طالبِ علم، موبائل اور انٹرنیٹ - علم کی راہ - یا گمراہی کا راستہ؟ 
بسم اللہ الرحمن الرحیم. مضمون (84)
آج کے طالبِ علم کو ہم دیکھتے ہیں کتاب سے زیادہ موبائل سے جڑا ہوا ہے، استاد کی آواز سے زیادہ نوٹیفکیشن کی گھنٹی سنتا ہے، اور قرآن و حدیث کے اوراق سے زیادہ اسکرین کی چمک میں کھویا ہوا ہے۔ مدرسہ کا وہ ماحول جو کبھی خاموشی، ادب، وقار، محنت اور علم کی خوشبو سے مہکتا تھا، آج آہستہ آہستہ لائکس کی بھوک، تبصروں کے نشے اور شہرت کی خواہش میں دم توڑتا جا رہا ہے۔ یہ بات کڑوی ضرور ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ مدرسہ کے طالب علم کے لیے - عربی اول سے لے کر دورۂ حدیث تک — موبائل اور انٹرنیٹ فائدے سے زیادہ نقصان کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ یہ علم کا سہارا نہیں، بلکہ علم کے لیے سب سے بڑا خطرہ اور سب سے خاموش قاتل ہیں۔ موبائل: شیطان کا کچھ لوگوں کے لیئےجدیدہتھیارہے شیطان کبھی سیدھا یہ نہیں کہتا کہ. گناہ کرو؛ یا غفلت برتو ؛بلکہ بڑے حسین پردے میں کہتا ہے: تم تو دین کی خدمت کر رہے ہو، تم تو علم پھیلا رہے ہو، تم تو اصلاح کر رہے ہو!؛ اور طالب علم خوشی خوشی موبائل ہاتھ میں لے کر سمجھتا ہے کہ وہ مبلغ اور قلم کار بن چکا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ کتاب سے دور، اساتذہ سے غافل، اور اپنے نفس کا غلام بنتا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ. 
اے ایمان والو! تمہیں تمہارا مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے. (المنافقون: 9) 
آج اگر اس آیت کی عملی تفسیر دیکھنی ہو تو مدرسہ کے طالب علم کے ہاتھ میں موجود موبائل کافی ہے، جو نہ صرف ذکرِ الٰہی سے بلکہ ذکرِ کتاب سے بھی غافل کر رہا ہے۔
لائکس کی بھوک، حقیقتاً علم کی موت ہے. جو طالب علم موبائل پر اپنی تحریریں شائع کرتا ہے، ذرا انصاف سے بتاؤ:
وہ دن میں کتنی بار اسکرین کھولتا ہے؟
کتنی بار انگلیاں گھماتا ہے؟
کتنی بار لائکس، تبصرے اور فالورز گنتا ہے؟
اور پھر فخر سے کہتا ہے: ہم موبائل بھی چلاتے ہیں اور سبق بھی پڑھ لیتے ہیں؛ 
یہ خود فریبی ہے، سب سے بڑا دھوکہ ہے. جب سارا دھیان وہیں صرف ہو جائے تو کتاب میں دھیان کہاں سے آئے گا؟ وہ کیا خاک پڑھے گا؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں مبتلا ہیں: صحت اور فارغ وقت؛ (ترمذی 2304) 
طالب علم کا سب سے قیمتی سرمایہ وقت ہے، اور موبائل وہ ڈاکو ہے جو یہ وقت خاموشی سے لوٹ لیتا ہے۔
طلبِ علم کا اصل میدان: کتاب، استاد اور محنت ہونا چاہیئے ؛
میرے طالب علم ساتھیو! اپنے علم کا لوہا منوانے کے لیے تمہیں فیس بک، یوٹیوب اور انسٹاگرام کی نہیں، بلکہ کتاب، استاد، مباحثہ، حافظہ اور محنت کی ضرورت ہے۔ ہر مدرسہ کی دیوار پر لٹکا ہوا بورڈ تمہارے لیے موجود ہے: وہاں اپنا مضمون لگاؤ، وہاں اپنا قلم آزماؤ، وہاں اپنا جذبہ دکھاؤ؛ مگر موبائل اور انٹرنیٹ کے بغیر!
یہی اصل تربیت ہے، یہی اصل اخلاص، یہی اصل طلبِ علم۔ ہاں!. جب آپ چھٹیوں میں گھر جاؤ تو اپنے محلے میں درس دو، مسجد میں بچوں کو پڑھاؤ، بوڑھوں کے سوالوں کے جواب دو۔ لوگ تمہاری زبان سے دین سنیں، تمہارے اخلاق سے اسلام پہچانیں۔ تب تمہارے والدین کا سر فخر سے بلند ہوگا، رشتہ دار مثال دیں گے، اور لوگ کہیں گے:. ہاں! یہ ہے مدرسہ کا طالب علم!؛ 
مگر یاد رکھو، یہ سب کچھ موبائل کے بغیر ہونا چاہیے، کیونکہ اصل عالم وہ ہے جس کا علم دلوں میں اترے، اسکرینوں میں نہیں۔ موبائل علم نہیں، شہرت سکھاتا ہے موبائل تمہیں عالم نہیں بناتا،
موبائل تمہیں مشہور بناتا ہے۔ عالم بننا جنت کی راہ ہے، مشہور بننا نفس کی غذا۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے فرماتے ہیں: اگر تم نے نفس کو مصروف نہ رکھا تو نفس تمہیں باطل میں مصروف کر دے گا۔ اور آج طالب علم کا نفس سب سے زیادہ موبائل میں مصروف ہے۔
البتّہ ہاں : - وہ طلبہ جو دورۂ حدیث مکمل کر چکے ہیں اور اب معاشرے کی رہنمائی، دعوت، فتویٰ یا تدریس میں مصروف ہیں، جنہیں واقعی امت کے مسائل سے واسطہ پڑ چکا ہے، وہ اس تحریر سے مستثنیٰ ہیں۔
مگر نوآموز طالب علم کے لیے موبائل رحمت نہیں، زہر ہے۔
سنو . اے طالبِ علم!
موبائل تمہیں وقتی چمک دے گا، مگر علم تمہیں دائمی نور دے گا۔ موبائل تمہیں اسکرین پر زندہ رکھے گا، مگر علم تمہیں تاریخ میں زندہ کرے گا۔ اگر آج بھی تم نے خود کو نہ روکا تو کل تمہارے ہاتھ میں ڈگری ہوگی، مگر دماغ خالی، دل مردہ، اور امت تم سے مایوس ہوگی۔ لہٰذا اس بلا سے دور رہو، اس فتنے سے بچو، اس زہر سے خود کو محفوظ رکھو، کیونکہ:
قومیں موبائل سے نہیں، کتاب سے بنتی ہیں۔ امت اسکرین سے نہیں، سجدے سے زندہ رہتی ہے۔
                  بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com