(34)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
___
"سیمانچل اور جوکی ہاٹ: اتحاد، بصیرت اور ووٹ کی طاقت"
___.
دنیا کے ہر جمہوری نظام میں ووٹ کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔
یہ صرف ایک انگلی اٹھانے کا عمل نہیں، بلکہ ایک عہد اور امانت ہے —
ایسا عہد جس سے قوموں کی تقدیر بدلتی ہے، اور ایسی امانت جس کا حساب خدا کے سامنے بھی دینا ہے۔
جمہوری ملک میں ووٹ ہی وہ طاقت ہے جو عام شہری کو طاقتور طبقے کے برابر کھڑا کرتی ہے
آج بہار میں، اور بالخصوص سیمانچل کے علاقوں میں، یہ انتخاب محض سیاسی نہیں —
یہ فکری اور وجودی انتخاب ہے چنانچہ
ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخ متعین ہو چکی ہے۔
یہ محض ایک انتخاب نہیں، بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے —
پورے ہندوستان کی نظریں آج بہار پر جمی ہوئی ہیں۔
یہاں کے نتائج صرف بہار کی سیاست نہیں بلکہ پورے ملک کے سیاسی مزاج پر اثر ڈالیں گے۔
آج ہر انصاف پسند، سیکولر، دلت اور مسلم طبقہ اس خواہش میں ہے کہ بہار کو فرقہ پرستی اور نفرت کی سیاست سے نجات ملے،
اور انصاف، بھائی چارے، ترقی اور قیادتِ صالحہ کا نظام قائم ہو۔
قیادت کا انتخاب
ایسے حساس ماحول میں ہر پارٹی سربراہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹکٹ بانٹنے میں احتیاط اور حکمت سے کام لے۔
کوئی بھی سیٹ محض کسی مفاد یا مصلحت کے تحت نااہل امیدوار کو دے کر ضائع نہ کی جائے۔
کیونکہ ایک غلط فیصلہ صرف ایک حلقے کا نقصان نہیں کرتا، بلکہ پوری ملت کے حوصلے کو متأثر کرتا ہے۔
بطورِ خاص سیمانچل کے علاقے میں جہاں کے عوام پہلے بھی ماضی میں سیاسی دھوکے کا شکار ہو چکے ہیں،
ضرورت ہے کہ ایم آئی ایم (MIMIM) جیسی پارٹی اس بار پختہ شعور، سنجیدگی اور تجربے سے فیصلہ کرے۔
ایک غلط انتخاب نہ صرف سیمانچل کے سیاسی ماحول کو متاثر کرے گا بلکہ اتحاد و اتفاق کے تانے بانے کو بھی کمزور کر دے گا۔
🔹 ارریہ اور جوکی ہاٹ اصل میں — قیادت کا مرکز ہے
ارریہ اور جوکی ہاٹ اسمبلی حلقہ اس وقت توجہ کا مرکز ہیں۔
یہاں سے اگر درست قیادت کا انتخاب ہوا، تو یہ پورے خطے کی سیاسی بیداری کی علامت بن سکتا ہے۔
اس لیے پارٹی قیادت کو چاہیے کہ وہ گہرے غور و فکر اور مشاورت سے فیصلہ کرے۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ یہاں ایم آئی ایم کے دو متحرک، باصلاحیت اور معروف لیڈر موجود ہیں —
خطیبِ دوراں حضرت مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی حفظہ اللہ اور جناب مکھیا مرشد صاحب۔
دونوں ہی ملت میں اثر و نفوذ رکھنے والی شخصیات ہیں، جو بہار میں پارٹی کے نظریے کو مضبوط کرنے میں سرگرم رہے ہیں۔
مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں —
ان کی انتھک کوششوں نے گزشتہ سات برسوں میں ایم آئی ایم کو بہار میں متعارف کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
البتہ یہ بات تمام کارکنان اور عوام کے لیے نہایت اہم ہے کہ
پارٹی کی جانب سے جن کو بھی ٹکٹ ملے — چاہے مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی ہوں یا مکھیا مرشد صاحب —
سب کو استقامت، ضبط، اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ایسا کوئی عمل یا بیان نہ ہو جس سے ان دو شخصیات کے درمیان یا عوام میں نفرت، انتشار یا بداعتمادی پیدا ہو۔
یاد رکھیں! انتشار ملت کو کمزور کرتا ہے،
جبکہ نظم و ضبط اور اتفاق ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔
ووٹ — امانت، شعور اور قوم کی آواز ہے
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ووٹ دینا کوئی معمولی کام نہیں۔
یہ امانت بھی ہے، عبادت بھی، اور قومی فریضہ بھی۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا"
(النساء: 58)
"اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو۔"
لہٰذا ووٹ کسی نعرے یا شخصیت کے جوش میں نہیں، بلکہ ایمانداری، اہلیت اور خوفِ خدا کے معیار پر دینا چاہیے۔
اگر کوئی دوسری پارٹی اس معیار پر بہتر اور دیانتدار قیادت فراہم کر رہی ہو تو ووٹ کا حق اسی کو دیجئے —
کیونکہ ووٹ کا مقصد شخص نہیں، نظامِ عدل کا قیام ہے۔
انتشار نہیں، اتحاد کی ضرورت ہے
ملتِ اسلامیہ کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج افتراق اور بے اعتمادی ہے۔
اگر ہم ذاتی پسند و ناپسند، علاقائی یا جماعتی وابستگیوں میں الجھ گئے تو
ہمارے ووٹ بکھر جائیں گے اور دشمن کامیاب ہو جائے گا۔
ہمیں اپنے لیڈروں پر اعتماد کرنا ہوگا،
اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے عوام میں نفرت یا بداعتمادی پھیلے۔
کیونکہ ہمارا اصل ہدف اقتدار نہیں، بلکہ قوم کی عزت، امن اور انصاف کا قیام ہے۔
شعورِ ووٹ — مستقبل کی ضمانت ہے
قوموں کی ترقی صرف دعاؤں سے نہیں ہوتی —
بلکہ فیصلہ ساز لمحوں میں درست انتخاب سے ہوتی ہے۔
بہار کے عوام کو چاہیے کہ وہ مقررہ تاریخ پر اپنے ووٹ کا استعمال لازمی کریں،
کیونکہ ووٹ نہ دینا بھی ایک غیر ذمہ دارانہ جرم ہے۔
ووٹ صرف ایک دن کا عمل نہیں،
یہ آنے والے پانچ سال کے مستقبل کی ضمانت ہے۔
لہٰذا اپنی رائے کا استعمال سنجیدگی، تدبر اور اجتماعی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں۔
یہ تحریر کسی پارٹی کی حمایت یا مخالفت میں نہیں،
بلکہ عوامی شعور اور زمینی حقیقت کو اجاگر کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔
اگر کوئی جماعت واقعی اہل، مخلص، دیانتدار اور خوفِ خدا رکھنے والی قیادت پیش کرتی ہے،
تو اسے ووٹ دینا دراصل حق کی حمایت ہے۔
اب یہ بہار کے عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ
ووٹ کو ضمیر کی آواز بنائیں یا بے حسی کا ثبوت۔
قومیں وہی سرخرو ہوتی ہیں جو اپنے فیصلے ایمان اور اخلاص سے کرتی ہیں۔
بہار کا یہ الیکشن صرف سیاسی نہیں، قوم کے شعور کا امتحان ہے۔
آیئے ہم سب عہد کریں کہ اس بار ہم سستی، غفلت یا انتشار کا شکار نہیں ہوں گے —
بلکہ اپنے ووٹ کے ذریعے انصاف، اتحاد اور قیادتِ صالحہ کو کامیاب بنائیں گے۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com