بنت محمد رافع✍️
لا أُفٍّ لَّهُمَا
اللہ نے تو ماں باپ کے سامنے اُف تک کہنے سے منع فرمایا ہے،
اور آج تم کیا کر رہے ہو؟
ان کے سامنے اپنی آواز بلند کر رہے ہو۔
وہ ماں،
جو پہلے ہی دن بھر کی تھکن سے چور ہوتی ہے،
ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی،
فکروں میں گھری ہوئی،
اپنی خواہشوں کو تم پر قربان کر چکی ہوتی ہے۔
اور تم؟
اپنے الفاظ کی سختی،
اپنی آواز کی بلندی،
اپنے لہجے کی تلخی سے
اُسے مزید تکلیف میں مبتلا کر دیتے ہو۔
کیا یہی محبت ہے؟
کیا یہی شکر گزاری ہے
اُس ہستی کے لیے
جس نے تمہیں بولنا سکھایا،
چلنا سکھایا،
اور خود خاموش رہ کر
تمہاری ہر ضرورت پوری کی؟
پھر تم کہتے ہو:
“ہم اپنی ماں کو کھونا نہیں چاہتے۔”
میں نے تو سنا ہے
جسے کھونے کا ڈر ہوتا ہے
اُسے ہر وقت سینے سے لگایا جاتا ہے،
اُس پر آواز نہیں اٹھائی جاتی،
اُسے رُلایا نہیں جاتا،
بلکہ اُس کے آنسوؤں کو
اپنی ہتھیلیوں میں سمیٹا جاتا ہے۔
جسے کھونے کا خوف ہو
اُس کے لہجے کا خیال رکھا جاتا ہے،
اُس کی خاموشی کو سمجھا جاتا ہے،
اُس کی تھکن بانٹی جاتی ہے۔
پھر سوچو…
کیا واقعی تمہارا دعویٰ سچا ہے؟
یا یہ صرف الفاظ ہیں
جن کا عمل سے کوئی رشتہ نہیں؟
یاد رکھو،
ماں باپ کے دل بہت نازک ہوتے ہیں،
وہ چیخ کر بددعا نہیں دیتے،
وہ تو خاموش ہو کر
اللہ کے سامنے آنسو بہا دیتے ہیں۔
اور پھر
اللہ خاموش نہیں رہتا۔