عزیز قارئین کرام! 
دینِ اسلام ایک مکمل دستورِ حیات ہے اور زندگی کے ہر طرز پر مکمل رہنمائی کرتا ہے ، یہ بات واضح ہو کہ شریعتِ اسلامی میں ”حجاب“ایک اہم مسئلہ ہے اور دور حاضر میں ”حجاب“کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے ،امت مسلمہ اس کی فرضیت کو بھولتی جا رہی ہے۔ 
اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں سورہ الاحزاب میں ذکر کیا ہے (یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ) لہذا آیت کریمہ سے پردہ کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔ 
 اس سے پہلے کہ ہم پردہ کو شریعت سے ثابت کریں ہم آپکو چند عقلی, عرفی، لغوی دلائل سے سامنا کرانا مناسب سمجھتے ہیں۔ 
(۱)عورت کو پردہ میں رکھنے کی عقلی دلیل
مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه اپنی کتاب (اصطلاحِ خواتین) میں لکھتے ہیں کہ پردہ کے مسئلہ میں قرآن و حدیث کو بیچ میں لانے کی ضرورت ہی کیا ہے جبکہ قرآن و حدیث کے بغیر ہی اسکی ضرورت ثابت ہو سکتی ہے، اس کے متعلق وہ مثال دیتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی آپ لوگوں نے ریل کا سفر تو کیا ہی ہوگا اور نوٹ بھی ساتھ لیے ہونگے کیا آپ نے کبھی ایسا بھی کیا ہے کہ نوٹ جیب سے باہر نکال کر رکھ دیے ہوں باہر نکال کر رکھنا تو در کنار آپ اس کو جیب سے نکال کر سب کے سامنے گننا بھی پسند نہیں کریں گے یا آپ اس رقم کو اندر والی جیب میں رکھنا پسند کرینگے، کیا اس طرح نوٹ چھپا کر رکھنے کا حکم قرآن پاک میں ہے صرف اسی واسطے چھپا کر رکھا جاتا ہے کہ اظہار میں خطرہ ہے بعینہ بلکہ نوٹ کو ظاہر رکھنے سے زیادہ خطرہ عورت کو باہر نکالنے میں ہے نوٹ کی قیمت تو دو چار ہزار دس ہزار ہوگی کیا ایک عورت کی حیا اس نوٹ سے گئی گزری ہو گئی 
(۲) پردہ ضروی ہونے کی لغوی دلیل 
لغت سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ عورت کو پردہ کرایا جائے کیونکہ اردو میں عورت کو عورت کہتے ہیں جس کے معنی لغت میں چھپانے کی چیز ہے اسی کے ساتھ یہ کہنا کہ عورتوں کو پردہ نہ کراو ایسا ہے کہ کہا جائے کہ کھانے کی چیز کو نہ کھاو، پہننے کی چیز کو نہ پہنو، اس لیے عورت کو عورت کہنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پردہ میں رہنے کی چیز ہے۔ 
(۳) پردہ ضروری ہونے کی شرعی دلیل
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے”اَلۡمَالُ وَ الۡبَنُوۡنَ زِیۡنَۃُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا“ترجمہ: مال اور بیٹے دنیاوی زندگی کی زینت و آرائش ہیں حق تعالیٰ نے بتلا دیا کہ لڑکیاں دنیا کی زینت نہیں بلکہ صرف گھر کی زینت ہے اگر وہ بھی دنیا کی زینت ہوتیں تو حق تعالیٰ شانہ ان کا ذکر بھی یہاں فرماتے ان کا ذکر یہاں نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دنیا کی زینت نہیں کیونکہ عرفا دنیا کی زینت وہ سمجھی جاتی ہے جو منظر عام پر زینت بخش ہو اس لیے کہ زینت کے لیے ظہور شرط ہے پس اس سے عورتوں کے پردے میں رہنے کا ثبوت ملتا ہے
پردے کے فوائد اسلام کی نظر میں
اسلام میں پردہ صرف ایک ظاہری لباس یا کسی رسم کا نام نہیں بلکہ ایک جامع اخلاقی روحانی معاشرتی نظام کا حصہ ہے، جو انسان کو اخلاقی زوال سے بچاتا ہے۔  
(۱)حجاب کا پہلا اور سب سے بڑا فائدہ اللہ کے حکم کی تعمیل ہے، جہاں ایک طرف ایمان والی عورتوں کی فطرت حیا ہے وہیں دوسری طرف نفس اور وساوس شیطان ان جو مغربی تہذیب کی طرف دعوت دیتا ہے، جو بھی پردی اختیار کرتا ہے وہ در حقیقت رضاۓ الہی کو ترجیح دیتا ہے ۔ 
(۲)حجاب کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ عورت کی عزت اور وقار کی حفاظت ہو جاتی ہے، حجاب محض جسم کو نہیں چھپاتا بلکہ ایک باوقار شخصیت کے طور پر متعارف کراتا ہے۔ 
(۳)تیسرا فائدہ یہ ہے کہ حجاب کے ذریعے حیا اور پاکیزگی کا فروغ ہوتا ہے رسول ﷺ کا ارشاد کا فرمان ہے کہ الحیاء شعبۃ من الایمان حجاب معاشرے میں حیا کو عام کو کرتا ہے اور بے حیائی کا راستہ بند کرتا ہے ۔ 
(٤)چوتھا فائدہ یہ ہے کہ حجاب چونکہ غیر ضروری میل جول کو روکتا ہے، جس کے نتیجہ میں خاندانی نظام کا مستحکم ہوتا ہے اور ازدواجی زندگی میں وفاداری بڑھتی ہے۔ 
الغرض پردہ عوت کے لیے قید نہیں بلکہ عزت اور تحفظ اور آزادی کی ضمانت ہے کیونکہ جس میں انسان کی عزت اور ووار اور مرضی سلب ہو جائے اسے قید کہتے ہیں، جبکہ پردہ عورت کو شناخت وقار اور تحفظ عطا کرتا ہے، اسلام نےعورت کو ہردے کے ساتھ تعلیم، تجارت، راۓ اور عبادت کی مکمل اجازت دی ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پردہ قید نہیں بلکہ ایک باوقار ضابطۂ زندگی ہے، پردہ عورت کو نظروں کی غلامی سے آزاد کرتا ہے اور ایک مسلمان خاتون کو ایک باوقار شخصیت بناتا ہے، گر پردہ قید ہوتا تو مذہب اسلام عورت کو پردے کی حالت میں سوال کرنے اور معاشرتی سرگرمیوں کا حصہ بننے کی اجازت ہر گز نہ دیتا 
لہذا یہ کہنا درست نہیں حجاب عورت کے لیے قید ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حجاب عورت کے لیے ڈھال تحفظ اور وقار ہے 
از: برادرِ محترم