*انسانیت کو فروغ دینے والے امریکی دلالوں کے کارنامے*
کبھی کبھی کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جو صرف آنکھوں کو نہیں، بلکہ انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں، حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی بعض ویڈیوز اور رپورٹس بھی کچھ ایسی ہی ہیں، ایسی لرزہ خیز حقیقتیں جنہیں دیکھ کر زبان گنگ، نگاہیں ساکت اور دل شرمندگی سے بوجھل ہو جاتا ہے، یہ وہ مناظر ہیں جو انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ کیا واقعی ہم کسی مہذب دنیا میں زندہ ہیں، یا محض خوبصورت نعروں کے فریب میں مبتلا ہیں؟
چھوٹی چھوٹی بچیاں جن کے ہونٹوں پر ابھی بولنے کی مکمل صلاحیت بھی نہیں آئی، جن کی آنکھوں میں کھیل، معصومیت اور اعتماد کے سوا کچھ نہیں ہوتا، انہیں ایسے درندہ صفت اعمال کا نشانہ بنایا گیا کہ انسانیت خود اپنے وجود پر شرما جائے، یہ وہ عمر ہوتی ہے جہاں بچی کو ماں کی گود، باپ کی شفقت اور معاشرے کی حفاظت نصیب ہونی چاہیے، مگر یہاں اسے ہوس کی منڈی میں لا کھڑا کیا گیا، سوال یہ ہے کہ یہ سب کہاں ہو رہا ہے؟اسی امریکہ میں جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی مہذب ریاست کہتا ہے، جو انسانیت کا علمبردار بن کر پوری دنیا کو اخلاقیات کے اسباق پڑھاتا ہے۔
یہی امریکہ عورتوں کے حقوق کے نام پر دنیا بھر کو لیکچر دیتا ہے، آزادیِ نسواں کے نعرے لگا کر دوسروں کے مذہب، تہذیب اور خاندانی نظام کو ہدفِ تنقید بناتا ہے، خاص طور پر اسلام کو نشانہ بنا کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حجاب قید ہے، مشرقی معاشرہ پسماندہ ہے، اور مذہب عورت کی آزادی کا دشمن ہے مگر سوال یہ ہے، یہ کیسی آزادی ہے جس میں بچپن محفوظ نہیں؟ یہ کیسی انسانیت ہے جس میں معصومیت کی کوئی حرمت باقی نہیں رہتی، امریکی سماج میں آزادی کے نام پر عورت کو ایک شے بنا دیا گیا،اس کے جسم کو نمائش کا ذریعہ، اس کی نسوانیت کو کاروبار، اور اس کی عزت کو منڈی کی چیز بنا دیا گیا، جب عورت کی یہ حیثیت بنے تو پھر یہ کوئی تعجب کی بات نہیں رہتی کہ اسی نظام کے اندر معصوم بچیاں بھی اسی گندگی کی نذر ہو جائیں، یہ محض چند افراد کی انفرادی برائیاں نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سماجی زوال ہے، جسے کلچر، آرٹ اور فریڈم جیسے خوبصورت الفاظ میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے، اور پھر وہ مقام آتا ہے جہاں ضمیر چیخ اٹھتا ہے *یہ کون سی انسانیت ہے جہاں سات، آٹھ، نو سال کی بچیوں کو جنسیت کا استعارہ بنا دیا جاتا ہے؟ یہ کون سی تہذیب ہے جہاں بہن اور بیٹی کی تمیز مٹا دی جاتی ہے، جہاں رشتوں کی حرمت محض ایک فرسودہ خیال بن کر رہ جاتی ہے؟ یہ کون سی ترقی ہے جہاں ستر سال کا بوڑھا دس بارہ سال کی بچی کے جسم پر حق جتاتا ہے، اور سماج اسے ذاتی معاملہ کہہ کر نظر انداز کر دیتا ہے؟*
یہ وہ سماج ہے جہاں نابالغ بچیوں کو زبردستی جنسیت پر مجبور کیا جاتا ہے، جہاں کمسن لڑکیوں کو کمروں میں قید کر کے ان کی عزت کو چکناچور کیا جاتا ہے، اور پھر اسے ایبس یا سائیکالوجیکل مسئلہ کہہ کر فائلوں میں بند کر دیا جاتا ہے، یہ وہ معاشرہ ہے جہاں عریانی پر فخر کیا جاتا ہے، جہاں ماں بیٹی، باپ بیٹی، بیٹا ماں جیسے مقدس رشتے بھی اخلاقی حدود سے محروم کر دیے جاتے ہیں، یہ انسانیت نہیں،یہ جانوروں سے بھی بدتر طرزِ حیات ہے۔
دل دہلا دینے والی اور افسوسناک بات یہ ہے کہ جب یہی جرائم کسی غیر مغربی یا مسلم معاشرے میں ہوں تو انسانی حقوق کا شور مچ جاتا ہے، عالمی میڈیا چیخ اٹھتا ہے، پابندیاں لگتی ہیں، اور مہذب دنیا کے نمائندے اصلاح کے لیے آن پہنچتے ہیں،اور یونیورسٹیوں حمقاء اسکو سراہتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس جہنم دہکتی ہوئی آتش میں گرانے پر فخر محسوس کیا جانے لگتا ہے،ترقی کے نام پر جوان لڑکیاں اپنے سکون والے گھر میں خود کو قید سمجھنے لگتی ہیں۔
اور سوشل میڈیا پر بیٹھے دلال خود کو انکا نمائندہ تصور کرکے انہیں فروغ دینے لگتے ہیں،جب وہ کلی طور پر گھر سے آزادی ملنے پر جنسیت کا شکار ہو کر نشانہ بننے لگتی ہیں، پھر شور مچاتی ہیں اور میڈیا کے دلال چیخنا شروع کر دیتے ہیں، مگر جب یہی درندگی امریکی سماج کے اندر، اس کے ایلیٹ نیٹ ورکس، تفریحی صنعت اور طاقتور طبقات سے جڑی ہوئی سامنے آتی ہے تو اچانک سب خاموش ہو جاتے ہیں، جرم انفرادی قرار پاتا ہے، ریاست محتاط ہو جاتی ہے، اور میڈیا نظریں چرا لیتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں امریکہ انسانیت کا محافظ نہیں رہتا بلکہ انسانیت کا دلال بن کر سامنے آتا ہے،ایسا دلال جو عورتوں کے حقوق کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے، مگر بچوں کی معصومیت پر پردہ ڈال دیتا ہے، جو اخلاقیات کا درس دیتا ہے، مگر اپنے ہی گھر میں ہونے والی درندگی کو چھپا لیتا ہے۔
یہ تحریر نفرت نہیں پھیلا رہی یہ آئینہ دکھا رہی ہے،وہ آئینہ جس میں ایک ریاست کا اصل چہرہ نظر آتا ہے، جو خوبصورت نعروں کے پیچھے چھپا ہوا ہے مگر حقیقت میں اخلاقی طور پر ننگا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی انسانیت تقریروں، قراردادوں اور نعروں سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ وہاں ثابت ہوتی ہے جہاں سب سے کمزور محفوظ ہو، اور جو معاشرہ اپنی سب سے کمزور مخلوق یعنی بچوں کو تحفظ نہ دے سکے، اسے انسانیت کا علمبردار کہلانے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں،یہی سچ ہے اور سچ ہمیشہ تلخ ہوتا ہےاور طاقتوروں کے لیے ہمیشہ خطرناک بھی۔
کھلے لفظوں میں بات یہ ہے کہ امریکہ اور تمام مغربی ریاستیں آزادی کے نام پر بے انتہا بچیوں کی زندگی کو جہنم میں ڈھکیل رہے ہیں اور انکی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، اور ہمارا معزز معاشرہ اسکو ترقی سمجھا ہوا ہے،یاد رکھیں دنیا کی سب سے ذلیل اور بدنام ریاست امریکی ریاست ہے،جہاں عزت کے نام پر دھوکہ اور غیرت کے نام پر بچیوں کو جنسیت کا نشانہ بنانا انکی قدیم روایت ہے،اور ایک عاقل انسان اسکو خود بھی سمجھ سکتا ہے جس ریاست میں خود خود کی بچی محفوظ نہ رہ سکے وہ کیونکر کسی دوسرے کے بچی کی حفاظت کا ضامن خود کو کیسے تصور کر سکتا ہے،اور بالخصوص اسلام کے پیروکار کیسے اسکو امن و سکون کا پیغام دینے والا تصور کر سکتے ہیں، میں تو کہتا ہوں دنیا کی سب سے زیادہ ذلیل اور بدگمانی اور عریانیت امریکی دلالوں سے ہو کر کسی دوسری قوم میں ڈیولپ ہوتی ہے،امریکہ عزرائیل اور انکی حمایت کرنے والے تمام ممالک ناجائز ریاست ہیں۔

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*