تبصرہ
شعری مجموعہ رُوپک از فوزیہ اختر ردا
لفظوں کے گلزار میں کھِلتا ایک منفرد احساس
تبصرہ نگار ✍🏻محمد عادل ارریاوی
-------------------------------------------------------
جب شعری مجموعہ رُوپک میرے ہاتھوں میں آئی تو ابتدا میں یہ ایک کتاب تھی مگر جیسے جیسے میں صفحہ بہ صفحہ آگے بڑھا یوں محسوس ہوا جیسے لفظوں کی بُنت میں کوئی جادو بُنا گیا ہو جیسے ہر شعر کسی محسوس خواب کی تعبیر ہو جیسے ہر خیال کسی دل کی صدا ہو۔
فوزیہ اختر ردا کا یہ شعری مجموعہ محض تخلیق نہیں بلکہ ایک تخیل کی مہک بھری دنیا ہے جہاں قاری صرف پڑھتا نہیں بلکہ محسوس کرتا ہے جیتا ہے اور کہیں نہ کہیں خود کو پاتا ہے ان کی شاعری میں جو لطافت تہہ داری اور فکری وسعت ہے وہ ان کے فن کی پختگی اور دل کی سچائی کی گواہی دیتی ہے۔
رُوپک میں بیان کیے گئے جذبات محض نسائی احساسات کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ وہ انسانی روح کے ان گوشوں تک رسائی رکھتے ہیں جہاں الفاظ اکثر پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں ان کے اشعار میں دھیمی روشنی کی مانند ایک حیا دار روشنی ہے جو قاری کے دل کو چُھو کر گزرتی ہے۔
استعارے تشبیہیں علامتیں سب کچھ یوں گُھلا ملا ہے کہ کہیں کوئی چیز شعریت پر حاوی نہیں ہوتی بلکہ ہر شعر ہر مصرعہ اپنی جگہ ایک مکمل تصویر ایک مکمل احساس بن کر ابھرتا ہے ان کی زبان نہایت سلیس شفاف اور پراثر ہے جو عام قاری کو بھی اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سنجیدہ ادب دوست کو بھی داد دینے پر مجبور کرتی ہے۔
فوزیہ اختر ردا کی رُوپک دراصل عورت کے دل کی زبان ہے محبت کی صداقت ہے اور زندگی کے لطیف پہلوؤں کی خوشبو ہے یہ کتاب ادب کے آسمان پر ایک خاموش مگر روشن ستارے کی مانند ہے جو دیر تک اپنی روشنی بکھیرتا رہے گا۔
فوزیہ اختر ردا کا شعری مجموعہ رُوپک دل کی گہرائیوں سے اُبھرے ہوئے احساسات کا آئینہ ہے اس میں لفظوں کی نزاکت جذبات کی شدت اور خیال کی لطافت اس خوبصورتی سے گُندھی ہوئی ہے کہ ہر شعر دل میں اُترتا محسوس ہوتا ہے۔
ان کی شاعری نسائی جذبات کی عکاسی ہی نہیں بلکہ انسانی احساسات کی سچی ترجمان ہے۔ رُوپک ایک ایسا ادبی تحفہ ہے جو قاری کے دل پر دیرپا نقش چھوڑتا ہے۔
میں فوزیہ اختر ردا کو اس روح پرور تخلیق پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ ربّ العزت ان کے قلم کو یوں ہی جذبات کی زمین پر روشنی بوتا رہے ہمیشہ سچائی اور امانت داری کے ساتھ قلم کو چلانے کی صلاحیت عطا فرمائیں آمین ثم آمین یارب العالمین ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ