (٤) الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (٥) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ (٦) وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (۷).
الماعون : ٤ تا (٨)
پس ان نمازیوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں جو ریا کاری کرتے ہیں اور عام برتنے کی چیزیں روکتے ہیں ۔ “
اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں ۔ کیسے غافل ہیں ؟
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے
الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ } . " وہ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں ۔ " کے متعلق پوچھا کہ آیا یہ وہی چیز (وسوسہ وغیرہ) ہے جو نماز میں ہم میں سے ہر کسی کو اس کے دل میں پیش آتی ہے (یا اس سے کوئی اور چیز مراد ہے ؟ انھوں نے فرمایا : نہیں ، بلکہ اس غفلت سے مراد نماز کو اس کے وقت سے لیٹ کرنا ہے ۔
(جامع البيان للطبرى ۷۲۱/۱۱، وسنده صحیح)
1میدان حشر میں رسوائی :
جو شخص نماز نہیں پڑھتا حشر میں اس کے ساتھ بہت برا سلوک ہوگا۔
قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا ۔ جس طرح اس کی شان کے لائق ہے ۔ توحکم ہوگا کہ آؤ سب اللہ کے حضور سجد و کرو۔ قرآن مجید میں اس منظر کا یوں نقشہ کھینچا گیا ہے :
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ (٤٢) خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ ٠٤٣٠
(القلم : ٤٢،٤٣)
جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور وہ سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو وہ (سجدہ کرنے کی) طاقت نہیں رکھیں گے ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ذلت انھیں گھیرے ہوئے ہو گی حالانکہ بلاشبہ انھیں سجدہ کے لیے اس وقت بھی بلایا جاتا تھا جبکہ وہ صحیح سالم تھے ۔ "
سب لوگ سجدے میں چلے جائیں گے دو طرح کے لوگوں کو سجدے کی توفیق نہیں ملے گی :
ایک تو وہ جو دنیا میں سجدہ نہیں کرتے تھے جیسا کہ اللہ فرما رہا ہے :
وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ حالانکہ بلاشبہ (دنیا میں) انھیں سجدہ کے لیے بلایا جاتا تھا جبکہ وہ صحیح سالم تھے ۔ “
لیکن وہ سجدہ کے لیے نہیں آتے تھے ۔ یہاں سجدہ سے مراد فرضی نماز ہے۔
امام سعید بن جبیر اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يُجِيبُونَهَا مِنْ غَيْرِ عُدْرٍ
وہ نماز کی طرف بلائے جاتے تھے لیکن بغیر کسی عذر کے اسے ادا نہیں کرتے تھے۔" ۔ "
(العلل ومعرفة الرجال لاحمد بن حنبل : ٣٧٥٣ و سنده صحيح)
اور فرماتے ہیں کہ نماز باجماعت ادا نہیں کرتے تھے ۔ (ایضاً) تو جو شخص دنیا میں نماز نہیں پڑھتا اسے روز قیامت سجدہ کرنے کی توفیق نہیں ہوگی
اور دوسرے وہ لوگ جو نماز کو دکھاوے اور شہرت کے لئے
پڑھتے تھے ۔۔ابو سعید خدری
نماز چھوڑنا انسان کو کفرو شرک میں مبتلا کرتا ہے انسان کو لگتا ہے کہ وہ جی رہا ہے اسے ہر دنیاوی چیز میسر ہوتی ہے اسکے لئے نماز چھوڑنا کوئی بڑی بات نہیں لگتی لیکن انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا اور وہ دھیرے دھیرے کفریہ اور شرکیہ کاموں میں لگ جاتا ہے
اور حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’سب سے پہلے قیامت کے دن بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر یہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی ٹھیک رہیں گے اور یہ بگڑی تو سبھی بگڑے۔( معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱ / ۵۰۴، الحدیث: ۱۸۵۹)
نے
اللّٰہ تعالیٰ ہرمسلمان کو پابندی کے ساتھ اور صحیح طریقے سے با جماعت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نماز کی ادائیگی میں سُستی اور کاہلی سے محفوظ فرمائے ،اٰمین۔
<