آج کے زمانے میں جب ہم صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات پڑھتے ہیں—حضرت ابوہریرہؓ کی بھوک، اصحابِ صفہ کی فاقہ کشی، حضرت عمرؓ کا زہد اور حضرت ابو بکرؓ کا بے مثال ایثار—تو ہمارے جیسے کم ہمّت لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ دین شاید انہی عظیم لوگوں کے لیے تھا، ہم جیسے عام انسانوں کے لیے نہیں۔
آج کے دور میں تو ایک وقت کی پسند کا کھانا نہ ملے تو طبیعت خراب ہو جاتی ہے،
موبائل نہ ہو تو بے چینی ہونے لگتی ہے،
انٹرنیٹ بند ہو جائے تو دن ادھورا لگتا ہے،
اور ذرا سی مالی تنگی آ جائے تو صبر جواب دے جاتا ہے۔
ایسے میں جب ہم یہ پڑھتے ہیں کہ صحابہؓ کئی کئی دن بھوکے رہتے تھے، چادر کو بستر اور اوڑھنا دونوں بنا لیتے تھے، اور ٹوٹی جھونپڑی کی مرمت کو بھی آخرت کی یاد سمجھتے تھے—تو دل میں یہ وسوسہ آتا ہے کہ یہ دین تو بہت سخت ہے۔
لیکن درحقیقت یہ وسوسہ دین کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ ہر مسلمان سے یہی تقاضا کیا جائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ یہ بتایا جائے کہ حضور اقدس ﷺ نے صحابہؓ کے اندر ایمان کا کیسا اعلیٰ معیار پیدا فرمایا تھا۔
یہ معیارِ کمال تھا، لازمی شرط نہیں۔
اسلام یہ نہیں کہتا کہ جب تک کوئی شخص بھوک برداشت نہ کرے، دنیاوی سہولتیں نہ چھوڑے اور سخت ترین زندگی نہ گزارے، تب تک وہ نجات کا حق دار نہیں۔
بلکہ اسلام کا اصول بالکل واضح ہے:
اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی طاقت اور استطاعت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتا۔
آج کے دور میں دین پر چلنا اس معنی میں مشکل نہیں کہ سب کچھ چھوڑ دیا جائے، بلکہ مشکل اس لیے محسوس ہوتا ہے کہ ہم دین کو یا تو انتہائی بنا لیتے ہیں یا بالکل چھوڑ دیتے ہیں۔
آج کے زمانے کا ایک سچا اور مختصر واقعہ
ایک متوسط طبقے کا نوجوان ہے، نہ عالم، نہ حافظ، نہ صوفی۔
دفتر میں کام کرتا ہے، تنخواہ معمولی ہے، گھر کے اخراجات بھی پورے کرنے ہوتے ہیں۔
اس کے دفتر میں اکثر لوگ نماز چھوڑ دیتے ہیں، جھوٹ کو معمول سمجھتے ہیں، اور حرام کمائی کو “مجبوری” کہہ کر جائز کر لیتے ہیں۔
اس نوجوان کا حال یہ ہے کہ:
فجر چاہے نیند میں ہی کیوں نہ ہو، ادا کرتا ہے
دفتر میں نقصان ہو تب بھی جھوٹ نہیں بولتا
کم تنخواہ کے باوجود رشوت سے بچتا ہے
ماں باپ کی خدمت کو اپنا دین سمجھتا ہے
وہ نہ فاقے کرتا ہے، نہ اصحابِ صفہ جیسی زندگی گزارتا ہے—لیکن اپنی استطاعت میں دین کو تھامے ہوئے ہے۔
یہی اسلام چاہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس نوجوان سے وہ مطالبہ نہیں کر رہے جو ابو بکرؓ سے تھا،
بلکہ اس سے وہی قبول فرما رہے ہیں جو اس کے ظرف میں ہے۔
بزرگوں نے بجا فرمایا ہے:
"دیتے ہیں ظرف کو خدا، دیکھ کر"
لہٰذا صحابۂ کرامؓ کو پڑھ کر ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم تو کچھ بھی نہیں،
بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہم جتنا کر سکتے ہیں، اتنا تو کریں۔
دین مشکل نہیں،
نیت کا بوجھ ہلکا ہو تو عمل آسان ہو جاتا ہے۔
چھوٹے قدم، مسلسل چلنا، اور اللہ سے امید—
یہی آج کے زمانے کا قابلِ عمل دین ہے۔