*اے اسلام کے مقدس شہزادوں کیا تم اپنی روایات کو بھول گئے؟*
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ کچھ قومیں ہتھیاروں سے نہیں، نظریات سے زندہ رہتی ہیں، اور کچھ امتیں تعداد سے نہیں، قربانی سے پہچانی جاتی ہیں، امتِ محمدیہ ﷺ بھی انہی میں سے ایک تھی، جس کے افراد کے سینوں میں ایمان دھڑکتا تھا، آنکھوں میں مقصد جلتا تھا، اور پیشانیوں پر سجدوں کی مہر ثبت تھی، یہ امت صرف عبادت گزار نہیں تھی، بلکہ حق کی محافظ تھی، ظلم کے مقابل ڈٹ جانے والی اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانے والی تھی، مگر آج ایک خاموش سوال فضا میں معلق ہے، جو زبان سے نہیں بلکہ ضمیر سے نکلتا ہے، اے اسلام کے مقدس شہزادوں کیا تم اپنی روایات کو بھول گئے؟۔
وہ روایات جو تمہیں راتوں کو جاگنے اور دنوں کو حق پر کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی تھیں، وہ روایات جو سجدوں میں آنسو اور میدانِ عمل میں استقامت پیدا کرتی تھیں، وہ روایات جو تمہیں صبر کے معنی سکھاتی تھیں، غیرت کو ایمان کا حصہ بناتی تھیں، شجاعت کو شعور کے تابع رکھتی تھیں، اور قربانی کو زندگی کا سب سے بلند مقصد قرار دیتی تھیں، کیا وہ واقعی صرف کتابوں کے اوراق، خطبوں کے جملوں اور تقریروں کے نعروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں؟ ہم ماضی کے معرکوں کو بڑے فخر سے دہراتے ہیں، مگر حال میں کسی امتحان کا سامنا آئے تو قدم ڈگمگا جاتے ہیں، ہم تاریخ کے ہیروؤں کے نام تو لیتے ہیں، مگر خود تاریخ بنانے کا حوصلہ کھو بیٹھے ہیں، ہم شہادت کے تذکرے عقیدت سے تو کرتے ہیں، مگر اس کے حقیقی مفہوم، اس کی روح، اور اس کے تقاضوں سے نظریں چرا لیتے ہیں، حالانکہ اسلام میں زندگی بھی مقصد کے بغیر بے معنی ہے اور موت بھی مقصد کے بغیر بے وقعت، اسی لیے اسلام میں بہادری محض تلوار اٹھانے، نعرہ لگانے یا جوش دکھانے کا نام نہیں، بلکہ حق کو پہچاننے، اسے دل و جان سے قبول کرنے، اور پھر ہر حال میں اس پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے، چاہے اس کی قیمت آرام ہو، مفاد ہو، شہرت ہو یا جان، اسلام نے اپنے پیروکاروں کو کبھی یہ تعلیم نہیں دی کہ وہ اندھی طاقت کا مظاہرہ کریں، بلکہ یہ سکھایا کہ وہ ایمان کے سہارے کھڑے ہوں، عدل کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کریں، صبر کے دامن کو تھامے رکھیں، اور قربانی کو وقتی جنون نہیں بلکہ مستقل ذمہ داری سمجھیں، یہی وہ تربیت تھی جس نے اسلام کے ایسے بہادر پیدا کیے جنہوں نے صرف جنگیں نہیں جیتیں بلکہ دل فتح کیے، صرف سلطنتیں قائم نہیں کیں بلکہ اقدار زندہ کیں، اور صرف اپنے عہد کو نہیں بلکہ آنے والی صدیوں کی سمت کو بھی بدل کر رکھ دیا۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اسلام کی اس غیرتِ ایمانی کی روشن مثال ہیں، جنہوں نے حق کی توہین کو برداشت نہ کیا، اور اعلان کر دیا کہ محمد ﷺ کا دین ہی میرا دین ہے، ان کی بہادری کسی ذاتی مفاد کی محتاج نہ تھی، وہ ایمان کی آگ میں تپ کر فولاد بنے تھے، اُحد کے میدان میں ان کا جسم کٹ گیا، مگر ان کا پیغام زندہ رہا، کہ اسلام غیرت کے بغیر باقی نہیں رہتا، اور باطل کے سامنے خاموشی اختیار کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بہادری اگر شعور سے خالی ہو تو فتنہ بن جاتی ہے، علی میدانِ جنگ میں بھی عادل تھے، اور فیصلے کے وقت بھی حکیم تھے، خیبر کا دروازہ اکھاڑ دینا تاریخ کا ایک واقعہ ہے، مگر نفس کے دروازے بند رکھنا اصل کمال ہے، انہوں نے ثابت کیا کہ اسلامی بہادری تلوار کے ساتھ ساتھ تقویٰ اور عدل کا تقاضا کرتی ہے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اسلام کی شجاعت نظم، اطاعت اور مقصد کے بغیر ادھوری ہے، وہ کبھی جنگ نہ ہارے، مگر کبھی غرور میں مبتلا نہ ہوئے، قیادت ملی تو جان لڑا دی، قیادت نہ ملی تو سر جھکا کر اطاعت قبول کر لی، یہی وہ روح ہے جو اسلامی جدوجہد کو خالص رکھتی ہے، اور یہی وہ قربانی ہے جو اللہ کے نزدیک وزن رکھتی ہے۔
اور پھر کربلا کا وہ عظیم لمحہ، جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ نے دنیا کو یہ سکھایا کہ حق اور باطل کے درمیان سمجھوتہ ممکن نہیں، کربلا کوئی وقتی معرکہ نہ تھا، بلکہ ضمیرِ انسانی کا امتحان تھا، امام حسین نے جان، اہل و عیال اور سب کچھ قربان کر دیا، مگر باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، انہوں نے واضح کر دیا کہ خاموش رہ کر جینا زندگی نہیں، اور حق پر مر جانا ہی اصل حیات ہے۔
*اے اسلام کے مقدس شہزادوں* *کیا تمہیں اسلام پر اٹھتا ہوا ہاتھ نظر نہیں آتا؟ کیا تمہیں دین کے احکام کا مذاق، اس کی تعلیمات پر طنز، اور اس کی اقدار کو مٹانے کی کوششیں محسوس نہیں ہوتیں؟ کیا تمہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ذاتِ اقدس پر اٹھتی ہوئی انگلیاں دکھائی نہیں دیتیں، جو کبھی آزادی کے نام پر، کبھی تہذیب کے عنوان سے، اور کبھی ترقی کے فریب میں لپٹی ہوتی ہیں؟ اگر سب کچھ ہو رہا ہے تو پھر سوال یہ نہیں کہ دنیا کیوں بگڑ رہی ہے، سوال یہ ہے کہ تم کہاں کھڑے ہو؟کیا تمہیں اپنی بہنوں پر اٹھتی ہوئی انگلی نظر نہیں آتی؟ کیا تمہیں ان کے حجاب کی طرف بڑھتا ہوا وہ ہاتھ دکھائی نہیں دیتا جو صرف کپڑے نہیں، ان کی عزت، ان کی شناخت اور ان کے ایمان کو نوچنے کے درپے ہے؟ کیا تمہیں وہ نگاہیں محسوس نہیں ہوتیں جو احترام نہیں، ہوس سے بھری ہوئی ہیں، اور وہ رویّے نظر نہیں آتے جو تحفظ نہیں بلکہ تذلیل کا پیغام دیتے ہیں؟ کیا تمہیں ان کے ساتھ ہوتی ہوئی زیادتیاں، خاموش چیخیں، اور دبے ہوئے آنسو دکھائی نہیں دیتے، یا تم نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لی ہیں؟*
آخر تمہاری غیرتِ ایمانی کہاں چلی گئی ہے؟ وہ غیرت جو نگاہوں کو جھکا دیتی تھی، زبانوں کو سنبھال لیتی تھی، اور قدموں کو حق کے لیے اٹھا دیتی تھی، کہاں چلا گیا اسلام کا وہ تصور جو تمہیں عطا کیا گیا تھا، جس میں مرد محافظ تھا، ذمہ دار تھا، جواب دہ تھا، اور عورت عزت، امانت اور حرمت کی علامت تھی؟ کیا اسلام صرف دعووں، نعروں اور شناختی کارڈ تک محدود ہو گیا ہے، یا وہ اب بھی تمہاری زندگیوں کا رہنما بننے کا حق رکھتا ہے؟
آج کا المیہ یہ ہو گیا ہے، کہ ہم ان سب مثالوں کو عقیدت سے سنتے تو ہیں، مگر ان کے مطالبات سے نظریں چرا لیتے ہیں، ہم قربانی کی بات کرتے ہیں، مگر جب قربانی کا وقت آئے تو مصلحت کے پردے اوڑھ لیتے ہیں، حالانکہ اسلام آج بھی ہم سے یہی سوال کر رہا ہے، کیا تم صرف ماضی کے وارث ہو، یا حال کے ذمہ دار بھی ہو؟ شہادت کا جذبہ اندھی موت کی خواہش نہیں، بلکہ بامقصد زندگی کا اعلان ہے، یہ اس عزم کا نام ہے کہ حق کے لیے جینا بھی عبادت ہے، اور حق پر مر جانا بھی کامیابی ہے، باطل کے سامنے نہ جھکنا، ظلم کے خلاف کھڑا ہونا، اور دین کو اپنی ذات، آرام اور مفاد سے اوپر رکھنا، یہی وہ روح ہے جس نے اس امت کو زندہ رکھا۔
اے اسلام کے مقدس شہزادوں اگر تم نے اپنی روایات کو پھر سے تھام لیا، تو تاریخ ایک بار پھر تمہیں آواز دے گی، اور اگر تم نے انہیں فراموش کیے رکھا، تو انجام وہی ہوگا جو ہر بھولی ہوئی قوم کا ہوتا ہے، یاد رکھو، امتیں دعووں سے نہیں، قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں، اور اسلام آج بھی تم سے قربانی مانگ رہا ہے، مگر شعور، حکمت اور ایمان کے ساتھ، اور وہ اسلام کے ان مقدس شہزادوں کا منتظر ہے جو دنیا کمر کو پلٹنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، اور یہ بات یقینی ہے اگر اس دنیا میں کوئی امن و سکون کو قائم رکھ سکتا ہے ہر حق والے کو حق دلا سکتے ہیں تو وہ اسلام کے شہزادے ہیں، خدارا اپنے آپکو سمجھیں اور دنیا کے پنجے کو پھر سے موڑ کر اسلام کے پرچم کو رونما کریں،اللہ ہمارا حامی و ناصر ہے۔

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*