طالبات علوم نبوت اور زبان و قلم کی ذمہ داری
08 فروری، 2026
اسلام کا چمن زار محض مٹی اور پانی کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ اس کی شادابی اور نمو کے پسِ پردہ خونِ جگر اور سحرِ بیانی کی تپش موجود ہے۔ دعوت و عزیمت کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی حق کی کونپلوں کو باطل کے جھکڑوں نے مرجھانا چاہا، تو 'خطابت' کی گرج چمکی اور 'کتابت' کی مشکبار بوندوں نے اس گلستاں کو ایک نئی زندگی عطا کی۔ قرطاس و قلم کی حرمت اور زبان و بیان کی رفعت محض انسانی ہنر نہیں، بلکہ اس کی جڑیں عرشِ الٰہی سے جڑی ہیں۔ خالقِ کائنات نے جب کائنات کی بساط بچھائی، تو اپنی ربوبیت کا تعارف 'الرحمن' سے کرایا، اور انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اسے 'بیان' کی وہ شمشیرِ براں عطا کی جو اسے کائنات کی تمام مخلوقات میں ممتاز کرتی ہے۔ یہ گویا وہ الٰہی جوہر ہے جس کے ذریعے ضمیر کے نہاں خانوں میں پلنے والے افکار، الفاظ کا پیراہن پہن کر انقلاب کی صور پھونک دیتے ہیں۔
تاریخ کے افق پر جب ہم نگاہ دوڑاتے ہیں، تو نبوت کے ماتھے پر خطابت کا جھومر سجا نظر آتا ہے۔ یہ وہی فیضانِ نظر تھا جس نے جاہلیت کی بنجر زمین کو توحید کے لالہ و گل سے بھر دیا۔ سیدنا شعیب علیہ السلام کی 'خطیب الانبیاء' والی وجاہت ہو یا کلیم اللہ (حضرت موسیٰ علیہ السلام) کی وہ دعا، جس نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی فصاحت کو فرعون کے استبداد کے خلاف بطورِ ڈھال مانگا تھا—یہ سب اس حقیقت کے استعارے ہیں کہ باطل کی جڑیں کاٹنے کے لیے زبان کی کاٹ ناگزیر ہے۔ اور پھر، جب نبوت کا آفتاب اپنی تمام تر تابانیوں کے ساتھ سیدِ لولاک ﷺ کی صورت میں طلوع ہوا، تو آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے کلمات وہ بکھرے ہوئے موتی بن گئے جنہوں نے ابد تک کے لیے انسانیت کی صراطِ مستقیم کو منور کر دیا۔
دوسری جانب، پروردگارِ عالم نے 'نون والقلم' کی قسم کھا کر قلم کی حرمت پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔ قلم محض لکڑی کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ وہ پاسبان ہے جو خیالات کے پرندوں کو صفحہِ قرطاس پر قید کر کے تاریخ کے لیے محفوظ کر لیتا ہے۔ آج کے اس پُر آشوب دور میں، جہاں مادی ہتھیاروں سے زیادہ 'میڈیا' اور 'پراپیگنڈا' کے زہریلے تیر ناموسِ رسالت اور قرآنی اقدار پر شب خون مار رہے ہیں، قلم کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔ باطل اپنی چرب زبانی سے شکوک و شبہات کے وہ طوفان اٹھا رہا ہے جو ایمان کے چراغوں کو گل کرنے کے درپے ہیں۔
ایسے میں وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے نونہالوں اور دخترانِ ملت کو محض حرف شناس نہ بنائیں، بلکہ انہیں لہو و قلم کا شہسوار بنائیں۔ ہمیں ایسے نفوس تیار کرنے ہیں جن کا قلم باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دے اور جن کا بیان قرآنی حقائق کی ایسی گرج بن جائے جو کفر کے خیموں کو اکھاڑ پھینکے۔ اسلام کے اس قلعے کی حفاظت کے لیے اب ہمیں قرطاس کے سپاہی اور ممبر و محراب کے وہ جواری تیار کرنے ہوں گے جو علم و ادب کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر اس گلشن کی آبیاری کر سکیں۔
بالخصوص، ملتِ اسلامیہ کی ان شہزادیوں اور طالباتِ علومِ نبوت کے نام میرا یہ پیغام ہے، جن کے قدموں تلے فرشتے پر بچھاتے ہیں۔ اے دخترانِ حرم! یاد رکھیے کہ آپ صرف علم کی امین ہی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی معمار بھی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ آپ اپنی حیا اور وقار کے ساتھ ساتھ اپنے قلم کی نوک کو بھی صیقل کریں۔ آپ کی تحریر میں وہ کاٹ ہونی چاہیے جو باطل کے پروپیگنڈے کے تار و پود بکھیر دے، اور آپ کے لہجے میں وہ اثر ہونا چاہیے جو قلوب میں انقلاب برپا کر دے۔آگے بڑھیے اور اپنی قوتِ اظہار کو جلا بخشیں! قلم کو اپنا سپاہی اور زبان کو اپنا مورچہ بنائیں۔ جب آپ کے ہاتھوں میں قلم کی جنبش اور زبان میں سچائی کی تڑپ ہوگی، تو کفر کا کوئی بھی طوفان اسلام کے اس قلعے کی دیواروں کو چھو بھی نہ سکے گا۔ آئیے، عہد کریں کہ ہم علم و ادب کے اس میدان کے وہ شہسوار بنیں گے جن سے باطل کے ایوان لرز اٹھیں اور حق کا پرچم ہمیشہ سر بلند رہے۔