ہم شکوہ بہت کرتے ہیں، شکر کم

انسان کی ایک عجیب کمزوری یہ ہے کہ جو چیز اس کے پاس ہوتی ہے وہ اسے معمولی لگنے لگتی ہے، اور جو اس کے پاس نہیں ہوتی وہی اس کی گفتگو، شکایت اور شکوے کا مرکز بن جاتی ہے۔ ہم صحت میں بیماری کا ذکر کرتے ہیں، روزگار میں تنگی کا رونا روتے ہیں، رشتوں میں کمی ڈھونڈتے ہیں، مگر ان ان گنت نعمتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہر سانس کے ساتھ ہمیں عطا ہو رہی ہیں۔
شکوہ دراصل دل کی بےقراری کی علامت ہے، جبکہ شکر دل کے سکون کا راستہ ہے۔ جو زبان شکر کی عادی ہو جائے، وہ حالات کی سختی میں بھی نعمت تلاش کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکر نعمت کو صرف بڑھاتا ہی نہیں، بلکہ انسان کے اندر اطمینان بھی پیدا کرتا ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ شکر صرف زبان سے ادا ہونے والا جملہ نہیں، بلکہ نعمت کو درست جگہ استعمال کرنے کا نام ہے۔ آنکھوں کا شکر یہ ہے کہ انہیں حرام سے بچایا جائے، وقت کا شکر یہ ہے کہ اسے بےکار ضائع نہ کیا جائے، اور رشتوں کا شکر یہ ہے کہ ان کی قدر کی جائے۔
اگر انسان شکوے سے شکر کی طرف سفر کر لے تو نہ حالات بدلتے ہیں، نہ تقدیر—مگر نظر بدل جاتی ہے، اور یہی نظر زندگی کو قابلِ برداشت نہیں بلکہ قابلِ شکر بنا دیتی ہے۔